BBC
کرپٹو کرنسی کا چوری ہو جانا ایک منفرد نوعیت کا اذیت ناک تجربہ ہے۔ چونکہ کرپٹو کرنسی میں تمام لین دین ایک ڈیجیٹل رجسٹر پر درج ہوتا ہے (جسے بلاک چین کہا جاتا ہے) اس لیے اگر کوئی آپ کی یہ کرنسی چُرا کر اپنے کرپٹو والٹ میں ڈال بھی لے، تو بھی آن لائن اس کی موجودگی دکھائی دیتی ہے۔
’آپ اپنی چُرائی گئی رقم کو پبلک بلاک چین پر دیکھ سکتے ہیں، لیکن اُس کی واپسی کے لیے آپ کچھ نہیں کر سکتے۔‘
یہ کہنا ہے ہیلن نامی خاتون کا جن کے تقریباً تین لاکھ 15 ہزار ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی حال ہی میں چرائی گئی ہے۔
ہیلن چوری کی اس واردات کو کچھ ان الفاظ میں بیان کرتی ہیں کہ جیسے کوئی چور آپ کے قیمتی سامان کو نکال کر لے جائے اور آپ بس بے بسی سے اسے دیکھتے رہیں۔
ہیلن اور اُن کے شوہر رچرڈ گذشتہ کئی برسوں سے ’کارڈانو‘ نامی کرپٹو کرنسی خریدتے اور جمع کرتے رہے ہیں۔
انھیں ڈیجیٹل اثاثے میں سرمایہ کاری کا خیال بہت پسند تھا۔ ایسی سرمایہ کاری جس کی قدر روایتی طریقوں سے بچائے جانے والے فنڈز کے خلاف غیر معمولی طور پر بڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
اگرچہ وہ جانتے تھے کہ یہ زیادہ خطرناک ہے، لیکن وہ اپنے پاس ورڈز محفوظ رکھنے میں محتاط رہتے تھے۔
تاہم ہیکرز نے کسی نہ کسی طرح اُن کے اُس کلاؤڈ سٹوریج اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر لی جس میں انھوں نے اپنے کرپٹو والٹس اور پاس ورڈز محفوظ کر رکھے تھے۔
فروری 2024 میں پہلے چوروں نے ان کے اکاؤنٹ سے تھوڑی سی رقم اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کی اور اس میں کامیابی ملنے کے بعد مجرموں نے اس جوڑے کے تمام کوائنز اپنے ڈیجیٹل والٹس میں منتقل کر دیے۔ یہ حملہ تیز اور خاموش سے کیا گیا تھا۔
اس کے بعد یہ جوڑا کئی مہینوں تک دیکھتا رہا کہ کس طرح اُن کی رقم ایک والٹ سے دوسرے والٹ میں منتقل ہوتی رہی تاہم وہ اس کو واپس حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے۔
یاد رہے کہ کرپٹو کرنسی کا بنیادی تضاد یہ ہے کہ تمام لین دین عوامی طور پر قابلِ نگرانی ہوتے ہیں لیکن صارفین اگر چاہیں تو اپنی شناخت چھپا سکتے ہیں۔
ہیلن اور رچرڈ امیر نہیں ہیں۔ ہیلن ایک پرسنل اسسٹنٹ ہیں جبکہ رچرڈ ایک موسیقار ہیں۔ ان دونوں نے اپنی ڈیجیٹل سرمایہ کاری سے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔
Bloomberg via Getty Imagesہیلن اور رچرڈ نے اپنی تمام بچت کرپٹو کرنسی خریدنے میں لگائی تھی
رچرڈ کہتے ہیں کہ ’ہم اتنے عرصے سے یہ کوائنز خرید رہے تھے، ہمیں جو بھی پیسہ ملا اسے ہم نے کرپٹو کی خریداری میں لگا دیا۔ یہ چوری ہماری زندگی کا سب سے بُرا اور تلخ واقعہ ہے۔‘
اس چوری کے بعد سے اب ہیلن اپنی رقم واپس حاصل کرنے کے مشن پر ہیں۔
انھوں نے مختلف پولیس فورسز اور کارڈانو (کرپٹو کرنسی) ڈویلپرز سے تفصیلی رپورٹس حاصل کیں۔ اب، اگرچہ ان کے پاس مجرموں کے والٹ ایڈریس موجود ہیں تاہم انھیں بے نقاب کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا جا سکتا۔
ہیلن کہتی ہیں کہ ’یہ آپ کو بے بسی کا احساس دلاتا ہے لیکن میں کوشش جاری رکھوں گی۔‘
کرپٹو پر حملے
ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں اب 56 کروڑ افراد کرپٹو کرنسی کے مالک ہیں تاہم جیسے جیسے اس میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، ویسے ویسے چوری کی وارداتیں بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔
کورونا کی عالمی وبا کے دوران کرپٹو کوائنز کی قدر میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور اس کے ساتھ ہی اس صنعت پر حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔
بلاک چین کی تجزیاتی فرم ’چین اینالسس‘ کے محققین کے مطابق سنہ 2025 کرپٹو مجرموں کے لیے ایک اور منافع بخش سال ثابت ہوا جس میں چوری کی کُل رقم 3.4 ارب ڈالر سے زیادہ رہی۔
زیادہ تر رقم بڑے پیمانے پر سائبر حملوں کے زریعے کرپٹو کمپنیوں کے والٹس سے چوری کی گئی۔ مثال کے طور پر شمالی کوریا کے ہیکرز نے فروری 2025 میں کرپٹو ایکسچینج بائی بٹ سے ڈیڑھ ارب ڈالر چرا لیے۔
سنہ 2025 میں انفرادی حیثیت رکھنے والے کرپٹو سرمایہ کاروں پر حملوں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔
چین اینالسس کی تحقیق کے مطابق یہ انفرادی حملے سنہ 2022 میں 40 ہزار تھے جو بڑھ کر گذشتہ سال 80 ہزار تک پہنچ گئے۔
Getty Imagesدنیا بھر میں کروڑوں افراد کرپٹو کرنسی کے مالک ہیں
مختلف افراد کے اکاؤنٹ کی ہیکنگ، فراڈ یا دباؤ ڈالنے کے واقعات چوری شدہ کرپٹو ویلیو کے تقریباً 20 فیصد کے برابر تھے، جس کا تخمینہ 713 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔
تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ تمام متاثرین عوامی طور پر چوری کی رپورٹ کرنے کا انتخاب نہیں کرتے کیونکہ جب ایسا ہوتا ہے تو آپ کو تنہا چھوڑا جا سکتا ہے۔
چین الیسس کا کہنا ہے کہ انفرادی سرمایہ کاروں پر ہونے والے حملے کرپٹو جرائم کا وہ پہلو ہیں جن پر ابھی تک پوری طرح تحقیق یا دستاویزات موجود نہیں ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جرائم کی بڑی تعداد ان لوگوں کی وجہ سے ہے جو کرپٹو دنیا میں بطور سرمایہ کار داخل ہو رہے ہیں کیونکہ کوائنز کی قدر میں اضافہ ہوا ہے اور وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ بڑی سروسز میں بہتر حفاظتی طریقہ کار نے ’حملہ آوروں کو ان افراد کی طرف دھکیل دیا جنھیں نسبتاً آسان ہدف سمجھا جاتا ہے۔‘
رینچ یا سپینر حملے
جہاں تک چوروں کا تعلق ہے، وہ کہیں بھی پائے جا سکتے ہیں۔
اکتوبر 2025 میں ایلیپٹک نامی کرپٹو تجزیاتی کمپنی سے وابستہ بلاک چین محققین نے خبردار کیا کہ شمالی کوریا کی زیرسرپرستی ہیکرز امیر کرپٹو کرنسی مالکان کو تیزی سے نشانہ بنا رہے ہیں۔
تاہم اس میں دیگر ممالک کے بہت سے نوجوان ہیکرز اور دھوکے باز بھی موجود ہیں۔
دسمبر میں امریکہ میں 22 سالہ ایون ٹینجمن نے اعترافِ جرم کیا کہ وہ کرپٹو چوروں کے ایک گروہ کا حصہ تھے جو خود کو ’سوشل انجینئرنگ انٹرپرائز‘ کہتے ہیں، اور جن پر الزام ہے کہ انھوں نے اکتوبر 2023 سے مئی 2025 کے درمیان 26 کروڑ ڈالر سے زیادہ چرائے۔
استغاثہ کے مطابق انھوں نے کرپٹو رکھنے والے مالدار افراد کو ہیک شدہ ڈیٹا بیس استعمال کر کے نشانہ بنایا اور متاثرین کواپنے کوائنز منتقل کرنے کے لیے یہ کہتے ہوئے قائل کیا وہ کرپٹو کرنسی ایکسچینجز ہیں۔
AFP via Getty Images’سوشل انجینئرنگ انٹرپرائز‘ نامی گینگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے چوری شدہ کرپٹو کرنسی پرائیویٹ جیٹس اور دیگر لگژری اشیا کی خریداری پر خرچ کی
استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ کچھ کیسز میں اس گینگ نے گھروں میں زبردستی داخل ہو کر وہ ہارڈویئر چرایا جس میں کرپٹو کے پاس ورڈ موجود تھے۔
ڈکیتیاں اور لوٹ مار اتنی عام ہو گئی ہیں کہ اب کرپٹو کمیونٹی میں ان کے لیے ایک اصطلاح ’رینچ اٹیکس‘ کے نام سے موجود ہے۔ اس میں مجرم متاثرین کو رینچ یا سپینر سے دھمکاتے ہیں۔
گذشتہ اپریل میں سپین میں کرپٹو میں فراڈ کرنے والے مجرموں نے ایک مرد اور عورت کو اپنی کرپٹو کرنسی سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔
سپین کی پولیس کے مطابق اس شخص کو ٹانگ میں گولی ماری گئی اور وہ اپنی ساتھی کے ساتھ کئی گھنٹوں تک یرغمال رہا جبکہ مجرم ان کے کرپٹو والٹس تک رسائی کی کوششوں میں مصروف رہے۔ بالآخر عورت کو رہا کر دیا گیا لیکن اس کا ساتھی لاپتا رہا جس کی لاش بعد میں جنگل سے ملی۔
اس کیس کے سلسلے میں سپین میں پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ ڈنمارک میں مزید چار افراد پر فردِ جرم عائد کی گئی۔
فرانس میں بھی کئی ایسے ہی واقعات پیش آئے ہیں جن میں ایک موقع پر اغوا کی کوشش کو ویڈیو میں ریکارڈ بھی کیا گیا۔
French social mediaپیرس میں ایک گینگ نے کرپٹو کرنسی کے ایک ایگزیکٹو کی بیٹی اور کم عمر نواسے کو اغوا کرنے کی کوشش کی تھی
سنہ 2025 کے اوائل میں ایک اور واقعہ پیش آیا جب کرپٹو کرنسی سکیورٹی کمپنی لیجر کے شریک بانی ڈیوڈ بالینڈ اپنی اہلیہ کے ہمراہ فرانس کے وسطی علاقے میں واقع اپنے گھر سے اغوا کر لیے گئے۔
چند دن بعد پولیس نے انھیں بازیاب کرا لیا لیکن بھتہ وصولی کی کوشش کے دوران ڈیوڈ بالینڈ کی ایک انگلی کاٹ دی گئی۔
مئی میں ایک الگ ’رینچنگ‘ واقعے میں بالینڈ کے والد کو بھی اغوا کیا گیا اور اگرچہ انھیں بازیاب کرا لیا گیا مگر مجرموں نے ان کے ہاتھ کی بھی ایک انگلی کاٹ دی۔
پاکستان میں کرپٹو کونسل کے قیام کی ضرورت کیوں پیش آئی اور یہ ملک کے لیے کتنا فائدہ مند ثابت ہو گا؟’دولت کی دیوی‘: چینی خاتون نے فراڈ کے ذریعے اربوں ڈالر کی کرپٹو کرنسی کیسے حاصل کی اور ان کی گرفتاری کیسے عمل میں آئی؟ایک گھنٹے میں 23 کروڑ ڈالر کے ڈیجیٹل اثاثے غائب: انڈیا میں کرپٹو کرنسی کی سب سے بڑی چوری کا معمہکرپٹو کرنسی کو ہر کوئی سمجھ سکتا ہے مگر اس کا استعمال ہر کسی کے بس کی بات نہیں!
یہ طے کرنا مشکل ہے کہ ’رینچ اٹیکس‘ کتنے عام ہیں کیونکہ ان میں سے بہت کم ہی رپورٹ ہو پاتے ہیں۔
لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس نوعیت کی چوریاں انفرادی کرپٹو چوری کے بڑھتے ہوئے مسئلے کا ایک چھوٹا حصہ ہیں۔
زیادہ تر مجرم آزمودہ اور قابلِ اعتماد ہیکنگ یا فراڈ کے طریقوں پر انحصار کرتے ہیں جو اب اس لیے مزید آسان ہو گئے ہیں کہ کمپنیوں پر بڑے پیمانے کے سائبر حملوں میں بے پناہ ڈیٹا چوری ہو چکا ہے۔
گذشتہ ماہ کرپٹو ایکسچینج کوائن بیس نے اعلان کیا کہ ان کے ایک ملازم کو صارفین کا ڈیٹا چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
’بٹ کوائن کے سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافہ‘
ہِیون نامی کرپٹو سکیورٹی فرم کے بانی میتھیو جونز کہتے ہیں کہ ’ڈیٹا ایک عام مسئلہ ہے کیونکہ بِٹ کوائن کے کروڑ پتی اب اتنے عام ہوتے جا رہے ہیں اور چوری شدہ ڈیٹا بیس مسلسل اہداف میں اضافہ کر رہے ہیں۔‘
یاد رہے کہ ہیون وہ کمپنی ہے جو گوچی اور بالینسیاگا جیسی لگژری برانڈز کی مالک ہے۔ بی بی سی سے بات کرنے والے ایک ہیکر کے مطابق کیرنگ میں ہونے والا ایک ڈیٹا لیک اس کی ایک تازہ مثال ہے۔
لاکھوں صارفین کے نام اور رابطے کی تفصیلات کے علاوہ ڈیٹا بیس یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ لوگوں نے شاپنگ کے دوران سٹورز میں کتنی رقم خرچ کی۔
بی بی سی سے بات کرنے والے ہیکر کا کہنا ہے کہ اس نے یہ سپریڈ شیٹس تین لاکھ ڈالر میں خریدیں تاکہ سب سے زیادہ خرچ کرنے والوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ اس نے یہ معلومات ایک اور چوری شدہ ڈیٹا بیس کی تفصیلات کے ساتھ ملا کر استعمال کیں اور اب تک کئی کوائن بیس صارفین کو دھوکہ دے کر کم از کم 15 لاکھ ڈالر مالیت کی کرپٹو چرا لی ہے۔
Getty Imagesہیون وہ کمپنی ہے جو گوچی اور بالینسیاگا جیسی لگژری برانڈز کی مالک ہے
ہیون کے میتھیو جونز کہتے ہیں کہ ان کی اپنی کرپٹو کرنسی بھی چوری ہو چکی ہے اور اسی تجربے نے انھیں اضافی حفاظتی خصوصیات کے ساتھ ایک کرپٹو والٹ تیار کرنے پر آمادہ کیا۔
ان کے مطابق اب مسلسل بایومیٹرک چیکنگ جیسی خصوصیات کی ضرورت ہے تاکہ صرف مالک ہی کوائنز بھیج سکے اور جیو فینسنگ تاکہ کسی کے گھر یا کام کی جگہ کے باہر کوئی ٹرانزیکشن نہ ہو سکے۔
وہ ڈیجیٹل والٹ میں ایک پینک بٹن بھی بنا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’لوگ آج کل کرپٹو میں لاکھوں ڈالر لے کر گھوم رہے ہیں اور والٹس پر اس بات کی کوئی حد نہیں کہ کتنا ذخیرہ کیا جا سکتا ہے یا ایک ہی بار میں کتنا چرایا جا سکتا ہے۔‘
اپنا بینک خود بنیں
میتھیو جونز کا کرپٹو والٹ اس تصور پر مبنی ہے جسے صنعت میں ’سیلف کسٹڈی‘ کہا جاتا ہے۔
ہیون کی ایپ میٹا ماسک اور ٹرسٹ والٹ جیسی ایپس سے ملتی جلتی ہے۔ دیگر کمپنیاں جیسے ٹریزر اور لیجر فزیکل ڈیوائسز فراہم کرتی ہیں جو یو ایس بی میموری سٹک کی طرح ہوتی ہیں لیکن اس کے پیچھے سوچ ایک ہی ہے کہ آپ اپنا خود کا بینک بن سکتے ہیں۔
لیکن اس اضافی آزادی کے ساتھ اضافی خطرہ بھی آتا ہے کیونکہ آپ کے پاس کوئی تحفظ یا سکیورٹی نہیں ہوتی۔
اگر آپ کے کوائنز آپ کے اپنے سیلف کسٹڈی والٹ سے چوری ہو جائیں تو آپ کرپٹو ایکسچینج کے پاس شکایت بھی نہیں لے جا سکتے۔
جونز سے جب پوچھا گیا کہ ’اپنا خود کا بینک بننے‘ کی آزادی بڑھتے ہوئے خطرات سے زیادہ اہم ہے یا نہیں تو جونز نے زور دیا کہ یہ زیادہ اہم ہے۔
انھوں نے اس کے لیے دلیل دی کہ ’بینک اپنے صارفین کے سامنے حقیقی معنوں میں جواب دہ نہیں ہوتے اور ان کے پاس یہ طاقت ہوتی ہے کہ وہ وسیع اور اکثر مبہم وجوہات کی بنیاد پر آپ کا اکاؤنٹ فریز یا بند کر دیں۔‘
وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ انھیں روایتی مالیاتی اداروں کی جانب سے ایسے سوالات پر اعتراض تھا جیسے کہ وہ اکاؤنٹ سے پیسہ کیوں منتقل کر رہے ہیں۔
ہیلن اور رچرڈ نے اپنا سارا کرپٹو اس وقت کھو دیا جب انھوں نے اپنا خود کا بینک بننے کا انتخاب کیا۔ اس نقصان کو خاص طور پر تکلیف دہ بنانے والی بات یہ تھی کہ زیادہ تر رقم رچرڈ کی والدہ کی وفات کے بعد ان کے گھر کی فروخت سے آئی تھی۔
رچرڈ کہتے ہیں کہ ’ہمیں اپنے موسیقی کے آلات اور اپنی گاڑی بیچنی پڑی، اور ہم کچھ وقت کے لیے بے گھر بھی ہو گئے۔‘
پھر بھی وہ کرپٹو کرنسی کو مکمل طور پر چھوڑ نہیں رہے۔ اگر وہ اپنی کھوئی ہوئی رقم واپس حاصل کر لیں یا بچت میں کافی رقم جمع کر لیں تو وہ دوبارہ کرپٹو سرمایہ کاری میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
پاکستان میں کرپٹو کونسل کے قیام کی ضرورت کیوں پیش آئی اور یہ ملک کے لیے کتنا فائدہ مند ثابت ہو گا؟’دولت کی دیوی‘: چینی خاتون نے فراڈ کے ذریعے اربوں ڈالر کی کرپٹو کرنسی کیسے حاصل کی اور ان کی گرفتاری کیسے عمل میں آئی؟ایک گھنٹے میں 23 کروڑ ڈالر کے ڈیجیٹل اثاثے غائب: انڈیا میں کرپٹو کرنسی کی سب سے بڑی چوری کا معمہکرپٹو کرنسی کو ہر کوئی سمجھ سکتا ہے مگر اس کا استعمال ہر کسی کے بس کی بات نہیں!وہ پانچ کرپٹو کرنسیاں جنھیں ٹرمپ ’امریکی ڈیجیٹل ذخیرے‘ کا حصہ بنانا چاہتے ہیںاربوں لوٹنے والی لاپتا ’کرپٹو کوئین‘ زندہ ہیں یا مر گئیں؟