سوئٹزر لینڈ: ریفرینڈم میں چہرہ ڈھانپنے پر پابندی کی تجویز منظور

اردو نیوز  |  Mar 08, 2021

سوئس رائے دہندگان نے اتوار کو ہونے والے بائیڈنگ ریفرینڈم میں چہرے کو ڈھانپنے پر پابندی لگانے کی انتہائی دائیں بازو کی پیش کردہ تجویز کو معمولی اکثریت سے منظور کر لیا ہے۔

ریفرنڈم کے نتیجے کو نقاب پر پابندی کی حامی سخت گیر اسلام کے خلاف اہم کامیابی قرار دے رہے ہیں جب کہ مخالفین اسے نسلی پرستانہ اور جنسی تعصب پر مبنی قرار دے رہے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 51.21 فیصد رائے دہندگان نے چہرہ ڈھانپنے پر پابندی کی حمایت کی۔

 

براہ راست جمہوریت کے سوئس نظام کے تحت اس تجویز میں اسلام کا براہ راست ذکر نہیں کیا گیا ہے اور اس کا مقصد سڑکوں پر پرتشدد مظاہرین کو ماسک پہننے سے روکنا ہے، اس کے باوجود مقامی سیاستدانوں، میڈیا اور مہم چلانے والوں نے اسے برقعے پر پابندی قرار دیا ہے۔

ریفرنڈم کمیٹی کے چیئرمین اور سوئس پیپلز پارٹی کے رکن پارلیمان والٹر ووبمن نے ووٹ سے قبل کہا تھا ’سوئٹزرلینڈ میں، ہماری روایت ہے کہ آپ اپنا چہرہ دکھائیں، یہ ہماری بنیادی آزادیوں کی علامت ہے۔‘

انہوں نے چہرہ ڈھانپنے کو ’اس انتہائی، سیاسی اسلام کی علامت قرار دیا جو یورپ میں تیزی سے نمایاں ہوچکا ہے اور جس کا سوئٹزرلینڈ میں کوئی مقام نہیں ہے۔‘

اس تجویز میں کوویڈ 19 کی وبا کی پیشگوئی کی گئی ہے جس میں انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام بالغان کو ماسک پہننے کی ضرورت ہے اور ریفرینڈم کو متحرک کرنے کے لیے 2017 میں ضروری سپورٹ اکھٹی کی گئی۔

سوئٹزرلینڈ میں شہریوں کی جانب سے 2009 میں کسی بھی مینار کی تعمیر پر پابندی عائد کرنے کے لیے ووٹ دینے کے بعد اس تجویز سے سوئٹزرلینڈ کے اسلام کے ساتھ تناؤ پر مبنی تعلقات کو مزید تقویت ملی ہے۔

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More