دبئی میں پرانے مندر کی تعمیر کے 50 برس بعد بننے والا شہر کا سب سے بڑا مندر تصاویر میں

بی بی سی اردو  |  Oct 06, 2022

Getty Images

متحدہ عرب امارات کی جانب سے دبئی کا سب سے بڑے ہندو مندر کا افتتاح کیا گیا ہے۔

افتتاحی تقریب میں وزیرِ رواداری و ہم آہنگی شیخ نہیان بن مبارک النہیان اور انڈیا کے متحدہ عرب امارات کے لیے سفیر سنجے سدھیر نے بھی شرکت کی۔

Getty Images

چار اکتوبر کو دبئی کے جبل علی ولیج میں حکام اور بین المذاہب رہنماؤں کی جانب سے اس مندر کا افتتاح کیا گیا۔

اس حوالے سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق اس مندر میں جس ہال میں عبادت کی جائے گی اس کا رقبہ تقریباً پانچ ہزار مربہ فٹ ہے جب کہ اس میں 1500 افراد ایک وقت میں عبادت کر سکیں گے۔

Getty Images

اس سے قبل دبئی میں دو چھوٹے مندر ہوا کرتے تھے جو پرانی عمارتوں کے کمروں میں بنائے گئے تھے۔

Getty Images

خبر رساں ادارے رؤٹرز کے مطابق یہ مندر دبئی میں پرانے مندر کی تعمیر کے 50 برس بعد بنایا گیا ہے اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ یہ نہ صرف عبادت کی جگہ ہو گی بلکہ ایک 'علم کا مرکز' اور 'معاشرے میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے' بھی اہم ثابت ہو گا۔

اس مندر کا افتتاح ہندوؤں کے تہوار دسہرہ کے آغاز سے چند گھنٹے پہلے کیا گیا۔

Getty Images

اس افتتاحی تقریب کے منتظم راجو شروف نے اس موقع پر کہا کہ 'آج دبئی میں مندر کا باضابطہ افتتاح کیا جا رہا ہے۔ یہ مندر ’بر دبئی‘ میں پرانے مندر کی تعیمر کے 50 برس بعد تعمیر کیا گیا ہے۔ '

یہ بھی پڑھیے

کراچی کے علاقے گرو مندر کا مندر ہے کہاں؟

رام مندر کی دو کروڑ میں خریدی گئی زمین منٹوں میں 18 کروڑ کی کیسے ہو گئی؟

ژوب کا مندر ہندو برادری کے حوالے

لکھنؤ کے مندر میں افطار کا اہتمام

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس مندر میں 16 مختلف مورتیاں رکھی گئی ہیں تاکہ تمام ہندوؤں کو یہاں عبادت کرنے کا موقع مل سکے۔

اس مندر میں تمام مذاہب کے افراد کو آنے کی اجازت دی گئی ہے اور اس سے قبل اس کا غیر رسمی افتتاح یکم ستمبر کو کیا گیا تھا جب ہزاروں سیاحوں کو یہاں آ کر اس مندر کا فنِ تعمیر دیکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More