پی ایس ایل میں ’ملتان سلطانز‘ کی واپسی: نئی فرنچائز سیالکوٹ سٹالینز کا نام تبدیل کیوں کیا گیا؟

بی بی سی اردو  |  Mar 03, 2026

پاکستان سپر لیگ کی نئی فرنچائز سیالکوٹ سٹالینز کا نام تبدیل کرنے سے ٹورنامنٹ میں پھر سے ’ملتان سلطانز‘ کی واپسی ممکن ہوئی ہے۔

پاکستان سپر لیگ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمان نصیر نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’گوہر شاہ نے سیالکوٹ سٹالینز کا نام بدلنے کی درخواست کی۔ اس کے بعد سیالکوٹ سٹالینز کا نام بدل کر ملتان سلطانز رکھ دیا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں یہ گنجائش رکھی گئی تھی کہ ’چھ ناموں میں سے کوئی ایک نام رکھا جا سکتا ہے۔‘

سیالکوٹ سٹالینز کے نام کی تبدیلی کے بعد ملتان سلطانز کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک تشہیری ویڈیو شیئر کی گئی جس میں پہلے ایک گھوڑا دیکھا گیا ہے اور بعد میں پھر اس پر ایک گھڑ سوار کو بھی دکھایا گیا ہے۔

اس کے ساتھ یہ لکھا آتا ہے کہ ’ایک سٹالین کو ہمیشہ ایک سلطان کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

پاکستان سپر لیگ کے سی ای او سلمان نصیر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پی ایس ایل کا پہلا میچ 26 مارچ کو حیدر آباد کنگز مین اور لاہور قلندرز کے درمیان لاہور میں ہوگا اور پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب بھی لاہور میں ہوگی۔

لاہور میں ایچ بی ایل پی ایس ایل کے سی ای او کے ساتھ پریس کانفرنس میں گوہر شاہ نے کہا کہ ’میری خواہش تھی کہ ملتان سلطانز پی ایس ایل میں رہے اور یہ میرے لیے بڑا ضروری تھا۔ کرکٹ اس انداز میں کھیلی جائے کہ جو پاکستان کرکٹ کی ضرورت ہے۔‘

انسٹاگرام پر ایک پیغام میں ملتان سلطانز کے نئے مالک کا کہنا ہے کہ وہ اس ٹیم پر اتنی محنت کرنے پر ترین فیملی کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔

سیالکوٹ سٹالینز کا نام تبدیل کیوں کیا گیا؟

پی ایس ایل کے سی ای او سلمان نصیر نے نئی فرنچائز سیالکوٹ سٹالینز کے لیے کامیاب بولے لگانے والے حمزہ مجید کے ہمراہ لاہور میں ایک پریس کانفرنس کی۔

اس دوران حمزہ مجید کا کہنا تھا کہ پی سی بی اور پی ایس ایل کی منظوری سے ان کی کمپنی اوزی ڈیویلپرز اور سی ڈی وینچرز کے درمیان ایک ’سٹریٹیجک پارٹنر شپ‘ طے پا گئی ہے۔

سی ڈی وینچرز برطانوی اور پاکستانی شراکت داروں پر مشتمل ایک کمپنی ہے جو سابقہ ملتان سلطانز کی نیلامی کے دوران پہلی مرتبہ پی ایس ایل کی نیلامی کا حصہ بنی تھی۔ تاہم اسے اس وقت کامیابی نہیں ملی تھی۔

مگر اب حمزہ مجید نے کہا کہ ’سی ڈی وینچرز کے گوہر شاہ کے ساتھ ہماری سٹریٹیجک پارٹنر شپ ہوگئی ہے اور گوہر شاہ فرنچائز کے سی ای او ہوں گے۔‘

پاکستان سپر لیگ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمان نصیر نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ’ملتان سلطانز کی ویلیو بڑھ کر دو ارب روپے سالانہ ہوگئی ہے۔‘

ملتان سلطانز دو ارب 45 کروڑ میں فروخت، نیا نام’راولپنڈی‘ اور علی ترین کی مایوسی: ’آج ایک اور شخص نظام کے ہاتھوں ہار گیا‘پی ایس ایل نیلامی: نسیم شاہ سب سے مہنگے کھلاڑی، لاہور کی حارث رؤف اور فخر زمان کے لیے سات کروڑ سے زیادہ کی کامیاب بولی

ملتان سُلطانز کے نئے سی ای او گوہر شاہ کی جانب سے فرنچائز کے نام کی تبدیلی کے بعد اپنے ایک بیان میں جنوبی پنجاب کے کرکٹ شائقین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’مُجھے یہ بات آپ سب کو بتاتے ہوئے انتہائی خوشی ہو رہی ہے کہ ہماری ہر دل عزیز ٹیم مُلتان سُلطانز ایک مرتبہ پھر پی ایس ایل میں کم بیک کر رہی ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’آج مُجھے اس موقع پر اپنے آبائی علاقے جلال پُور پیر والا کے ایک سکول کے میدان میں ہونے والے اُس میچ کی یاد آرہی ہے کہ جس میں جلال پور پیر والا اور بورے والا کی ٹیمیں مدِ مقابل تھیں۔ میچ کو دیکھنے کے لیے آنے والے شائقین کا جوش اور جذبہ میچ کی آخری بال تک برقرار رہا اور آج تک وہ لمحات میرے ذہن میں موجود ہیں۔‘

گوہر شاہ کا مزید کہنا تھا کہ ’فرنچائز کو حاصل کرنے کے میرے دو مقاصد ہیں۔ پہلا یہ کہ کرکٹ سے متعلق اپنی وراثت کو تحفظ فراہم کیا جائے اور دوسرا یہ کہ اس کھیل کو بلند مقام تک پہنچانے کے لیے محنت کی جائے گی۔‘

اپنے پیغام کے آخر پر انھوں نے اپنے فینز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اب اس وقت میں ہمیں آپ سب کی سپورٹ یعنی حمایت کی ضرورت ہے۔‘

سابقہ ملتان سلطانز جس کا نام راولپنڈی رکھا گیا تھا

یاد رہے کہ پی ایس ایل میں ملتان سُلطانز وہ ٹیم تھی کہ جس کا نام اکثر ہی خبروں میں رہا۔ کبھی مالکان کی تبدیلی کو لے کر تو کبھی ٹیم کے نام کی تبدیلی کی وجہ سے۔

واضح رہے کہ نو فروری کو پی ایس ایل کی فرنچائز ملتان سلطانز کی نیلامی کا عمل مکمل ہوا تھا اور اسے خریدنے والی کمپنی ’ولی ٹیکنالوجیز‘ نے اسے دو ارب 45 کروڑ روپے میں خریدنے کے بعد اس کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔

ٹیم خریدنے میں کامیابی کے بعد ٹیم کے نئے مالک اور ولی ٹیکنالوجیز کے چیف ایگزیکٹو احسن طاہر کا کہنا تھا کہ وہ اس ٹیم کا نام بدل کر راولپنڈی رکھ رہے ہیں۔

یہ وہ مرحلہ تھا جس کے بعد پاکستان سپر لیگ سے ملتان سلطانز کا نام غائب ہو گیا تھا۔

ملتان سلطانز اور علی ترین کے درمیان فرنچائز معاہدہ 31 دسمبر کو ختم ہوا تھا۔ پی سی بی نے علی ترین سے فرنچائز فیس 1.1 ارب روپے سے بڑھا کر 1.375 ارب روپے کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم علی ترین نے اس پر ٹیم چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آزادانہ ویلیوایشن میں ملتان سلطانز کی قدر تقریباً 85 کروڑ روپے لگائی گئی تھی، جو اس وقت کی مجوزہ فرنچائز فیس سے بھی کم تھی۔

ابتدا میں پی سی بی نے اصولی طور پر یہ فیصلہ کیا تھا کہ ٹیم کو ایک سیزن کے لیے خود چلایا جائے گا کیونکہ اسی دوران دو نئی فرنچائزز کی فروخت کا عمل جاری تھا۔

تاہم حیدآباد اور سیالکوٹ کی فرنچائزز کی نیلامی میں غیر معمولی دلچسپی اور توقع سے کہیں زیادہ بولیاں موصول ہونے کے بعد پی سی بی نے اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کی۔

دونوں فرنچائزز بالترتیب ایک ارب 75 کروڑ اور ایک ارب 85 کروڑ روپے میں فروخت ہوئیں، جو نہ صرف بورڈ کے اپنے تخمینوں بلکہ مارکیٹ کی توقعات سے بھی کہیں زیادہ تھیں۔

اب سابقہ ملتان سلطانز کا نام تبدیل ہو کر راولپنڈی رکھا گیا ہے اور پی ایس ایل کی نئی ٹیم سیالکوٹ سٹالینز کا نام بدل کر ملتان سلطانز رکھ دیا گیا ہے۔

تاہم اب تک یہ واضح نہیں کہ آیا نئی ملتان سلطانز کے ساتھ بھی علی ترین کی کوئی وابستگی ہو گی۔

ملتان سلطانز دو ارب 45 کروڑ میں فروخت، نیا نام’راولپنڈی‘ اور علی ترین کی مایوسی: ’آج ایک اور شخص نظام کے ہاتھوں ہار گیا‘پی ایس ایل نیلامی: نسیم شاہ سب سے مہنگے کھلاڑی، لاہور کی حارث رؤف اور فخر زمان کے لیے سات کروڑ سے زیادہ کی کامیاب بولیعلی ترین اور ’ملتان سلطانز‘ کو چلانے کا خرچہ: پی ایس ایل کی فرنچائزز پیسہ کیسے کماتی ہیں؟سیالکوٹ کو ’کرکٹ ٹیم کا تحفہ‘ اور حیدر آباد میں ’سٹیڈیم کی تعمیر کا منصوبہ‘: پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کے مالکان کون ہیں؟ملتان سلطانز کی نیلامی کے اشتہار پر علی ترین کا طنز: ’جب آپ کی ایکس کی دوبارہ شادی ہو رہی ہو‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More