وہ لمحہ جب روسی صدر نے جوہری ہتھیار فعال کرنے والا ’بریف کیس‘ کھول لیا تھا

بی بی سی اردو  |  Jan 20, 2026

سردیوں کے اُس یخ بستہ دن، لگ بھگ ایک گھنٹے تک دنیا نے سرد جنگ کے بدترین اور ڈراؤنے خواب کا سامنا کیا۔

وہ بدھ کی ایک عام سی دوپہر تھی جب شمالی روس کے ریڈار سٹیشنوں پر تعینات فوجی ماہرین نے اپنی سکرینوں پر ایک منحوس نقطہ اُبھرتے ہوئے دیکھا۔ ناروے کے ساحل کے قریب کسی جگہ سے ایک راکٹ داغا گیا تھا جو تیزی سے اُوپر جا رہا تھا۔

یہ راکٹکہاں جا رہا تھا اور کیا اس سے کوئی خطرہ ہو سکتا تھا؟

فضا کی نگرانی کرنے والے روسی ماہرین کے لیے اس کا مطلب بہت خوفناک تھا۔ وہ جانتے تھے کہ ان پانیوں میں موجود کسی امریکی آبدوز سے داغا گیا ایک راکٹ 15 منٹ میں ماسکو تک آٹھ ایٹمی وار ہیڈز پہنچا سکتا ہے چنانچہ فوری طور پر یہ پیغام اعلیٰ افسران کے ذریعے اُس وقت کے روسی صدر بورس یلسن تک پہنچایا گیا۔

بورس یلسن ’جوہری بریف کیس‘ فعال کرنے والے دنیا کے پہلے رہنما بن گئے۔ یہ ایک ایسا بریف کیس ہے جس میں جوہری بموں کو دھماکے سے اڑانے کی ہدایات اور ٹیکنالوجی ہوتی ہے۔

دوسری عالمی جنگ ختم ہونے کے بعد سے جوہری طاقتیں ڈیٹرنس (جوابی حملے کا خوف ہی کسی ملک کو حملہ کرنے سے روکے گا) کی پالیسی پر چل رہی ہیں۔ اس خیال کا مرکز یہ ہے کہ متحارب ممالک نے اگر بڑے پیمانے پر جوہری حملے کیے تو سب کی تباہی یقینی ہے۔

اس لمحے میں یلسن اور ان کے مشیروں کو فوری فیصلہ کرنا تھا کہ جوابی حملہ کیا جائے یا نہیں۔

جیسا کہ اب ہم سب جانتے ہیں کہ واقعات کے اس تشویشناک سلسلے کے آخر میں کوئی تباہی نہیں ہوئی۔ تمام تر کشیدگی کے باوجود یہ واقعہ شام کے خبرناموں میں آخر پر ایک ہلکی پھلکی خبر کے طور پر پیش کیا گیا اور اس کے ساتھ طنزیہ گیت بھی چلایا گیا۔

Getty Imagesاس لمحے میں یلسن اور ان کے مشیروں کو فوری فیصلہ کرنا تھا کہ جوابی حملہ کیا جائے یا نہیں

بی بی سی نیوز نائٹ کے میزبان جیریمی پیکسمین نے کہا کہ ’جانے سے پہلے ہمیں یہ اطلاع دینی چاہیے کہ روسی خبر رساں ادارے کی بھرپور کوششوں کے باجود آج جوہری جنگ نہیں ہوئی۔ دوپہر ایک بج کر 46 منٹ پر اطلاعات آنا شروع ہوئیں کہ روس نے اپنی حدود کی طرف بڑھتا ایک میزائل تباہ کر دیا۔ یہ اطلاعات ماسکو کے خبر رساں ادارے انٹرفیکس کے حوالے سے دی جا رہی تھیں۔ رپورٹرز کو لگا کہ قیامت آنے والی ہے اور وہ فوراً وزارت دفاع سے رابطہ کرنے لگے۔ ایک گھبرائے ہوئے لیکن ثابت قدم ترجمان نے جرات سے کہا کہ ’مجھے پورا یقین ہے کہ برطانیہ نے روس پر کوئی میزائل نہیں داغا۔‘

پینٹاگون کے ترجمان بھی اتنے ہی لا علم تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس تو بس اطلاعات کی اطلاعات ہیں۔‘

دنیا کا کرنسی بازار لڑکھڑا گیا جبکہ سیاست دانوں، عسکری سربراہان اور صحافیوں نے معلومات حاصل کرتے ہوئے گھبراہٹ سے بھرپور گھنٹہ گزارا۔ دوپہر دو بج کر 52 منٹ پر ممکنہ بحران سے آگاہ افراد نے سکھ کا سانس لیا۔ انٹرفیکس نے اپنی رپورٹ کو درست کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ روس کے انتباہی نظام نے ایک میزائل داغے جانے کی نشاندہی کی لیکن وہ راکٹ ناروے کی حدود میں ہی گر گیا۔

بعد میں ناروے کے ایک دفاعی اہلکار نے تصدیق کی کہ راکٹ پرامن مقاصد کے تحت داغا گیا تھا۔ یہ معمول کے سائنسی تحقیقاتی پروگرام کا حصہ تھا، ایک غیر عسکری مرکز سے داغا گیا اور اس کا مقصد شمالی روشنیوں کے بارے میں معلومات جمع کرنا تھا۔

’دشمن کو ڈرانے کے لیے‘ امریکہ کے بعد دنیا میں کن ممالک نے جوہری ہتھیار حاصل کیے اور کون اس دوڑ سے دستبردار ہواروس کے نئے جوہری ہتھیار، حقیقی خطرہ یا پوتن کی خالی خولی دھمکی؟عقيدہِ بيغن: ’دشمن ملک کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے‘ کی اسرائیلی پالیسی کیسے وجود میں آئی؟یوکرین کو جوہری ہتھیار تلف کرنے پر پچھتاوا: ’ہم نادان تھے جو ان پر اعتبار کر بیٹھے‘

شمالی روشنیاں اپنی ہی طرز کا ایک موسمیاتی کرشمہ ہیں، جسے ’ارورا بوریالیس‘ بھی کہا جاتا ہے۔ منصوبے کے مطابق راکٹ روسی فضائی حدود سے بہت پہلے، قطب شمالی کے دور دراز جزیرے سپٹزبرگن کے قریب سمندر میں گرا۔

یہ خبر غلط ثابت ہونے کے کئی گھنٹے بعد نا معلوم روسی عسکری ذرائع نے انٹرفیکس کو بتایا کہ ابھی یہ کہنا ’قبل از وقت‘ ہو گا کہ کیا راکٹ داغنے کا مقصد ان کے پیشگی آگاہی کے ریڈار سسٹم کو چانچنا تھا۔

روس 1987 سے ہی اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں حساس تھا، جب مغربی جرمنی کے نو عمر لڑکے میتھیاس رسٹ نے ایک انجن والے طیارے میں بیٹھ کر سوویت دفاعی نظام کی ہر پرت عبور کی اور روسی فضا میں 750 کلومیٹر تک پرواز کرتے ہوئے کریملن کے دروازوں تک جا پہنچا۔

سرد جنگ اب ختم ہو چکی تھی لیکن یہ واقعہ اس بات کی علامت تھا کہ کچھ روسی حکام جوہری خطرے کے بارے میں پریشان تھے۔

Getty Imagesناروے نے شمالی روشنیوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے کے لیے راکٹ داغا تھا

ناروے کے سائنس دان کولبیورون اڈولفسن اُس وقت ایک میٹنگ میں تھے جب گھبراہٹ بھرے فون آنے شروع ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ ہماری معمول کی فائرنگ کو کس قدر توجہ ملی تو میں خوفزدہ ہو گیا۔‘

اس سے بھی حیرانی کی بات یہ تھی کہ ناروے نے میزائل لانچ کرنے کا منصوبہ کئی ہفتے پہلے ہی ماسکو کو بتا رکھا تھا۔ اڈولفسن کے مطابق شمالی روشنیوں کی معلومات جمع کرنے کے لیے کوئی راکٹ پہلی بار 908 میل کی بلند ترین سطح پر گیا تھا اور روسیوں کے ردعمل کی وجہ بھی غالباً یہی تھی۔

تاہم انھوں نے کہا کہ کسی کو بھی اس بات پر حیرانی نہیں ہونی چاہیے تھی کیونکہ ’ناروے کی وزارت خارجہ کے ذریعے 14 دسمبر کو ہی تمام متعلقہ ممالک تک یہ پیغام پہنچا دیا گیا تھا کہ ہم راکٹ داغیں گے۔‘

پھر بھی کسی وجہ سے یہ انتباہی پیغام وہاں نہ پہنچ سکا جہاں پہنچنا چاہیے تھا۔ یہ اس بات کی سنجیدہ یاد دہانی تھی کہ چھوٹا سا پیغام بھی نظر انداز ہو جائے تو نتائج کس قدر تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

ایٹمی دور کے آغاز سے ہی ایسے کئی مواقع آ چکے ہیں جب دنیا تباہی کے بہت قریب پہنچ گئی۔ ایسے واقعات کی تعداد اتنی ہے کہ زیادہ سوچنے پر گھبراہٹ ہونے لگے۔

یہ 1962 کے کیوبا میزائل بحران جیسے بڑے واقعات نہیں، شاید اُس وقت امریکہ اور روس کی سرد جنگ ایک مکمل ایٹمی جنگ کے بالکل قریب پہنچ گئی تھی۔

سنہ 2020 میں بی بی سی فیوچر نے وہ واقعات رپورٹ کیے تھے کہ کیسے ہجرت کرتے ہنسوں، کمپیوٹر میں خرابی یا خلائی موسم کی وجہ سے بھی الارم بج اٹھے۔

سنہ 1958 میں ایک طیارے نے غلطی سے ایک خاندان کے باغ میں جوہری بم گرا دیا، خوش قسمتی سے صرف ان کی مرغیاں ہی ہلاک ہوئیں۔

سنہ 1966 میں دو امریکی فوجی طیارے سپین کے دور دراز کے ایک گاؤں میں ٹکرا گئے، ان میں سے ایک میں چار جوہری ہتھیار موجود تھے۔

قریب کا ایک واقعہ تو سنہ 2010 میں پیش آیا، جب امریکی فضائیہ اپنے 50 میزائلوں سے رابطہ کھو بیٹھی۔ اس کے بعد نہ تو ان کا پتہ لگانا ممکن تھا نہ خودکار لانچ روکنے کا کوئی طریقہ تھا۔

Getty Imagesروسی صدر بورس یلسن نے ’جوہری بریف کیس‘ کھولنے کا اعلان کیا تو بہت سے لوگوں نے اسے دکھاوا قرار دیا خطرناک لمحہ

اُس وقت روس میں بہت سے لوگوں نے یلسن کا یہ اعلان محض دکھاوا قرار دے کر مسترد کر دیا کہ انھوں نے پہلی بار ایٹمی بریف کیس استعمال کیا تھا۔

روسیوں کے خیال میں یہ دعویٰ چیچن جنگ سے توجہ ہٹانے کی کوشش تھی۔ اگلے روز یلسن نے انٹرفیکس نیوز ایجنسی کو بتایا تھا کہ ’میں نے واقعی کل پہلی بار اپنا ’سیاہ‘ بریف کیس استعمال کیا جس میں وہ بٹن ہوتا ہے جو ہمیشہ میرے ساتھ رکھا جاتا ہے۔ شاید کسی نے ہمیں آزمانے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ میڈیا تو ہر وقت ہماری فوج کو کمزور بتاتا رہتا ہے۔‘

نیوز نائٹ کی رپورٹ شاید ہلکے پھلکے انداز میں پیش کی گئی ہو لیکن اس واقعے کی سنگینی کے بارے میں آرا مختلف ہیں۔

امریکی انٹیلیجنس ادارے سی آئی اے کے ایک اہلکار کے مطابق یہ ’ایٹمی میزائل دور کا سب سے خطرناک لمحہ تھا۔‘

فوجی مشیر پیٹر پرائے نے لکھا کہ ’اس سے پہلے جوہری طاقت رکھنے والے کسی ملک کے سربراہ نے جوہری بریف کیس کا روسی متبادل اتنی سنجیدگی سے نہیں کھولا تھا، ایسی صورت حال میں جہاں خطرہ حقیقی محسوس ہو رہا ہو اور قیامت خیز جنگ فوری طور پر شروع کرنے کا فیصلہ ممکن ہو۔‘

پاول پوڈوگ ایٹمی اسلحہ کم کرنے پر تحقیق کرنے والے محقق ہیں اور اقوام متحدہ کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگر میں ان واقعات کی درجہ بندی کروں تو شاید اسے 10 میں سے تین نمبر دوں۔ سرد جنگ کے دوران اس سے کہیں زیادہ سنگین واقعات پیش آ چکے ہیں۔‘

ان کا یہ بھی خیال ہے کہ جوہری بریف کیس والی کہانی یلسن کے لیے اگلے روز گھڑی گئی۔

روس سے تعلق رکھنے والے جوہری امور کے ماہر ولادیمیر دوورکن کہتے ہیں کہ ناروے کے اس انتباہ میں کوئی خطرہ نہیں تھا۔ ’بالکل بھی نہیں۔۔۔‘

سنہ 1998 میں انھوں نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ ’خطرے سے آگاہ کرنے والا نظام اگر کسی بڑے خطرے کی نشاندہی کر بھی رہا ہو، تب بھی کوئی بھی شخص کوئی فیصلہ نہیں کرے گا، کوئی ایسا نا معقول رہنما بھی نہیں جو گھبراہٹ میں یہ سمجھے کہ میزائل داغ دیا گیا۔ میرا خیال میں یہ الارم بے بنیاد تھا۔‘

واقعے کے پانچ دن بعد بی بی سی ریڈیو کے خبر ناموں میں بتایا گیا کہ روس نے اس انتباہ کا ذمہ دار ’ایک غلط فہمی‘ کو ٹھہرایا، ایسی غلط فہمی جس کا دوبارہ ہونا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

نارویجیئن وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ انھوں نے ایک معمول کے طریقہ کار کے مطابق عمل کیا تھا اور ان کے خلاف کوئی بھی بد گمانی نہیں ہونی چاہیے۔

اگرچہ تباہی ٹل گئی تھی لیکن یہ بات اب بھی تشویشناک ہے کہ موسمیاتی تحقیق کے لیے بھیجا گیا ایک بے ضرر سا راکٹ اس قدر گھبراہٹ کا سبب بن سکتا ہے۔

یوکرین کو جوہری ہتھیار تلف کرنے پر پچھتاوا: ’ہم نادان تھے جو ان پر اعتبار کر بیٹھے‘مسافروں کو ناردرن لائٹس دکھانے کے لیے پائلٹ نے جہاز گھما دیاایرانی جوہری پروگرام کے تناظر میں پاکستان، پرویز مشرف اور ڈاکٹر عبدالقدیر کا تذکرہ: پوتن، بُش ملاقاتوں میں کیا بات ہوئی؟کیا پاکستان واقعی ایسا میزائل بنا سکتا ہے جو امریکہ تک پہنچ جائے؟شمالی سویڈن کا ’بلیو ہول‘ جو قطب شمالی کی روشنیوں کے نظارے کے لیے دنیا کا بہترین مقام ہےوہ شخص جس نے پوتن کی صدر بننے میں مدد کی
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More