Getty Imagesامریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کولمبیا اور میکسیکو کو بھی وینزویلا کی طرز کی کارروائیوں کی دھمکی دی ہے
وینزویلا میں فوجی کارروائی کر کے صدر ٹرمپ نے طاقت کو اپنی مرضی سے استعمال کرنے کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ صدر مادورو اس وقت امریکی جیل میں ہیں اور ٹرمپ یہ اعلان کر چکے ہیں کہ اب امریکہ وینزویلا کو ’چلائے‘ گا۔
صدر ٹرمپ نے یہ اعلان ایک غیر معمولی نیوز کانفرنس میں کیا، ماہرین کے مطابق اس نیوز کانفرنس کے امریکی خارجہ پالیسی پر دُور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ اُس وقت تک وینزویلا کے معاملات دیکھے گا جب تک ’ہم وہاں اقتدار کی محفوظ، مناسب اور منصفانہ منتقلی نہیں کر لیتے۔‘
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز سے بات کی ہے، جنھوں نے یقین دلایا ہے کہ ’ہم وہی کریں گے، جو آپ چاہتے ہیں۔‘
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال میں وہ (ڈیلسی روڈریگیز) کافی مہربان ہیں، لیکن اُن کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔‘
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اپنے اہداف کے حصول کے لیے وہ زمین پر فوجی اُتارنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔
لیکن کیا اُنھیں یقین ہے کہ وہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے وینزویلا پر حکومت کر سکتے ہیں؟ کیا اس نوعیت کی فوجی کارروائیوں، جن کی مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی تعریف کی، کے ذریعے امریکہ وینزویلا میں اپنے اہداف حاصل کر پائے گا اور کیا لاطینی امریکہ کے دیگر ممالک بھی اس کی وجہ سے امریکی احکامات کی تعمیل کریں گے؟
امریکی حکام کو تو لگتا ہے کہ ایسا ہی ہو گا۔ لیکن حالات و واقعات یہ بتاتے ہیں کہ یہ اتنا آسان نہیں ہو گا۔
انٹرنیشنل تھنک ٹینک کرائسز گروپ نے اکتوبر میں خبردار کیا تھا کہ صدر مادورو کا زوال وینزویلا میں تشدد اور عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔
اسی ماہ ’نیویارک ٹائمز‘ نے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ کے پہلے دور میں دفاعی اور سفارتی عہدے داروں نے یہی نتیجہ اخذ کیا تھا کہ وینزویلا میں کسی بھی افراتفری کی صورت میں مسلح دھڑوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی شروع ہو سکتی ہے۔
نکولس مادورو کی معزولی اور قید امریکہ کی زبردست فوجی طاقت کا عملی نمونہ ہے۔ امریکہ نے بڑے پیمانے پر اپنی بحری فوج کو منظم کیا اور ایک بھی امریکی فوجی کی جان گنوائے بغیر اپنا مقصد حاصل کر لیا۔
طاقت کے زور پر تبدیلی کا تباہ کن ریکارڈGetty Imagesصدر ٹرمپ وینزویلا میں صدر مادورو کو پکڑے جانے کا کارروائی لائیو دیکھ رہے ہیں
مادورو نے اپنی انتخابی شکست کو تسلیم کرنے کے بجائے وینزویلا کے عوام کی مرضی کو نظرانداز کیا اور یہی وجہ ہے کہ اُن کی معزولی کا وینزویلا کے بہت سے شہریوں کی جانب سے خیرمقدم بھی کیا جا رہا ہے۔
لیکن امریکی کارروائی کے مضمرات وینزویلا کی سرحدوں سے آگے بھی بڑھیں گے۔
فلوریڈا میں ٹرمپ کی رہائش گاہ پر ہونے والی نیوز کانفرنس میں رہنماؤں کا موڈ فاتحانہ تھا، اُنھوں نے اس بات کا جشن منایا کہ کس طرح امریکی فوج نے انتہائی مہارت سے اپنا مشن پورا کیا۔
لیکن اگر گذشتہ 30 برسوں پر نظر دوڑائی جائے تو طاقت کے زور پر امریکہ کی جانب سے حکومت کی تبدیلی کا ریکارڈ تباہ کن رہا ہے۔ فوجی کارروائی کے بعد اس کے سیاسی مضمرات ہی، اس کارروائی کی کامیابی یا ناکامی کی ضمانت دیتے ہیں۔
سنہ 2003 میں امریکی حملے کے بعد عراق ایک خوفناک تباہی سے دوچار ہوا۔ سنہ 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے فوری بعد ہی افغانستان میں دو دہائیوں تک قیام اور اربوں ڈالرز جھونکنے کے بعد سب کچھ امریکہ کے ہاتھ سے نکل گیا۔
ان دونوں ممالک میں سے کوئی بھی امریکہ کے قریب نہیں تھا۔ لاطینی امریکہ میں بھی ماضی میں امریکہ کی جانب سے کی گئی مداخلت کے بھی حوصلہ افزا نتائج برآمد نہیں ہوئے تھے۔
’قلعہ نما گھر، سی آئی اے کا مخبر اور سیف روم تک پہنچنے کی کوشش‘: صدر مادورو کو پکڑنے کے لیے امریکی کارروائی میں کیا کیا ہوا؟صدر ٹرمپ کو ’دنیا میں خام تیل کے سب سے بڑے ذخائر‘ رکھنے والے ملک وینزویلا سے کیا مسئلہ ہے؟امریکی منصوبے کی مخالفت کرنے والی وینیزویلا کی دو خواتین رہنما، عبوری صدر ڈیلسیروڈریگیز اور اپوزیشن لیڈر مرِیا کورینا مَچاڈو کون ہیں؟F-16 طیارے، سخوئی جہاز مگر ایسی فوج ’جس میں بھاگنے والوں کی شرح زیادہ ہے‘: وینزویلا امریکی حملے کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے؟
صدر ٹرمپ نے سنہ 1829 میں امریکی صدر جیمز منرو کی جانب سے اپنائے جانے والے ’ڈونرو نظریے‘ کی گردان کی، جس میں دیگر طاقتوں کو خبردار کیا گیا تھا وہ امریکی اثر و رسوخ کے دائرے میں مداخلت نہ کریں۔
ٹرمپ نے نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ ’منرو کا نظریہ ایک بہت بڑی بات تھی۔۔۔ لیکن ہم نے اسے بہت زیادہ پیچھے چھوڑ دیا۔ ہماری نئی قومی سلامتی کی حکومت عملی کے تحت مغربی نصف کرہ امریکہ پر تسلط پر دوبارہ کوئی سوال نہیں کیا جائے گا۔‘
اُنھوں نے کولمبیا کے صدر کو بھی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اُنھیں بھی اب اپنی فکر کرنی چاہیے۔ صدر ٹرمپ نے بعدازاں فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ میکسیکو کے ساتھ بھی کچھ کرنا پڑے گا۔
بلاشبہ کیوبا بھی امریکی ایجنڈے میں شامل ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے والدین کا تعلق بھی کیوبا سے ہے۔
امریکہ کا لاطینی امریکہ کے ممالک میں مسلح مداخلت کا طویل ریکارڈ رہا ہے۔ امریکہ نے سنہ 1994 میں ہیٹی میں 25 ہزار فوجی اور دو طیارہ بردار جہاز بھیجے تھے جس کے بعد ایک گولی چلے بغیر ہیٹی میں حکومت تبدیل ہو گئی تھی۔
لیکن ’بہتر مستقبل کی شروعات‘ کے وعدے سے بہت دُور یہ 30 سال ہیٹی کے لوگوں کے لیے مصائب سے بھرپور رہے۔ ہیٹی، اس وقت مسلح گروہوں کے زیرتسلط ایک ناکام ریاست سمجھی جاتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے وینزویلا کو دوبارہ عظیم بنانے کی بات کی ہے۔ لیکن اُنھوں نے جمہوریت کا ذکر نہیں کیا۔ اُنھوں نے اس خیال کو بھی مسترد کیا کہ وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر اور سنہ 2025 میں نوبیل انعام جیتنے والیماریا کورینا ماچاڈو کو ملک کی قیادت کرنی چاہیے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ وہ قیادت کرنے کی اہل ہیں۔۔۔ اُن کے پاس عوامی حمایت نہیں ہے اور اُن کے پاس عزت نہیں ہے۔‘
صدر ٹرمپ نے ایڈمنڈو گونزالیز کا بھی ذکر نہیں کیا، جنھیں وینزویلا کے عوام سنہ 2024 کے انتخابات کا حقیقی فاتح قرار دیتے ہیں۔ ان سب کے بجائے امریکہ نائب صدر ڈیلسی رودریگز کی حمایت کر رہا ہے۔
امریکی فوج کو مادورو کو ہٹانے کے لیے ضرور اندر سے مدد ملی ہو گی، لیکن مادورو کو ہٹائے جانے کے باوجود اُن کے پیشرو ہیوگو شاویز کی بنائی ہوئی حکومت برقرار دکھائی دیتی ہے۔
امریکی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے کسی بھی قسم کی مزاحمت نہ دکھانے پر شرمندگی محسوس کرنے والے وینزویلا کے جرنیلوں کے لیے بھی امریکی منصوبوں کو تسلیم کرنا آسان نہیں ہو گا۔
وینزویلا میں فوج اور حکومت کے حامیوں نے بدعنوانی کے نیٹ ورک کے ذریعے خود کو مالا مال کیا ہے، جسے وہ کھونا نہیں چاہیں گے۔ حکومت کی جانب سے سویلین ملیشیا کو مسلح کیا گیا ہے جبکہ وینزویلا میں دوسرے مسلح گروپ بھی ہیں۔
ان میں جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے ساتھ ساتھ کولمبیا کی گوریلا فورس بھی شامل ہے، جنھیں پناہ کے بدلے میں مادورو حکومت کی حمایت حاصل ہے۔
گرین لینڈ اور ڈنمارک میں خوف کے سائے
صدر ٹرمپ کی وینزویلا میں مداخلت نے اُن کے عالمی عزائم پر توجہ مبذول کروائی ہے۔ اب اس معاملے میں کوئی راز باقی نہیں رہا ہے کہ وہ (ٹرمپ) دوسرے ممالک کی معدنی دولت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
وہ پہلے ہی فوجی امداد کے بدلے یوکرین کے قدرتی وسائل سے منافع حاصل کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔
ٹرمپ، وینزویلا کے معدنی ذخائر کو کنٹرول کرنے کی اپنی خواہش کو بھی نہیں چھپا رہے۔ اُن کا یہ ماننا ہے کہ جب وینزویلا میں تیل کی صنعت کو سرکاری تحویل میں لیا گیا تو امریکی تیل کمپنیوں کو لوٹا گیا تھا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم زمین سے بہت زیادہ دولت نکالنے جا رہے ہیں، اور وہ دولت وینزویلا کے لوگوں کے پاس جا رہی ہے، اور وینزویلا سے باہر کے لوگ جو پہلے وینزویلا میں تھے، اور یہ رقم معاوضے کی صورت میں امریکہ کو بھی جائے گی۔‘
ٹرمپ کے عزائم کو دیکھتے ہوئے گرین لینڈ اور ڈنمارک میں بھی خوف کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں کہ وہ اب جنوب کے ساتھ ساتھ شمال پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
امریکہ نے قطب شمالی میں اپنی سٹریٹجک پوزیشن کے ساتھ ساتھ ان قدرتی وسائل کے لیے گرین لینڈ کو تحویل میں لینے کی خواہش کو ترک نہیں کیا۔ جہاں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے تیزی سے برف پگھلنے سے معدنیات قابلِ رسائی ہو رہے ہیں۔
مادورو آپریشن اس خیال کے لیے بھی ایک اور سنگین دھچکہ ہے کہ دُنیا کو چلانے کا بہترین طریقہ بین الاقوامی قانون کے مطابق طے شدہ اُصولوں پر عمل کرنا ہے۔
Reuters
ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے ساتھ ہی اس خیال کو دھچکہ لگا تھا۔ صدر ٹرمپ کئی مواقع پر یہ کہہ چکے تھے کہ وہ ایسے قوانین کو نظراندز کر سکتے ہیں، جنھیں وہ ناپسند کرتے ہیں۔
امریکہ کے یورپی اتحاد بھی انھیں ناراض کرنے کے موڈ میں نظر نہیں آتے۔ برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر اور یورپی رہنما یہ جانتے بوجھتے بھی اس اقدام کی مذمت سے گریز کر رہے ہیں کہ یہ آپریشن اقوام متحدہ کے چارٹر کی کُھلی خلاف ورزی ہے۔
امریکہ کا یہ جواز ہے کہ اس نے وینزویلا کے صدر کو منشیات کے سمگلنگ کے ملزم کے طور پر گرفتار کیا ہے اور اُن کے خلاف وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کیا گیا۔
مادورو اور اُن کی اہلیہ نے امریکی آپریشن سے چند گھنٹے قبل اپنے محل میں چینی سفارت کاروں سے ملاقات کی تھی۔
چین نے امریکی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’امریکہ کی تسلط پسندانہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون اور وینزویلا کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے اور اس سے لاطینی امریکہ اور کیربیئن کی سکیورٹی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔‘
امریکہ نے چین اور روس کے لیے بھی ایک مثال قائم کر دیGetty Images
امریکی کارروائی کی مذمت کے باوجود، یہ امریکی اقدام چین کو بھی ایک راستہ دکھاتا ہے۔
چین، تائیوان کو اپنا صوبہ قرار دیتا ہے اور اسے خود میں ضم کرنے کو اپنی قومی سلامتی کا اہم جزو قرار دیتا ہے۔
واشنگٹن میں، سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے ڈیمو کریٹک وائس چیئرمین، سینیٹر مارک وارنر کا یقیناً یہی خوف ہے۔ اُنھوں نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چین کے رہنما اور دیگر اس (وینزویلا میں امریکی کارروائی) پر گہری نظر رکھیں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’اگر امریکہ غیر ملکی رہنماؤں پر حملہ کرنے اور انھیں پکڑنے کے لیے فوجی طاقت استعمال کرتا ہے تو چین بھی تائیوان کی قیادت پر اسی اختیار کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ یہ روسی صدر کو یوکرینی صدر کو اغوا کرنے کی ترغیب بھی دے سکتا ہے۔ ایک بار جب اس لائن کو عبور کر لیں گے تو ہر ملک عالمی قوانین کی اپنے طور پر تشریح کرے گا۔‘
صدر ٹرمپ کے سال کے آغاز پر کیے گئے اقدامات عالمی کشمکش کے آئندہ مزید 12 ماہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
’قلعہ نما گھر، سی آئی اے کا مخبر اور سیف روم تک پہنچنے کی کوشش‘: صدر مادورو کو پکڑنے کے لیے امریکی کارروائی میں کیا کیا ہوا؟امریکی منصوبے کی مخالفت کرنے والی وینیزویلا کی دو خواتین رہنما، عبوری صدر ڈیلسیروڈریگیز اور اپوزیشن لیڈر مرِیا کورینا مَچاڈو کون ہیں؟’آپریشن جَسٹ کاز‘: امریکہ نے آخری بار کس مُلک کے صدر کو فوجی آپریشن کی مدد سے حراست میں لیا تھا؟’امن قائم کرنے والے‘ صدر کا ڈرامائی قدم جس نے امریکہ کو اسرائیل ایران تنازع کے بیچ لا کھڑا کیاصدر ٹرمپ کو ’دنیا میں خام تیل کے سب سے بڑے ذخائر‘ رکھنے والے ملک وینزویلا سے کیا مسئلہ ہے؟F-16 طیارے، سخوئی جہاز مگر ایسی فوج ’جس میں بھاگنے والوں کی شرح زیادہ ہے‘: وینزویلا امریکی حملے کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے؟