ہر سال لاکھوں کاریں تیار کرنے والا یہ چھوٹا سا ملک آٹو انڈسٹری کا بڑا کھلاڑی کیسے بنا؟

بی بی سی اردو  |  Jan 22, 2026

برف سے ڈھکی پہاڑیوں کے درمیان ایک بڑی فیکٹری ہے، جہاں ایک مشین کاروں کے لوہے کے ڈھانچے کو اسمبلنگ لائن پر رکھتی ہے تاکہ ان کی تیاری شروع ہو سکے۔

یہ سٹیل کے ڈھانچے ابھی ابھی روبوٹس کی مدد سے ویلڈ کیے گئے ہیں۔ فیکٹری میں ایسے 690 روبوٹ دن رات بس گاڑیوں کے دھانچے بنانے میں مصروف ہیں۔

لیکن کہانی بس اتنی نہیں۔ اگلے مرحلے میں سرخ پتلون اور سفید ٹی شرٹس میں ملبوس انسانوں کی ایک فوج ان بے جان ڈھانچوں کو مکمل کاروں میں بدل دیتی ہے۔ ہر منٹ ایک نئی گاڑی اپنی ہیڈ لائٹس جلا کر اسمبلنگ لائن سے باہر نکلتی ہے، جیسے زندگی کی نئی کرن۔

یہ منظر ہے اس یورپی فیکٹری کا جو کورین کمپنی ’کیا‘ (Kia) نے سلواکیا کے شمالی شہر ژیلینا کے قریب قائم کی۔ کمپنی کے مطابق یہ سرمایہ کاری 2.5 ارب یورو (تقریباً 2.9 ارب ڈالر) ہے۔

سلواکیا صرف ’کیا‘ گاڑیوں کا ہی گھر نہیں بلکہ اس زمین پر ووکس ویگن بھی کاریں تیار کرتا ہے۔ اسی طرح سٹیلانٹس (جو پہلے پیجو سٹرون، فیاٹ اور کرائسلر تھا) اور جیگوار لینڈ روور بھی یہاں کاریں بناتے ہیں۔ وولوو سنہ 2027 میں یہاں الیکٹرک کار فیکٹری قائم کر رہا ہے۔

یہ چھوٹا سا ملک جس کی آبادی صرف 54 لاکھ ہے، ہر سال تقریباً 10 لاکھ کاریں تیار کرتا ہے یعنی دنیا میں فی کس سب سے زیادہ کاریں بنانے والا ملک۔

یہ کہانی صرف ایک فیکٹری کی نہیں بلکہ اس بات کی نشاندہی بھی ہے کہ کس طرح ایک چھوٹا یورپی ملک عالمی آٹو انڈسٹری کا بڑا کھلاڑی بن گیا۔

کاروں کی فیکٹریوں کی دنیا میں کچھ کہانیاں ایسی ہیں جو صرف مشینوں کے شور میں نہیں چھپتیں بلکہ انسانوں کے خواب اور محنت کی گواہی دیتی ہیں۔

سلواکیا کے شہر ژیلینا میں قائم ’کیا‘ کی فیکٹری میں 3,700 افراد کام کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک ہیں 48 برس کے مارسل پکھون۔

مارسل کہتے ہیں کہ ’بچپن سے ہی مُجھے گاڑیوں سے جنون کی حد تک عشق تھا۔ آج میں اس ٹیم کا حصہ ہوں جو کاریں بناتی ہے اور یہ میرے لیے خواب کا حقیقت ہو جانا ہے۔‘

مارسل نے شمالی آئرلینڈ اور انگلینڈ میں زندگی گزاری مگر آخرکار اپنے وطن لوٹ آئے تاکہ اس فیکٹری میں کام کر سکیں۔

اسی فیکٹری کے ایک اور حصے میں، جہاں دروازوں کی انسولیشن لگائی جاتی ہے، ہماری ملاقات 23 برس کی سیمونا کرنووا سے ہوئی۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ وہ کام ہے کہ جو وہ کرنا چاہتی تھیں۔ انھوں نے کہا کہ ’میرا آدھا خاندان یہاں کام کرتا ہے، اس لیے میں نے بھی یہاں آنے کا ہی سوچا۔ مجھے یہاں کے لوگ پسند ہیں۔‘

سیمونا کی تنخواہ فی الحال 1300 یورو ماہانہ ہے، جو دیگر کمپنیوں کے مقابلے میں بہتر ہے۔ سیمونا کو اس بات پر فخر ہے کہ سلواکیا اتنی بڑی تعداد میں کاریں تیار کرتا ہے۔

پاکستان میں گاڑیوں کی درآمد کی ’پرسنل بیگیج‘ سکیم کا خاتمہ: کیا اب چھوٹی جاپانی گاڑیاں آنا بند ہو جائیں گی؟’سب سے سستا فلیٹ ایک ارب روپے کا‘: لگژری گاڑیوں کی کمپنی جو دبئی میں فلک بوس عمارت بنا رہی ہےپاکستان میں آٹو کمپنیاں گاڑیوں پر لاکھوں روپے کے ڈسکاؤنٹ اور آسان قرضوں کی آفرز دینے پر کیوں مجبور ہوئیں؟پاکستان کے وزیر اعظم اور صدر کو تحفے میں ملنے والی ترک الیکٹرک کار جو اردوغان کے ’خواب کی تعبیر ہے‘

یہ کہانیاں ہمیں بتاتی ہیں کہ کاروں کی صنعت صرف مشینوں کی طاقت نہیں بلکہ انسانوں کی محنت، خواب اور فخر کا بھی دوسرا نام ہے۔

’کیا‘ کے اس پلانٹ پر کام کرنے والا ہر فرد ہی سلواکیا سے تعلق رکھتا ہے۔ صرف درجن بھر سینیئر مینیجر کوریا سے ہیں اور انھوں نے اپنے رہنے کے لیے گاؤں کے مضافات میں چند کلومیٹر دور آبادی بنائی، حفاظت کی خاطر جس کے چاروں طرف دیوار ہے۔

جب سلواکیا چیکوسلواکیا سوشلسٹ ریپبلک کا حصہ تھا، تو یہاں تیار کی گئی گاڑیاں مغربی معیار کے لحاظ سے ناقص، زیادہ شور کرنے والی، زیادہ ایندھن خرچ کرنے والی اور سست رفتار سمجھی جاتی ہیں۔

BBCمارسل نے شمالی آئرلینڈ اور انگلینڈ میں زندگی گزاری مگر آخرکار اپنے وطن لوٹ آئے تاکہ اس فیکٹری میں کام کر سکیں

لیکن 1989 کے انقلاب نے کمیونسٹ رہنماؤں کو رخصت کر دیا اور وولکس ویگن نے 1991 میں یہاں کی کار بنانے والی کمپنی سکوڈا میں سرمایہ کاری شروع کر دی۔ سنہ 2000 میں وہ اس کمپنی کی مالک بن چکی تھی۔

سنہ 1993 میں چیکوسلواکیا دو نئی ریاستوں میں تقسیم ہوا، چیک ری پبلک اور سلواکیا۔ کاریں بنانے والی دیگر بین الاقوامی کمپنیوں نے بھی ان نئی ریاستوں میں سرمایہ کاری شروع کر دی۔

کاریں بنانے والی صنعت کے ماہر پیٹر پروکوپ کہتے ہیں کہ اس وقت سلواکیا میں مزدوری کی لاگت جرمنی کے مقابلے میں صرف 20 فیصد تھی۔

پروکوپ، جرمنی میں قائم اس کاروباری فرم کے سربراہ ہیں جو آٹوموٹو شعبے میں مشورے فراہم کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لاگت کے اعتبار سے سلواکیا کو اب بھی برتری حاصل ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف اب بھی آپ کے ہاں مزدوروں کی اجرت کم ہے، میں تو کہوں گا کہ مغربی اجرتوں کے تقریباً 60 فیصد کے برابر لیکن ساتھ ہی پیداواری صلاحیت بھی بہت زیادہ ہے۔ اس لیے یقیناً یہ مسابقتی ہے۔‘

’کیا‘ کی اسمبلی لائن میں مزید آگے ایک مشین ہے جو گاڑیوں میں ائیرکنڈیشننگ کا نظام نصب کرتی ہے۔ جب وہ مشین آگے بڑھتی ہے تو لوگوں کو راستے سے ہٹانے کے لیے موسیقی کی دھن بجاتی ہے۔ بہت سی گاڑیوں میں سٹیئرنگ ویل دائیں جانب ہے، جیسے برطانیہ میں ہوتا ہے۔

فیکٹری میں تیار کی گئی گاڑیوں کے لیے بڑی منڈی برطانیہ ہی ہے، جہاں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی گاڑیوں میں ’کیا‘ کا نمبر چوتھا ہے۔ اس سے پہلے وولکس ویگن، بی ایم ڈبلیو اور فورڈ آتی ہیں۔

AFP via Getty Imagesسلواکیا کا ایک اور اہم فائدہ ایسے افراد یا اداروں کا وسیع نیٹ ورک ہے جو کاروں کی صنعت میں استعمال ہونے والا خام مال فراہم کرتے ہیں

برطانیہ کے بعد یورپ میں ’کیا‘ گاڑیوں کے لیے بڑی منڈیاں سپین، اٹلی اور جرمنی ہیں۔

یورپ میں ’کیا‘ کے چیف ایگزیکٹو مارک ہیڈرچ کہتے ہیں کہ سلواکیا میں گاڑیاں بنانے والی صنعت کو یہ بھی فائدہ ہے کہ ملک ایک مرکزی مقام پر واقع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سلواکیا حقیقتاً یورپ کے دل میں ہے، بڑی منڈیوں سے بہت اچھے انداز سے جڑا ہوا۔‘

آبی سے لے کر جوہری تک، سلواکیا میں توانائی پیدا کرنے کے لیے جو ذرائع استعمال ہوتے ہیں، وہ بہت ہی کم کاربن خارج کرتے ہیں۔ قابل تجدید توانائی کے بڑھتے استعمال کا یہ مطلب بھی ہے کہ اس ملک میں تیار ہونے والی الیکٹرک گاڑیاں حکومتوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی رعایتوں کے لیے زیادہ اہل ہوتی ہیں۔ اس کی ایک مثال برطانیہ کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کے لیے فراہم کی جانے والی گرانٹ ہے۔

سلواکیا کا ایک اور اہم فائدہ ایسے افراد یا اداروں کا وسیع نیٹ ورک ہے جو کاروں کی صنعت میں استعمال ہونے والا خام مال فراہم کرتے ہیں۔ تقریباً 360 کمپنیاں کاروں کی صنعت کے لیے کام کرتی ہیں۔

مارک ہیڈرچ کہتے ہیں کہ ’سپلائرز کی تعداد بہت زیادہ ہے، اور یہ بہت اہم ہے۔‘

’کیا‘ ان تفصیلات میں نہیں جانا چاہتی تھی کہ سنہ 2006 میں سلواکیا میں پیداوار شروع کرنے کے لیے اسے حکومت سے کتنی امداد ملی۔

اس کے باوجود مارک ہیڈرچ نے یہ ضرور بتایا کہ پیداواری لائن کو برقی گاڑیوں کے لیے تبدیل کرنے پر کمپنی کو دو کروڑ 90 لاکھ یورو کی ٹیکس چھوٹ ملی تھی جبکہ اس منصوبے کی کل لاگت 10 کروڑ آٹھ لاکھ یورو تھی۔

سلواکیا کی حکومت کار ساز کمپنیوں کو یہ مراعات اس لیے دیتی ہے کیونکہ اس سے ملکی معیشت کو بے پناہ فائدہ پہنچتا ہے۔

شہر کے میئر پیٹر فیابانے کہتے ہیں کہ ’کیا کا شکریہ کہ اس کی وجہ سے بے روزگاری بہت زیادہ کم ہوئی اور ژیلینا خطے کی معاشی طاقت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ آج 20 ہزار سے زیادہ افراد ’کیا‘ اور اُن دیگر کمپنیوں میں ملازم ہیں جو پیداواری سلسلے میں ’کیا‘ سے منسلک ہیں۔

مارک ہیڈرچ سلواکیا میں دستیاب کارکنوں کے معیار کی طرف بھی اشارہ کرتے ہے۔ ژیلینا کے تکنیکی تربیت فراہم کرنے والے سکول میں 100 کے قریب طلبہ ’کیا‘ کے اس پروگرام میں شامل ہیں جو انھیں پڑھائی کے ساتھ ساتھ فیکٹری میں کام کرنے کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔

ژیلینا کی ایک اور یونیورسٹی سے فارغ التحصل ہونے والے تقریباً 400 کے قریب طلبہ کو ہر سال کاریں بنانے والی صنعت سے منسلک نوکریاں ملتی ہیں۔

سلواکیا اگرچہ اس میدان میں سب سے آگے ہے، مغربی اور ایشیائی ممالک کے کار ساز سابق مغربی بلاک سے تعلق رکھنے والے ممالک میں بھی اپنی صنعتیں لگا رہے ہیں۔ چیک ریپبلک میں ہنڈائی، ٹویوٹا اور وولکس ویگن ہیں، جبکہ پولینڈ میں ٹویوٹا، سٹیلانٹس اور وولکس ویگن ہیں۔

اسی طرح ہنگری میں اوڈی، مرسڈیز بینز اور سوزوکی کی فیکٹریاں قائم ہیں۔ رومانیہ میں فورڈ اور رینالٹ موجود ہیں اور سربیا میں فورڈ۔ ان سب کمپنیوں کو کم اجرتوں، صنعتی روایت اور تعلیم یافتہ افرادی قوت کی وجہ سے یہ خطہ اپنی طرف کھینچتا ہے۔

پاکستان میں گاڑیوں کی درآمد کی ’پرسنل بیگیج‘ سکیم کا خاتمہ: کیا اب چھوٹی جاپانی گاڑیاں آنا بند ہو جائیں گی؟’سب سے سستا فلیٹ ایک ارب روپے کا‘: لگژری گاڑیوں کی کمپنی جو دبئی میں فلک بوس عمارت بنا رہی ہےپاکستان میں آٹو کمپنیاں گاڑیوں پر لاکھوں روپے کے ڈسکاؤنٹ اور آسان قرضوں کی آفرز دینے پر کیوں مجبور ہوئیں؟الیکٹرا میٹرو: پاکستان میں سستی الیکٹرک ’گاڑیوں‘ کے خریداروں کو کِن چیزوں پر سمجھوتہ کرنا ہو گا؟لاہور میں ’ٹیسٹ ڈرائیو کے بہانے‘ کار چوری: آن لائن اشتہار کے ذریعے گاڑی فروخت کرتے وقت اِن چیزوں کا خیال رکھیں!پاکستان کے وزیر اعظم اور صدر کو تحفے میں ملنے والی ترک الیکٹرک کار جو اردوغان کے ’خواب کی تعبیر ہے‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More