اس رات ایران کے دارالحکومت تہران کی فضا میں شدید بے چینی تھی۔ کچھ بڑا ہونے والا تھا۔ آدھی رات کو فوجیوں سے بھرا ہوا ایک ٹرک وزیراعظم کو گرفتار کرنے روانہ ہوا مگر پیشگی اطلاع ملنے کی وجہ سے وزیراعظم سے وفادار اہلکاروں نے ان فوجیوں کو گرفتار کر لیا۔ لیکن ایسا زیادہ دن رہنے والا نہیں تھا۔ بغاوت کے اس منصوبے کی جڑیں زیادہ گہری تھیں۔
یہ ایران کے حالیہ مظاہروں کی نہیں بلکہ 15 اگست 1953کی رات کی بات ہے جب ایرانی وزیراعظم محمد مصدق کو ہٹانے کے لیے ایک ایسی سازش رچائی گئی جس میں امریکہ اور برطانیہ سمیت خود شاہ ایران بھی شامل تھے۔ محمد مصدق چار دن بعد ہی اس سازش کا شکار ہوئے اور ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔
حالیہ مظاہروں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے ایک بار پھر اس کارروائی کی یاد تازہ کی ہے اور ایران کی جانب سے بھی امریکہ کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہے۔
واضح رہے کہ سی آئی اے کی سنہ 2013 میں جاری کی گئی دستاویزات میں پہلی بار اس بات کا باضابطہ اعتراف کیا گیا تھا کہ 1953 میں سی آئی اے نے مصدق حکومت کا تختہ الٹنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ ان دستاویزات کے ایک اقتباس میں لکھا تھا کہ ’ایران میں فوجی بغاوت سی آئی اے کی ہدایت پر کی گئی تھی امریکی خارجہ پالیسی کے ایک عمل کے طور پر۔‘
ایسے میں بی بی سی نے اس تحریر میں ان واقعات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے جب آج سے تقریبا 78 سال قبل امریکہ اور برطانیہ نے ایرانی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا لیکن اس کی وجہ کیا تھی؟
برطانیہ اور ایرانی تیل
اس کہانی کا آغاز سنہ1908 میں ایران میں تیل کی دریافت سے شروع ہوا۔ برطانیہ ایرانی قاجار حکمران کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت اینگلو‑پرشین آئل کمپنی کے ذریعے تیل کی آمدنی کا 80 فیصد سے بھی زیادہ حصہ سمیٹ رہا تھا، جبکہ ایران کو اپنی ہی قدرتی دولت سے محض 10 سے 12 فیصد آمدنی ملتی تھی۔
سنہ 1925 میں قاجار بادشاہ احمد شاہ کو ہٹا کر رضا شاہ نے پہلوی شاہی کی بنیاد رکھی۔ وہ 1941 تک ایران کے شاہ رہے جب انھیں معزول کرکے ان کے بیٹے محمد رضا پہلوی کو اقتدار دے دیا گیا۔
وولف گانگ کے۔ کریسن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس کے لیے ایک تحقیق کے مطابق 1940 کی دہائی کے اواخر میں برطانوی آئل کمپنی کے خلاف عوامی بے چینی میں اضافہ ہونے لگا۔
امریکی صحافی سٹیفن کنزر نے اپنی کتاب ’آل دی شاہز مین‘ میں لکھا ہے کہ ایران نے کمپنی کا آڈٹ کرنے کی کوشش کی تاکہ غیرملکی کنٹرول کو محدود کیا جا سکے۔ لیکن جب کمپنی نے ایرانی حکومت کے ساتھ تعاون سے انکار کیا تو سنہ 1951میں ایرانی پارلیمان نے تیل کی صنعت کو قومیانے کے حق میں ووٹ دیا، اور اس قانون کے سرکردہ حامی ڈاکٹر محمد مصدق کو وزیرِاعظم منتخب کر لیا۔
انسائیکلوپیڈیا بریٹنیکا کے مطابق جب برطانیہ نے اپنے مفادات کو خطرے میں دیکھا تو اس نے محمد مصدق کی حکومت کو کمزور اور غیر مستحکم کرنے کے لیے ایک خفیہ مہم شروع کر دی۔
انسائیکلوپیڈیا بریٹنیکا کے مطابق ’ابتدا میں برطانوی حکومت نے پارلیمانی فرمان کے ذریعے شاہ کو مصدق کو عہدے سے ہٹانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، مگر یہ چال ناکام رہی اور الٹا مصدق کی ساکھ میں اضافہ جبکہ شاہ کی حیثیت میں کمی کا باعث بنی۔‘
’بغاوت کے ذریعے حکومت گرانے کے لیے برطانیہ نے اکیلے ذمہ داری اٹھانے سے گریز کرتے ہوئے امریکا کو ساتھ ملانے کی کوشش کی اور سرد جنگ کے خدشات کو ہوا دی گئی کہ مصدق، جو کھلے طور پر کمیونزم کے مخالف تھے، ایرانی کمیونسٹ پارٹی کے قریب جا رہے ہیں۔‘
محمد مصدق کے خلاف برطانیہ اور امریکہ کا گٹھ جوڑ
امریکی جریدے ’ٹائم‘ نے محمد مصدق کو 1951 کا ’مین آف دی ایئر‘ قرار دیا تھا جنھوں نے ’خارجہ امور میں نہایت سرگرم پالیسی اپنائی، اتنی سرگرم کہ ہزاروں میل دور ملکوں کی وزارتوں میں رات گئے تک چراغ جلتے رہتے۔ لوگ ان پر فریفتہ تھے۔‘
لیکن کنزر کے مطابق مصدق کو ناقابلِ مصالحت سمجھتے ہوئے برطانوی وزیرِاعظم ونسٹن چرچل اور امریکی صدر آئزن ہاور کی انتظامیہ نے 1953 کے اوائل میں ان کی حکومت گرانے کا فیصلہ کیا۔
اس کارروائی کو امریکہ نے ’آپریشن ایجیکس‘ جبکہ برطانیہ نے ’آپریشن بوٹ‘ کا نام دیا۔
نیویارک ٹائمز کے لکھاری جیمزرائزننے ایرانیطرزِ تعمیر کے ماہر اور بغاوت کے سرکردہ منصوبہ سازوں میں شامل ڈاکٹر ڈونلڈ این وِلبر کے حوالے سے لکھا ہے کہ مارچ 1953 میں سی آئی اے کے تہران سٹیشن نے اطلاع دی کہ ایک ایرانی جنرل نے فوج کی قیادت میں بغاوت کی حمایت کے لیے امریکی سفارت خانے سے رابطہ کیا ہے۔
جولین بورجر نے گارڈین میں برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے ایرانی سٹیشن کے سربراہ نورمن ڈاربی شائر کے ایک انٹرویو کے حوالے سے لکھا ہے کہ انھوںنے شاہ کے حامیجنرل فضل اللہ زاہدی کو انقلاب کی قیادت کے لیے بھرتی کیا تاکہ وہ آخرکار مصدق کی جگہ وزیر اعظم بن سکیں۔
ولبر کی لکھی خفیہ تاریخ، ’کلینڈسٹائن سروس ہسٹری، اوورتھرو آف پریمیئر مصدق ، نومبر 1952 سے اگست 1953‘ بتاتی ہے کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر ایلن ڈبلیو ڈلس نے 4 اپریل کو 10 لاکھ ڈالر کی منظوری دی کہ یہ رقم ’کسی بھی ایسے طریقے سے استعمال کی جا سکتی ہے جس سے مصدق کا خاتمہ ہو سکے۔‘
ولبر نے لکھا ہے کہمنصوبے کے مطابق شاہ کو مرکزی کردار ادا کرنا تھا لیکن نوجوان شاہ کے بارے میں ایجنسی کے حکام نے لکھا کہ وہ ’فطری طور پر تذبذب کا شکار، بےشکل خدشات اور خوف میں گھرے ہوئے‘ تھے، اور اکثر اپنے خاندان سے—خصوصاً اپنی ’طاقت ور اور سازشی جڑواں بہن‘ شہزادی اشرف—سے اختلاف کرتے تھے۔‘
مزید یہ کہ شاہ کو، سی آئی اے کے الفاظ میں، برطانوی سازشوں کا ’مرضیاتی خوف‘ لاحق تھا، جو مشترکہ آپریشن کی راہ میں ایک ممکنہ رکاوٹ تھا۔
اکتوبر 1952 میں مصدق نے برطانیہ سے تعلقات منقطع کر کے اس کے سفارت کار اور جاسوس نکال دیے، جس سے ڈاربی شائر کیسرگرمیاں عارضی طور پر رک گئیں۔ انھوںنے اپنے انقلاب کے منصوبے بیروت میں سی آئی اے کے حوالے کر دیے۔
جب امام خمینی کے کفن کے ٹکڑے یادگار کے طور پر رکھنے کے لیے لوگوں میں مقابلہ شروع ہوادیرینہ شراکت سے ازلی دشمنی تک: جب ایرانی اور اسرائیلی خفیہ ایجنسیاں ’ساواک اور موساد‘ مل کر کام کرتی تھیں سلطنت فارس کی 2500 سالہ تاریخ اور ایران کی آخری ملکہ کی سالگرہ کے جشن کے دوران یحییٰ خان کی ’بے چینی‘ریجیم چینج سے سلطنتوں کے قبرستان تک: مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے معاملات میں مداخلت امریکہ کو عموماً مہنگی کیوں پڑتی ہے؟’ہچکچاتے شاہ‘ کو راضی کرنے کی کوشش
منصوبہ آگے بڑھ رہا تھا، اگرچہ شاہہچکچا رہے تھے اور امریکی صدر آئزن ہاور نے ابھی حتمی منظوری نہیں دی تھی۔
جونمیں امریکی اور برطانوی انٹیلی جنس حکام نےبیروت میں حکمتِ عملی کو آخری شکل دی۔ اس کے فوراً بعد سی آئی اے کے مشرقِ قریب اور افریقہ ڈویژن کے سربراہ کرمٹ روزویلٹ، جو تھیوڈور روزویلٹ کے پوتے تھے، تہران پہنچے تاکہ کارروائی کی قیادت کریں۔
11 جولائی کو صدر آئزن ہاور نے بالآخر منصوبے کی منظوری دے دی۔ منصوبے کے مطابق سی آئی اے کو عوامی بے چینی کو ہوا دینا تھیاور جب ملک انتشار کی طرف لڑکھڑاتا ہوا بڑھتا تو شاہ ثابت قدم رہتے ہوئے شاہی فرمان جاری کرتے: ’ڈاکٹر مصدق کو برطرف اور جنرل زاہدی کو وزیرِاعظم مقرر کرنے کے لیے۔‘
تقریباً اسی وقت سی آئی اے افسر سٹیفن میڈ اور برطانوی انٹیلی جنس افسر ڈاربی شائر نے فرانسیسی ریویرا میں شہزادی اشرف پہلویسے ملاقات کی اور انہیں قائل کیا کہ وہ ایران واپس جا کر اپنے بھائی کو طے شدہ سکرپٹ کے مطابق چلنے پر آمادہ کریں۔
ڈاربی شائر نے کہا ’ہم نے واضح کیا کہ ہم اخراجات ادا کریں گے اور جب میں نے ایک بڑی رقم نکالی تو ان کی آنکھیں چمک اٹھیں۔‘
ولبر کے مطابق ناپسندیدہ شہزادی کی واپسی نے مصدق نواز حلقوں میں احتجاج کا طوفان کھڑا کر دیا۔ شاہ اس بات پر سخت ناراض تھے کہ وہ ان کی اجازت کے بغیر واپس آئی ہیں اور ابتدا میں انھوں نے بھی اپنی بہن سے ملنے سے انکار کر دیا۔
تاہم 29 جولائی کو محل کے ایک عملے کے رکن، خفیہ تاریخ کے مطابق ایک اور برطانوی ایجنٹ، نے اشرف کو رسائی دلوا دی۔ تاریخ یہ نہیں بتاتی کہ بہن بھائی کے درمیان کیا گفتگو ہوئی۔
ایجنسی اپنی پروپیگنڈا مہم بھی تیز کر رہی تھی۔ ایک بڑے اخبار کے مالک کو تقریباً 45 ہزار ڈالر کا ذاتی قرض دیا گیا ’اس یقین کے ساتھ کہ اس سے اس کا اخبار ہمارے مقاصد کے لیے آمادہ ہو جائے گا۔‘
لیکن شاہ اپنی ضد پر قائم رہے اور انھوں نے سی آئی اے کے تیار کردہ انفرمانوں پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا جن کے تحت مصدق کو برطرف اور جنرل زاہدی کو مقرر کیا جانا تھا۔
ادھر ڈاکٹر مصدق کو اندازہ ہو چکا تھا کہ ان کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ انھوں نے پارلیمان تحلیل کرنے کے لیے قومی ریفرنڈم کا اعلان کر کے اقتدار مضبوط کرنے کی کوشش کی۔
10 اگست تک شاہ بالآخر جنرل زاہدی اور سازش میں شامل چند فوجی افسران سے ملنے پر آمادہ ہو گئے، مگر پھر بھی فرمانوں پر دستخط سے انکار کرتے رہے۔ اس پر سی آئی اے نے رشیدیان کو بھیجا تاکہ وہ شاہ کو پیغام دے کہ اگر چند دنوں میں اقدام نہ کیا گیا تو روزویلٹ سخت بیزاری کے عالم میں روانہ ہو جائیں گے۔
آخرکار شاہ نے 13 اگست کو فرمانوں پر دستخط کر دیے۔ یہ خبر کہ وہ فوج کی قیادت میں بغاوت کی حمایت کریں گے، جنرل زاہدی کے حامی فوجی افسران میں تیزی سے پھیل گئی۔
بغاوت
بغاوت کا آغاز 15 اگست کی رات ہوا، مگر ایک حد سے زیادہ باتونی ایرانی فوجی افسر کی وجہ سے فوراً ہی راز فاش ہو گیا، جس کی باتیں ڈاکٹر مصدق تک پہنچا دی گئیں۔
خفیہ تاریخ کے مطابق ڈاکٹر مصدق کے چیف آف سٹاف، جنرل تقی ریاحی، کو بغاوت شروع ہونے سے چند گھنٹے پہلے ہی اس کی خبر ہو گئی اور انھوں نے اپنے نائب کو شاہی محافظ دستے کی بیرکوں میں بھیج دیا۔ نائب کو وہیں گرفتار کر لیا گیا، عین اسی وقت جب شاہ نواز فوجی شہر بھر میں پھیل کر دیگر اعلیٰ حکام کو گرفتار کر رہے تھے۔ فوج اور حکومتی دفاتر کے درمیان ٹیلی فون لائنیں کاٹ دی گئیں اور ٹیلی فون ایکسچینج پر قبضہ کر لیا گیا۔
لیکن حیران کن طور پر فون بدستور کام کرتے رہے، جس نے ڈاکٹر مصدق کی فورسز کو ایک اہم برتری دی۔ جنرل ریاحی بھی شاہ نواز دستوں کی گرفت سے بچ نکلے اور کمانڈروں کو وزیرِاعظم کے ساتھ کھڑا ہونے کے لیے منظم کرنے لگے۔
ڈاکٹر مصدق کو ان کے گھر پر گرفتار کرنے بھیجے گئے شاہ نواز فوجی خود پکڑے گئے۔ جنرل زاہدی کے ساتھ کام کرنے والا اعلیٰ فوجی افسر اُس وقت فرار ہو گیا جب اس نے فوجی ہیڈکوارٹر میں ٹینکوں اور وفادار سرکاری فوجیوں کو دیکھا۔
اگلی صبح، تاریخ کے مطابق، تہران ریڈیو نے اعلان کیا کہ حکومت کے خلاف بغاوت ناکام بنا دی گئی ہے۔ امریکی سفارت خانے میں موجود سی آئی اے افسران اندھیرے میں تھے۔ تاریخ کے مطابق ان کے پاس یہ جاننے کا کوئی طریقہ نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔
کرمٹ روزویلٹ سفارت خانے سے نکلے اور جنرل زاہدی کو تلاش کر لیا، جو تہران کے شمال میں چھپے ہوئے تھے۔ حیرت انگیز طور پر جنرل کارروائی ترک کرنے کو تیار نہیں تھے۔ دونوں نے اتفاق کیا کہ اگر عوام کو یہ باور کرا دیا جائے کہ جنرل زاہدی قانونی وزیرِاعظم ہیں تو بغاوت اب بھی کامیاب ہو سکتی ہے۔
اس مقصد کے لیے، خفیہ تاریخ کے مطابق، منصوبے پر عمل کرنے والوں کو یہ خبر عام کرنا تھی کہ شاہ نے دو شاہی فرمانوں پر دستخط کر دیے ہیں۔
تہران میں سی آئی اے سٹیشن نے نیویارک میں ایسوسی ایٹڈ پریس کو پیغام بھیجا، جس میں کہا گیا کہ ’غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق سازش کے رہنماؤں کے پاس شاہ کے دو فرمان موجود ہیں—ایک مصدق کی برطرفی اور دوسرا جنرل زاہدی کے تقرر کا‘۔ سی آئی اے اور اس کے ایجنٹوں نے ان فرمانوں کا ذکر بعض تہران کے اخبارات میں بھی کرایا۔
لیکن پروپیگنڈا مہم جلد ہی تعطل کا شکار ہو گئی۔ سی آئی اے کے بہت سے ایرانی ایجنٹ گرفتار ہو چکے تھے یا روپوش تھے۔ اسی دوپہر ایجنسی کے اہل کاروں نے جنرل زاہدی کا ایک بیان تیار کیا جسے وہ عوام میں تقسیم کرنا چاہتے تھے، مگر انھیں کوئی ایساپرنٹنگ پریسنہ مل سکا جو وزیرِاعظم کے وفادار دستوں کی نگرانی میں نہ ہو۔
16 اگست کو جب یہ معلوم ہوا کہ شاہ بغداد فرار ہو گئے ہیں تو کارروائی کو بحال کرنے کی امید کو بظاہر جان لیوا دھچکا لگا۔ سی آئی اے ہیڈکوارٹر نے تہران کو تار بھیج کر روزویلٹ کو فوراً روانہ ہونے کا مشورہ دیا۔
روزویلٹ نے اس سے اتفاق نہ کیا اور اصرار کیا کہ اگر شاہ بغداد ریڈیو سے خطاب کریں اور جنرل زاہدی جارحانہ موقف اختیار کریں تو ’کامیابی کا ایک ہلکا سا امکان‘ اب بھی باقی ہے۔
ولبر کے مطابق اسی دوران میں ڈاکٹر مصدق بغاوت کے بعد پارلیمان تحلیل کر کے سی آئی اے کے ہاتھ کھیل گئے۔
AFPایران کے آخری بادشاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی نے ایران میں جاری حالیہ مہنگائی کے خلاف جاری مظاہروں میں شدت لانے کے لیے ملک بھر میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سڑکوں پر نکلیں
17 اگست کی صبح شاہ نے بالآخر بغداد سے اعلان کیا کہ انہوں نے فرمانوں پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس نازک مرحلے پر ڈاکٹر مصدق کی حکومت نے شاہ کی روانگی اور بغاوت میں ملوث بعض افسروں کی گرفتاریوں سے مطمئن ہو کر شہر کے گرد تعینات بیشتر فوج واپس بلا لی، یہ سمجھتے ہوئے کہ خطرہ ٹل چکا ہے۔
اسی رات سی آئی اے نے جنرل زاہدی اور دیگر کلیدی ایرانی ایجنٹوں اور فوجی افسروں کو ’گاڑیوں کے نچلے حصوں اور بند جیپوں میں‘ چھپا کر سفارت خانے کے احاطے میں داخل کروایا، جہاں مشاورتہوئی۔
انھوں نے 19 اگست کو جوابی حملہ شروع کرنے پر اتفاق کیا اور تہران کے ایک ممتاز عالمِ دین کو قم بھیجا تاکہ کمیونزم کے خلاف جہاد کی اپیل منظم کی جا سکے۔ ایرانی مورخ مائیکل آکسوردی کے مطابق ’مصدق کے خلاف یہ تحریک ان کے زوال میں فیصلہ کن عنصر تھی۔‘
تاہم ایک بار پھر شاہ نے سی آئی اے کو مایوس کیا۔ اگلے دن وہ بغداد سے روم روانہ ہو گئے، بظاہر جلاوطن ہو کر۔ ڈاکٹر مصدق کے حامی اخبارات نے خبر دی کہ پہلوی سلطنت کا خاتمہ ہو چکا ہے، جبکہ کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے بیان میں بغاوت کی کوشش کو ’اینگلو-امریکی سازش‘ قرار دیا گیا اور مظاہرین نے شاہی مجسمے گرا دیے۔
سی آئی اے کے تہران سٹیشن نے ہیڈکوارٹر سے رہنمائی مانگی کہ آیا ’ایجیکس کو جاری رکھا جائے یا دستبردار ہو جایا جائے۔‘
کامیابی
لیکن جس وقت امریکی دستبردار ہونے کو تیار تھے، تہران کی سڑکوں پر فضا اچانک بدل گئی۔
19 اگست کی صبح تہران کے چند اخبارات نے شاہ کے طویل انتظار کے بعد جاری کیے گئے فرمان شائع کیے، اور جلد ہی شاہ نواز ہجوم سڑکوں پر جمع ہونے لگا۔
ولبر کی لکھی خفیہ تاریخ کے مطابق ’انھیں صرف قیادت کی ضرورت تھی‘ اور یہ قیادت سی آئی اے کے ایرانی ایجنٹوں نے فراہم کی۔
بغیر کسی واضح ہدایت کے، ایک صحافی (جو ایجنسی کے اہم ترین ایرانی ایجنٹوں میں سے تھا) ہجوم کو پارلیمان کی طرف لے گیا اور لوگوں کو ڈاکٹر مصدق کے وزیرِ خارجہ کی ملکیت والے اخبار کے دفاتر کو آگ لگانے پر اکسایا۔ ایک اور ایرانی سی آئی اے ایجنٹ نے ہجوم کی قیادت کرتے ہوئے تودہ نواز اخبارات کے دفاتر پر دھاوا بول دیا۔
ایک ایرانی فوجی کرنل، جو چند دن پہلے منصوبے میں شامل تھا، اچانک ایک ٹینک کے ساتھ پارلیمان کے باہر نمودار ہوا۔ خفیہ تاریخ کے مطابق، 10:15 تک تمام بڑے چوراہوں پر شاہ نواز فوجیوں سے بھرے ٹرک موجود تھے۔
دوپہر تک ہجوم کو چند افسروں کی براہِ راست قیادت ملنے لگی۔ ایک گھنٹے کے اندر مرکزی ٹیلی گراف دفتر پر قبضہ ہو گیا اور صوبوں کو تار بھیج کر شاہ کے حق میں بغاوت کی اپیل کی گئی۔ مختصر فائرنگ کے بعد پولیس ہیڈکوارٹر اور وزارتِ خارجہ پر بھی قبضہ ہوگیا۔
تہران ریڈیو غیر یقینی کے باعث کپاس کی قیمتوں پر ایک پروگرام نشر کر رہا تھا۔ مگر دوپہر کے اوائل میں شہریوں، فوجی افسروں اور پولیس اہلکاروں نے اس پر دھاوا بول دیا۔ شاہ نواز مقررین نے نشریات سنبھال لیں، بغاوت کی کامیابی کا اعلان کیا اور شاہی فرمان پڑھ کر سنائے۔
سفارت خانے میں سی آئی اے کے افسران خوشی سے سرشار تھے، اور کرمٹ روزویلٹ نے جنرل زاہدی کو روپوشی سے باہر نکالا۔ ایک فوجی افسر نے ٹینک کا انتظام کیا اور انھیں ریڈیو اسٹیشن لے گیا، جہاں جنرل زاہدی نے قوم سے خطاب کیا۔
ڈاکٹر مصدق اور دیگر حکومتی اہل کار گرفتار کر لیے گئے، جبکہ جنرل زاہدی کے حامی افسروں نے تہران چھاؤنی کی تمام یونٹوں کی کمان ’ایجیکس کے معلوم حامیوں‘ کے سپرد کر دی۔
سوویت یونین مکمل طور پر حیرت زدہ رہ گیا۔ حتیٰ کہ جب مصدق حکومت گر رہی تھی، ماسکو ریڈیو’ایران میں امریکی مہم کی ناکامی‘ پر ایک خبر نشر کر رہا تھا۔
لیکن سی آئی اے ہیڈکوارٹر بھی ماسکو ہی کی طرح حیران تھا۔ جب بغاوت کی کامیابی کی خبر پہنچی تو خفیہ تاریخ کے مطابق ’یہ ایک بھدا مذاق محسوس ہوئی، خاص طور پر اُس مایوسی کے پیشِ نظر جو ایک دن پہلے تک چھائی ہوئی تھی۔‘
سی آئی اے کے ڈائریکٹر ایلن ڈلس نے شاہ کے ساتھ روم سے تہران تک پرواز کی اور جنرل زاہدی نے باضابطہ طور پر مصدق کی جگہ لی۔ مصدق پر مقدمہ چلایا گیا اور ابتدائی طور پر سزائے موت سنائی گئی لیکن شاہ کے ذاتی احکامات پر، انھیں تین سال کی قیدتنہائی دی گئی، جس کے بعد وہ گھر میں نظر بند رہے جہاں 1967 میں ان کی موت ہو گئی۔
دیرینہ شراکت سے ازلی دشمنی تک: جب ایرانی اور اسرائیلی خفیہ ایجنسیاں ’ساواک اور موساد‘ مل کر کام کرتی تھیں مغرب سے ’ڈکٹیشن‘ لینے والا ایران اسلامی انقلاب کے بعد امریکہ اور اسرائیل کا ’ازلی دشمن‘ کیسے بنااشرف پہلوی: ’مغربی سوچ کی حامل‘ شہزادی جنھوں نے امریکی و برطانوی ایجنسیوں کے تعاون سے فوجی بغاوت کروا کر ایران کی حکومت گرائیسلطنت فارس کی 2500 سالہ تاریخ اور ایران کی آخری ملکہ کی سالگرہ کے جشن کے دوران یحییٰ خان کی ’بے چینی‘جب امام خمینی کے کفن کے ٹکڑے یادگار کے طور پر رکھنے کے لیے لوگوں میں مقابلہ شروع ہوا