اگر امریکہ وی چیٹ پر بھی پابندی لگائے تو کیا نتیجہ نکلے گا؟

روزنامہ اوصاف  |  Aug 11, 2020

آج کل کے ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں کسی کمپنی پر محض اس لیے پابندی عائد کر دینا کہ اس کا مقابلہ نہ کر سکنے کی سکت ہو اور اس کے لیے سیاسی عناد کو بنیاد بنا کر سنگین الزامات لگانا جیسا کے ٹک ٹاک پر الزام لگایا گیا کہ اس کی جانب سے امریکی صارفین کا ڈیٹا لیک ہونے کا خدشہ ہے۔آج کے دور میں یہ بہت عجیب بات لگتی ہے۔حال میں میں امریکی صدر کی جانب سے دو چینی ایپس پر امریکہ میں پابندی کا یا امریکی کمپنی کو بیچنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ آخر امریکہ اس طرح کی باتیں کیوں کر رہا ہے۔چینی ایپ وی چیٹ جو کہ سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی موبائل ایپلی کیشن سمجھی جاتی ہے جس میں رقوم کی ادائیگیوں اور سوشل روابط کے ساتھ ساتھ متعدد فیچرز شامل ہیں۔ اس پر بھی امریکہ میں پابندی کی باز گشت چل رہی ہے۔دوسری جانب امریکی صدر نے ٹک ٹاک کے معاملے پر ایگزیکٹو آرڈر جاری کر دیا ہے جس کے تحت 30 ستمبر تک یہ ایپ یا تو چینی کمپنی کسی امریکی کمپنی کو فروخت کرے گی ورنہ اس کے آپریشن کو امریکہ میں بند کر دیا جائے گا۔ماہرین کے مطابق خیال کیا جا رہا ہے کہ اگر اس طرح کی پابندی لگائی گئی تو اس سے سب سے زیادہ ایپل کمپنی متاثر ہوگی۔ کیونکہ آئی فون پر وی چیٹ کے 1.2بلین صارفین ماہانہ کی بنیاد پر موجود ہیں.ایک اندازے کے مطابق ایپ سٹور سے اگر یہ ایپ ہٹائی جاتی ہے تو اس کے ایپل کمپنی پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ جو کہ اس کمپنی کے فون کی فروخت پر30 فیصد تک کمی کی صورت میں بھی ہو سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر آئی فون کی برآمد پر 25 سے 30 فیصد تک کمی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More