کرونا کے اومی کرون ویرینٹ کے فلم پوسٹرکی حقیقت کھل گئی

سماء نیوز  |  Dec 03, 2021

کرونا وائرس کا نیا ویرینٹ ’اومی کرون‘ آتے ہی  دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کئی ممالک نے پابندیاں بھی عائد کرنا شروع کردی ہیں۔

وائرس کی نئی لہر کے خدشات ظاہر ہونے کے بعد سے اومی کرون ویرینٹسے متعلق نت نئی کہانیاں سامنے آر ہی ہیں۔سوشل میڈیا پر ’دی اومیکرون ویرینٹ‘ نامی فلم کا پوسٹر وائرل ہورہا ہے جس کی ٹیگ لائن میں لکھا ہوا ہے کہ’دا ڈے دا ارتھ واز ٹرنڈ انٹوآ سیمیٹری‘ اس کا مطلب ہے کہ ’وہ دن جب زمین، قبرستان میں تبدیل ہوگئی تھی‘۔

ساتھ ہی یہ کہا جارہا ہےکہ یہ فلم 1963 میں ریلیز ہوئی تھی اور اس کی کہانی کرونا وائرس کے نئے ویرینٹ کےگرد گھومتی ہے۔

بھارتی ڈائریکٹر رام گوپالورما نے بھی اس وائرل پوسٹر کو شیئر کیا اور کیپشن میں لکھا کہ ’یقین کریں یا بےہوش ہوجائیں، یہ فلم 1963 میں آئی تھی، ٹیگ لائن چیک کریں‘۔

رامگوپال کی اس ٹویٹ کے بعد اکثر سوشل میڈیا صارفین نے اپنے تبصروں کا اظہار شروع کردیاکہ ایسا ہے بھی یا نہیں اور اس کے بعد سوشل میڈیا پر اومی کرون ویرینٹ کا ہیش ٹیگبھی ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

اس مبینہ فلم کے پوسٹرز نےایک بار پھر ان سازشی نظریات کو جنم دے دیا ہے جس کے حوالے سے انٹرنیٹ صارفین کہہرہے ہیں کہ عالمی وبا کی منصوبہ بندی ایک طویل عرصے سے کی گئی تھی۔

تاہمسوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا یہ پوسٹر اصل نہیں ہے بلکہ 1974میں ریلیز ہونے والیفلم ’فیز 4‘ کا ایڈیٹڈ ورژن ہے۔

آئرلینڈکی ڈائریکٹر اور رائٹر بیکی چیٹل نے محض مزاحیہ انداز میں بنایا تھا، انہوں نےگزشتہ ماہ 28نومبر کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے 3 پوسٹرز شیئر کیے  تھے اور کہا تھا کہ’میں نے دی اومی کرون ویرینٹ کو 70 کی دہائی میںبننے والی فلموں کے پوسٹرز میں فوٹوشاپ کردیا ہے‘۔

مگریہ پوسٹر وائرل ہونے اور وسیع پیمانے پر گمراہ کن معلومات پھیلنے کے بعد  بیکی چیٹل نے یکم دسمبر کو ایک اور ٹویٹ کیاور وضاحت دی کہ ’ یہ بات میرے علم میں لائی گئی ہے کہ میرا ایک پوسٹر کرونا وائرسسے متعلق کسی من گھڑت کہانی ثبوت کے طور پر ہسپانوی ٹوئٹر پر گردش کردیا ہے‘۔

انہوں نے واضح کیا کہ ’اومی کرون ویرینٹ‘کا نام انہیں 1970 کی دہائی کی کسی سائنش فکشن فلم کے نام جیسا لگا اور اسی لیےانہوں نے تفریح کی غرض سے یہپوسٹررز بنادیے تھے۔بیکی چیٹل نے لوگوں سے درخواست کی کہ وہ ان کے ’مذاق‘ کوسنجیدہ نہ لیں۔

اگرچہ یہ پوسٹر اصل فلم  کا نہیں لیکن انبٹرنیٹ مووی ڈیٹابیس (آئی ایم ڈی بی) کے مطابق ’اومی کرون‘ نامی پہلی فلم 1963 میں ریلیز ہوئی تھی جس کی کہانی یہ تھی دنیا سے دور کسی اور سیارے کا ایلین (خلائی مخلوق) انسانی شکل میں  زمین پر رہنے والے لوگوں کو جاننے کے لیے آتا ہے مگر اس میں وائرس کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

بعدازاں اومی کرون کا لفظ 2013 میں ایک اور فلم میں استعمال ہوا تھا جس کا نام  ’دا وزیٹر فرام پلیںٹ اومی کرون‘ تھا، آئی ایم ڈی بی کے مطابق اس فلم میں وائرس کا ذکر تو تھا لیکن وہ ’بوٹینیکل‘ (یعنی پودوں سے متعلق) وائرس تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More