متحدہ عرب امارت نے اسرائيل کو تسليم کرليا

سماء نیوز  |  Aug 13, 2020

متحدہ عرب امارات، اسرائیل اور امریکا میں تاریخی معاہدہ طے پاگیا، سفارتخانے کھولنے، براہ راست پروازیں چلانے پر اتفاق ہوگیا۔ مستقبل میں سيکيورٹی، توانائی، ٹيکنالوجی اور ديگر شعبوں ميں تعاون کے معاہدے ہوں گے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات مکمل طور پر معمول پر آجائیں گے، اس معاہدے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔

معاہدے کے تحت اسرائیل غرب اردن کے کچھ علاقوں کا الحاق معطل کررہا ہے، دونوں ممالک ایک دوسرے کے ملک میں اپنے سفارتخانے کھولیں گے جبکہ یو اے ای، اسرائیل کیلئے براہ پروازیں چلائے گا۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کی طرف سے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس تاریخی سفارتی بریک تھرو سے مشرقِ وسطیٰ میں امن کو فروغ  ملے گا، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ابو ظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامن نیتن یاہو کے درمیان مذاکرات کے  نتیجے میں سامنے آیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی معاہدہ طے پاجانے کے بعد ٹویٹ کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ایک بہت بڑا بریک تھرو! ہمارے دو قریبی دوست ممالک متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تاریخی معاہدہ ہوگیا ہے۔

شیخ محمد بن زاید آل نہیان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ معاہدے کے بعد فلسطینی علاقوں کا اسرائیل سے الحاق رک جائے گا۔

شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ اور وزیرِاعظم نتین یاہو سے فون پر بات چیت کے دوران معاہدہ طے پاگیا، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ دونوں ملک باہمی تعلقات کے قیام کیلئے تعاون کی نئی راہیں تلاش کریں گے اور ایک نقشۂ راہ متعین کریں گے۔

اردو نیوز نے متحدہ عرب امارات کے خبر رساں ادارے وام کے حوالے سے لکھا ہے کہ تینوں ممالک نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ کی بڑی اقتصادی طاقتوں میں سے دو کے درمیان براہ راست تعلقات کی شروعات کی بدولت خطۂ ترقی کرے گا، شرح نمو بڑھے گی، جدید ٹیکنالوجی کو فروغ حاصل ہوگا اور اقوام عالم کے رشتے مضبوط ہوں گے۔

مشترکہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل، فلسطینی علاقوں کو اپنی خودمختاری میں شامل نہیں کرے گا اور اب وہ اسرائیل عرب اور مسلم دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنے پر توجہ مرکوز کرے گا، امریکہ، امارات اور اسرائیل دیگر ملکوں کو بھی اس سفارتی عمل میں شامل کریں گے اور اس نصب العین کے حصول کیلئے مہم چلائیں گے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فریقین فلسطین اسرائیل کشمکش کے پائیدارِ، جامع اور منصفانہ حل تک رسائی کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے، امن پروگرام کے مطابق تمام مسلمان مسجد اقصیٰ کی زیارت اور اس میں نماز کے مجاز ہونگے جبکہ بیت المقدس کے دیگر مقامات تمام مذاہب کے عبادت گزاروں کیلئے کھلے ہوں گے۔

شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ٹیلیفونک رابطے میں کہا کہ یہ بات طے ہوچکی ہے کہ اسرائیل فلسطینی علاقوں کو اپنی خودمختاری میں شامل کرنے کی کارروائی بند کرے گا، جبکہ امارات اور اسرائیل دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے مشترکہ تعاون کا روڈ میپ تیار کریں گے۔

اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائيل اور متحدہ عرب امارات کے وفود اگلے ہفتے مليں گے، اسرائيل اور متحدہ عرب امارات کے درميان براہ راست پروازيں چلائی جائيں گی، سيکيورٹی، توانائی، ٹيکنالوجی اور ديگر شعبوں ميں تعاون کے معاہدے ہوں گے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More