امریکہ: وفاقی سطح پر 17 برس میں پہلی سزائے موت

بی بی سی اردو  |  Jul 14, 2020

Getty Images
ٹیکساس میں مہلک انجیکشن چیمبر (فائل فوٹو)

امریکہ میں ڈینیئل لیوس نامی شہری 17 برسوں میں وفاقی سطح پر پہلے قیدی ہیں جنھیں سزائے موت دی گئی ہے۔

ابتدائی طور پر پیر کو ایک جج کے فیصلے کے بعد سزائے موت کے متعدد کیسوں پر عمل رک گیا کیونکہ جج نے کہا تھا کہ محکمہِ انصاف کے لیے ابھی حل طلب قانونی چیلنج موجود ہیں۔

سزا پانے والے قیدیوں کا کہنا تھا کہ مہلک انجیکشن سے سزائے موت ایک ’ظالمانہ اور غیر معمولی‘ عمل ہے۔

سپریم کورٹ نے چار کے مقابلے میں پانچ ووٹ سے فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ ’پھانسیاں منصوبے کے مطابق دی جا سکتی ہیں۔‘

گذشتہ سال ٹرمپ انتظامیہ نے کہا تھا کہ وہ وفاقی سطح پر سزائے موت پر عمل درآمد کا سلسلہ دوبارہ شروع کرے گی۔

اس وقت ایک بیان میں اٹارنی جنرل ولیم بار نے کہا تھا ’محکمہ انصاف قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھتا ہے اور ہم اس چیز کے ذمہ دار ہیں کہ متاثرین اور ان کے اہل خانہ ہمارے نظام انصاف کے ذریعے عائد سزا پر عمل درآمد ہوتا ہوا دیکھیں۔‘

لی نامی مجرم کا نشانہ بننے والے متاثرین کے کچھ رشتہ داروں نے انڈیانا میں ان کی پھانسی کی مخالفت کی تھی اور اس میں تاخیر کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ اس میں شرکت کرنا انھیں کورونا وائرس کے خطرے سے دو چار کر سکتا ہے۔

81 سالہ ایرلین پیٹرسن نے، جن کی بیٹی، داماد اور نواسی لی کے ہاتھوں مارے گئے تھے، کہا ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ 47 سالہ لی کو جیل میں عمر قید کی سزا دی جائے، وہی سزا جو ان کے ساتھیوں کو دی گئی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام کو ایک سیاسی فیصلے کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور پھانسی کے خلاف مہم چلانے والوں نے اس کے متعلق تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس کے بعد اس قسم کے مقدمات کی بھیڑ لگ جائے گی۔

اس سے قبل جس وفاقی قیدی کو پھانسی ہوئی تھی وہ خلیج جنگ کے سابق فوجی 53 سالہ لوئس جونس جونیئر تھے اور انھوں نے 19 سالہ فوجی ٹریسی جوئی میک برائیڈ کا قتل کیا تھا۔

سزائے موت کے قیدی کون ہیں؟

AFP
سزائے موت پانے والوں میں تین قتل کے مجرم ڈینیئل لیوس لی بھی شامل ہیں جنھیں پیر کے روز پھانسی دی جانی تھی۔

ڈینیئل لیوس لی پر سنہ 1996 میں آرکینساس میں ایک کنبہ پر تشدد اور قتل کا الزام عائد کیا گیا تھا، انھوں نے قتل کے بعد ان کی لاشیں ایک جھیل میں پھینک دی تھیں۔

ڈینیئل لیوس لی کی پھانسی کو دسمبر میں ملتوی کر دیا گیا تھا جسے 13 جولائی کو مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے دیا جانا تھا لیکن ضلعی جج تانیا چٹکن نے اسے روک دیا تھا۔

جج نے کہا تھا کہ ’عدالت۔۔۔ کا خیال ہے کہ اگر مدعیوں کو نقصان پہنچنے کا امکان ہو تو عدالت ان کے ذمہ داروں کو کسی بھی ممکنہ نقصان سے زیادہ تکلیف نہیں دے سکتی۔‘

لیکن ان کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ’اس معاملے میں مدعیوں نے وفاقی عدالت کے ذریعہ آخری لمحے میں مداخلت کا جواز پیش کرنے کی ضرورت کو پیش نہیں کیا ہے۔‘

مستقبل قریب میں مزید تین افراد کو وفاقی طور پر سزائے موت دی جانی ہے۔ اور یہ تینوں قیدی ڈینیئل لیوسلی کی طرح بچوں کے قاتل ہیں:

وفاقی اور ریاستی پھانسی میں کیا فرق ہے؟

امریکی نظام عدل کے تحت جرائم کی سماعت قومی سطح پر وفاقی عدالتوں میں ہو سکتی ہے یا پھر علاقائی سطح پر ریاستی عدالتوں میں کی جا سکتی ہے۔

جعلی کرنسی یا میل چوری جیسے کچھ جرائم کی سماعت خود بخود وفاقی سطح پر ہوتی ہے، جن میں ایسے معاملات بھی شامل ہیں جن میں امریکہ خود ایک پارٹی ہو یا ان میں آئین کی خلاف ورزیاں ہوں۔ اس کے علاوہ دوسرے مقدمات کی بھی وفاقی عدالتوں میں سماعت ہو سکتی ہے لیکن اس بات کا فیصلہ جرم کی سنگینی کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔

سنہ 1972 میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے ذریعہ سزائے موت کو ریاستی اور وفاقی سطح پر کالعدم قرار دیا گیا تھا اور اس کے تحت سزائے موت کے تمام موجودہ قوانین کو منسوخ قرار دیا گیا تھا۔

سنہ 1976 میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے تحت ریاستوں کو سزائے موت کی بحالی کی اجازت دی گئی اور سنہ 1988 میں حکومت نے ایسی قانون سازی کی جس کے تحت اسے وفاقی سطح پر دوبارہ بحال کیا گیا۔

سزائے موت کے انفارمیشن سینٹر کے جمع کردہ اعدادوشمار کے مطابق سنہ 1988 سے 2018 کے درمیان وفاقی معاملات میں 78 افراد کو موت کی سزا سنائی گئی تھی لیکن صرف تین افراد کو پھانسی دی گئی۔ فی الحال ملک میں موت کی سزا کاٹنے والے 62 ایسے قیدی ہیں جنھیں وفاق کے تحت سزائے موت سنائی گئی ہے۔

امریکہ میں سزائے موت

Reuters

سزائے موت پانے والے چاروں افراد سفید فام ہیں لیکن امریکہ میں سزائے موت کے خلاف مہم چلانے والوں میں نسلی امتیاز تشویش کا باعث ہے۔

سزائے موت کے انفارمیشن سینٹر کی اطلاعات کے مطابق ملک میں سیاہ فام افراد کی آبادی صرف ساڑھے 13 فیصد ہے لیکن پھانسی پانے والوں میں ان کی شرح 34 فیصد ہے جبکہ ابھی جن کو پھانسی ہونی ہے ان میں ان کی تعداد 42 فیصد ہے۔

غیر منافع بخش تنظیم کے مطابق:

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More