Getty Images
پاکستان میں آج کل مالٹے اور کینو کا سیزن اپنے عروج پر ہے اور موسم سرما میں بہت سے افراد مالٹے کا تازہ جوس پینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مالٹے کا جوس پینے کی عادت آپ کی صحت پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔
بہت سے لوگ ناشتے کے وقت تازہ مالٹے کا جوس پینا پسند کرتے ہیں، لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے یہ مشروب تنقید کا نشانہ بھی بنتا آیا ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگرچہ مالٹے وٹامنز سے بھرپور ہوتے ہیں، مگر جوس کی شکل میں ان کا استعمال خون میں شوگر کی اچانک زیادتی کا باعث بنتا ہے اور وقت کے ساتھ روزانہ ہونے والی شوگر کی یہ زیادتی انسولین ریزسٹنس (انسولین کے خلاف مزاحمت) پیدا کر سکتی ہے، جس سے ذیابیطس، دل کی بیماری اور موٹاپے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
تاہم نئی تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ مالٹے کے جوس میں زیادہ شوگر کے باوجود روزانہ اس کا ایک گلاس استعمال کرنا کئی طبی فوائد بھی فراہم کر سکتا ہے۔
مالٹے کے جوس کے بارے میں غلط فہمیاںGetty Images
طویل المدتی مطالعات، جن میں ہزاروں افراد کو برسوں تک ٹریک کیا گیا، یہ ظاہر کرتے ہیں کہ زیادہ تر سِٹرَس پھل (تُرش پھل جیسا کہ مالٹا، کینو) کھانے والے افراد میں دل کی بیماریوں اور فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ لیکن ان مطالعات میں زیادہ تر افراد سے پھل کھانے کے بارے میں پوچھا گیا ناکہ ترش پھلوں کا جوس پینے کے بارے میں۔ ماہرین کے مطابق پورا پھل دانتوں کی مدد سے کھانے اور اس کا جوس پینے کے اثرات جسم پر بالکل مختلف ہو سکتے ہیں۔
امپیریل کالج لندن کے غذائی سائنسدان فیڈریکو اماتی کہتے ہیں کہ ’اگر آپ دو یا تین مالٹے کھائیں، جو ایک چھوٹے گلاس جوس کے برابر ہیں، تو انھیں کھانے اور چبانے میں وقت لگے گا۔‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’زیادہ تر لوگ شاید دو یا تین مالٹے کھانا پسند نہ کریں، لیکن ایک چھوٹا جوس کا گلاس وہ چند سیکنڈ میں ختم کر دیتے ہیں۔‘
کوئی بھی پھل اپنی مکمل شکل میں فائبر سے بھرپور ہوتا ہے، جو آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا کو خوراک فراہم کرتا ہے اور دل کی بیماریوں اور بڑی آنت کے کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے۔ فائبر خون میں شوگر کے بہاؤ کو بھی سست کرتا ہے۔ مگر اِس کے برعکس، جوس بنانے کے عمل میں کسی بھی پھل کو کچلنے اور پیسنے سے زیادہ تر فائبر ختم ہو جاتا ہے۔
چنانچہ پورا مالٹا کھانے اور چبانے سے خون میں شوگر کی سطح بتدریج بڑھتی ہے جبکہ مالٹے کا جوس پینے سے یہ اضافہ تیزی سے ہوتا ہے۔ اماتی کے مطابق ’جوس میں شوگر اپنے فائبر کیپسولز سے علیحدہ ہو جاتی ہے اور منہ اور معدے میں بہت تیزی سے جذب ہوتی ہے جس سے خون میں شوگر کا فوری اضافہ ہوتا ہے۔‘
زیادہ تر افراد کے لیے خون میں شوگر کی سطح میں ہونے والا یہ اضافہ مسئلہ نہیں بنتا کیونکہ انسولین فوری طور پر خون سے شوگر کو خارج کر دیتی ہے۔ تاہم ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک گلاس مالٹے کا جوس نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
اماتی مزید کہتے ہیں کہ ’چیلنج یہ ہے کہ پھلوں کے جوس تکنیکی طور پر فری شوگر ہیں، خاص طور پر تازہ جوس میں وٹامن سی جیسے بائیو ایکٹیو غذائی اجزا بھی موجود ہوتے ہیں۔ اس لیے صرف شوگر کے خوف میں مبتلا ہونے کے بجائے اسے مجموعی غذا کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔‘
مالٹے کے جوس کے ممکنہ فوائد: دل اور دماغ کی صحت پر مثبت اثراتGetty Images
اگرچہ مالٹے کے جوس میں شوگر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود باقاعدگی سے اس کے استعمال کے کچھ فوائد بھی ہوتے ہیں۔ ایک میٹا اینالیسس (تجزیہ) یہ ظاہر کرتا ہے کہ روزانہ 500 ملی لیٹر مالٹے کا جوس پینے سے خون میں گلوکوز لیول کم ہوا، انسولین کے افعال بہتر ہوئے اور ’خراب کولیسٹرول (LDL) کی سطح گھٹ گئی، اور یہ سب دل کی صحت کے مثبت اشارے ہیں۔‘
ایک اور میٹا اینالیسس میں یہ پایا گیا کہ چند ہفتوں تک روزانہ ایک گلاس مالٹے کا جوس پینے سے زائد وزن اور موٹاپے کے شکار بالغ افراد میں بلڈ پریشر کم ہوا اور ’اچھے کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ ہوا۔‘
اور یہ معاملہ صرف دل کی صحت تک محدود نہیں ہے۔ مالٹے کا جوس دماغ کے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ ایک تحقیق میں 24 صحت مند مردوں (جن کی عمریں 30 سے 45 سال کے درمیان تھیں) کو یا تو 240 ملی لیٹر خالص مالٹے کا جوس یا اتنی ہی کیلوریز والا کوئی اور میٹھا مشروب دیا گیا۔ شرکا کے موڈ اور دماغی صلاحیتوں کو مشروب پینے سے پہلے اور پھر چھ گھنٹے بعد جانچا گیا۔ نتائج کے مطابق مالٹے کا جوس پینے والوں کی ذہنی کارکردگی اور دماغ کے چوکس ہونے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔‘
وہ پانچ صحت افزا پھل جن میں حیران کن حد تک پروٹین ہوتی ہےوہ سبزیاں اور پھل جن کے چھلکے پھینک کر آپ غلطی کر رہے ہیںپھلوں اور سبزیوں کو زیادہ دیر تک کیسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے؟پھل اور سبزیاں چھلکوں سمیت کیوں کھانی چاہییں؟
برطانیہ میں یونیورسٹی آف ریڈنگ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈینیئل لیمپورٹ، جو اِس تحقیق کی قیادت کر رہے تھے، کہتے ہیں کہ ’ایک گلاس مالٹے کا جوس کسی دوسرے میٹھے مشروب کے مقابلے میں بہتر انتخاب ہو سکتا ہے، جو قلیل مدت میں دماغی طاقت اور توجہ کو بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر اگر آپ کے شیڈول میں کوئی اہم ملاقات یا کام ہو۔‘
مالٹے کے جوس کے دماغی صحت اور بڑھاپے پر طویل مدتی اثرات کے بھی شواہد ملے ہیں۔ ایک دوسری تحقیق میں لیمپورٹ اور ان کی ٹیم نے 60 سے 81 سال کے 37 صحت مند افراد کو آٹھ ہفتوں تک روزانہ دو گلاس خالص مالٹے کا جوس یا اتنی ہی کیلوریز والے مالٹے کے ذائقے کے مشروب دیے۔ نتائج کے مطابق مالٹے کا جوس پینے والے بزرگ افراد کی دماغی صلاحیت میں نمایاں طور پر بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کے مطابق مالٹے کے جوس کے فوائد کی سائنسی وضاحت موجود ہے۔ مالٹے وٹامن سی سے بھرپور ہوتے ہیں، جو قوتِ مدافعت کو بڑھاتا ہے، آئرن کے جذب میں مدد دیتا ہے اور جلد کے لیے کولیجن بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ مالٹے میں فولک ایسڈ، کیلشیم، پوٹاشیم اور تھایامی جیسے دیگر وٹامنز اور منرلز بھی شامل ہیں۔
اینٹی آکسیڈنٹ فوائدGetty Images
ماہرین کے مطابق مالٹے کے دل اور دماغ کی صحت پر حفاظتی اثرات کے پیچھے جو مالیکیولز ہیں، انھیں فلیوونائڈز کہا جاتا ہے۔ یہ پودوں میں پائے جانے والے مرکبات ہیں جو پھلوں اور سبزیوں کو اُن کے چمکدار رنگ دیتے ہیں اور انھیں انفیکشن سے بچاتے ہیں۔ فلیوونائڈز میں اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات موجود ہیں، یعنی یہ ’فری ریڈیکلز‘ کو غیر مؤثر بنا سکتے ہیں، فری ریڈیکلز وہ خطرناک کیمیکلز ہیں جو خلیوں کو نقصان پہنچا کر انسانی جسم میں بڑھاپے کے عمل کو تیز کرتے ہیں۔ فلیوونائڈز اپنی اینٹی انفلامیٹری (سوزش کم کرنے والی) خصوصیات کے لیے بھی مشہور ہیں۔
غذائی سائنسدان اماتی کہتے ہیں ’سوزش قوتِ مدافعت کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن جب یہ ضرورت سے زیادہ ہو جائے یا مسلسل برقرار رہے اور کم نہ ہو، تو یہ جسم کے ٹشوز کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اگر جسم میں ایسے مرکبات موجود ہوں جو سوزش کو کم کر سکیں، تو یہ ایسے ہی ہے جیسے آگ بجھانے کے لیے ہائیڈرنٹ دستیاب ہو۔‘
ایک خاص مرکب جس پر کافی تحقیق ہوئی ہے وہ ہیسپرڈین ہے، جو سِٹرَس پھلوں میں پایا جاتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ مالٹے کے جوس کا بلڈ پریشر پر اثر ڈالنے کی صلاحیت اِسی مرکب سے جڑی ہے۔ مثال کے طور پر سنہ 2025 کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ مالٹے کا جوس اور ہیسپرڈین جسم میں ایسے جینز کو فعال کر سکتے ہیں جو سوزش کو کم کرتے ہیں اور خون کی نالیوں کو ریلیکس یعنی آرام دینے میں مدد دیتے ہیں۔
اس تحقیق میں 85 بالغ افراد کو دو ماہ تک روزانہ 500 ملی لیٹر خالص پیسچرائزڈ مالٹے کا جوس دیا گیا۔ 60 دن بعد خون کے ٹیسٹ سے ظاہر ہوا کہ وہ جینز جو سوزش اور فشارِ خون کو بڑھاتے ہیں، کم فعال ہو گئے تھے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ فلیوونائڈز، خاص طور پر ہیسپرڈین، خون کی نالیوں کو آرام دینے میں مدد کرتے ہیں کیونکہ یہ اندرونی تہہ (اینڈوتھیلیم) میں نائٹرک ایسڈ کی سطح بڑھاتے ہیں۔ اماتی کے مطابق ’اینڈوتھیلیم کا کام یہ ہے کہ اگر آپ کو بلڈ پریشر بڑھانے کی ضرورت ہو، مثلاً بھاگنے کے لیے، تو یہ خون کی نالیوں کو سخت کر دیتا ہے۔ لیکن اسے آرام کرنے کی صلاحیت بھی ہونی چاہیے ورنہ مسلسل سخت نالیاں دل اور پھیپھڑوں پر دباؤ ڈالیں گی۔ اس لیے اینڈوتھیلیم کو ضرورت کے مطابق سکڑنے اور ڈھیلا ہونے کے قابل ہونا چاہیے۔‘
جسم میں بہتر خون کی گردش مالٹے کے جوس کے دماغی فوائد کی بھی وضاحت کر سکتی ہے۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ الزائمر اور دیگر اقسام کی ڈیمنشیا دماغ میں خون کے بہاؤ کی تبدیلی سے جزوی طور پر پیدا ہو سکتی ہیں۔
لیمپورٹ کے مطابق، مضبوط شواہد موجود ہیں کہ فلیوونائڈز عمومی طور پر دماغی صلاحیت اور موڈ کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ دیگر غذائیں جو فلیوونائڈز سے بھرپور ہیں ان میں بلیو بیریز، چائے، انگور، شراب اور ڈارک چاکلیٹ شامل ہیں۔
Getty Imagesکون سا مالٹے کا جوس بہتر ہے؟
بی بی سی سے بات کرنے والے دونوں غذائی ماہرین نے زور دیا کہ پورا پھل دانتوں کی مدد سے کھانا سب سے بہتر اور صحت مند انتخاب ہے۔ مالٹے نہ صرف زیادہ فائبر فراہم کرتے ہیں بلکہ وہ زیادہ فلیوونائڈز بھی رکھتے ہیں، جو صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند ہیں۔ فلیوونائڈز دراصل پولی فینولز کی بڑی کلاس کا حصہ ہیں، جو پودوں میں پائے جانے والے مرکبات ہیں۔
اماتی کہتے ہیں کہ ’جب آپ تازہ مالٹا کھاتے ہیں تو وٹامن سی اور دیگر آکسیجن سے متاثر ہونے والے غذائی اجزا (جیسے فلیوونائڈز) زیادہ آکسیڈائز نہیں ہوتے کیونکہ وہ فائبر کے اندر محفوظ رہتے ہیں۔ لیکن جب آپ مالٹے کا جوس بناتے ہیں تو آپ خوراک کی ساخت کو توڑ دیتے ہیں اور یہ اجزا ہوا کے سامنے آ جاتے ہیں، جس سے وہ آکسیڈائز ہو کر اپنی افادیت کھو دیتے ہیں۔‘
چونکہ فائبر ہضم کرنا مشکل ہوتا ہے، یہ پولی فینولز اور فلیوونائڈز کو بڑی آنت تک لے جانے میں مدد دیتا ہے، جہاں فائدہ مند بیکٹیریا انھیں استعمال کرتے ہیں اور ان کے اثرات کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔
اگرچہ پورا پھل زیادہ فائدہ مند ہے، لیکن اگر جوس آپ کی پسند ہے تو گھر یا ریستوران میں تازہ نچوڑا ہوا مالٹے کا جوس زیادہ صحت بخش ہو گا، کیونکہ اس میں فائبر کی کچھ مقدار باقی رہتی ہے۔ اس کے برعکس، صنعتی طور پر تیار کردہ مالٹے کا جوس پیسچرائز اور گرم کیا جاتا ہے، جس سے وٹامن سی جیسے آکسیجن سے متاثر ہونے والے غذائی اجزا ختم ہو سکتے ہیں۔
تاہم جو لوگ ناشتے میں ٹھنڈا مالٹے کا جوس پسند کرتے ہیں، انھیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
اماتی کہتے ہیں کہ ’روزمرہ زندگی میں، میں یہ کہوں گا کہ اگر آپ ہفتے میں تین یا چار بار ایک چھوٹا گلاس مالٹے کا جوس پیتے ہیں، بشرطیکہ یہ 100 فیصد خالص مالٹے کا جوس ہو اور اس میں کوئی اضافی شوگر یا میٹھا نہ ڈالا گیا ہو، تو یہ بالکل ٹھیک ہے۔‘
پھل اور سبزیاں چھلکوں سمیت کیوں کھانی چاہییں؟پھلوں اور سبزیوں کو زیادہ دیر تک کیسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے؟وہ سبزیاں اور پھل جن کے چھلکے پھینک کر آپ غلطی کر رہے ہیںوہ پانچ صحت افزا پھل جن میں حیران کن حد تک پروٹین ہوتی ہےپاکستان میں کینو کے کاشتکاروں کو ’بدترین نقصان‘: ’کینو نہیں بکے گا تو ہم حکومت کو ٹیکس ادا نہیں کرسکتے بھلے وہ ہمیں جیلوں میں ڈال دیں‘