زیادہ تر لوگ، لیکن سب نہیں، چاہتے ہیں کہ ایران کے خلاف جاری جنگ جلد سے جلد ختم ہو جائے۔ لیکن ایسا کیسے ہو گا اور کس کی شرائط پر؟ اسی سوال پر رائے منقسم ہے۔
امریکہ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقاصد غیر واضح ہیں جن میں ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے لے کر تمام امریکی اور اسرائیلی مطالبات کی منظوری سمیت ایرانی حکومت کا مکمل خاتمہ بھی شامل رہا ہے۔
اب تک ایران نے نہ تو ہتھیار ڈالے ہیں اور نہ ہی حکومت خاتمے کے قریب دکھائی دی ہے۔ تاہم 16 دن تک جاری رہنے والی بمباری نے ایرانی عسکری طاقت کو بہت حد تک کمزور کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ فروری میں جینیوا میں عمان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان مزاکرات میں جوہری معاملے پر پیش رفت ہو رہی تھی۔ عمان کا کہنا تھا کہ ایران ایسی یقین دہانی دینے پر تیار ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تہران جوہری ہتھیار بنانے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
لیکن ایران بیلسٹک میزائل پروگرام یا خطے میں اپنے حمایتی گروہوں، جیسا کہ یمن کے حوثی باغی اور لبنان میں حزب اللہ، کے معاملے میں بات چیت پر تیار نہیں تھا۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے جنگ کا سب سے بہترین اختتام ایران میں موجودہ نظام کا خاتمہ ہو گا جس کی جگہ ایک ایسی پرامن اور جمہوری حکومت لے جو کسی کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔ لیکن سوموار تک ایسا ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔
امریکہ کے لیے یہ نتیجہ بھی قابل قبول ہو گا کہ جنگ سے متاثرہ ایرانی حکومت اپنے رویے کو بدلنے پر مجبور ہو جائے اور خطے میں عسکری تنظیموں اور گروہوں کی حمایت ختم کر دے۔ مجتبی خامنہ ای کو منتخب کرنے کے بعد ایسا ہوتا بھی ناممکن لگ رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش، تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے اور امریکہ میں پائی جانے والی بے چینی، کہ ملک مشروق وسطی کے ایک اور تنازع میں پھنس رہا ہے، کے باعث صدر ٹرمپ پر اس جنگ کو ختم کرنے کا دباؤ بڑھے گا۔ لیکن اگر تہران میں حکومت باقی رہتی ہے اور اپنے رویے پر قائم رہتی ہے تو ان کے لیے اس جنگ کو ایک ناکام کوشش کے سوا کسی بھی طرح پیش کرنے میں مشکل ہو گی۔
ایران
ایران چاہتا ہے کہ یہ جنگ جلد سے جلد ختم ہو لیکن کسی بھی قیمت پر نہیں یعنی امریکہ کے مطالبات کو مکمل طور پر مان کر بلکل نہیں۔
ایران جانتا ہے کہ ممکنہ طور پر ٹرمپ کے مقابلے میں ان کے پاس زیادہ سٹریٹیجک صبر ہے اور جغرافیہ بھی ان کے حق میں ہے۔
ایران کا ساحل کسی بھی گلف ملک سے طویل ہے اور یہ آبنائے ہرمز میں عالمی شپنگ کو خطرے میں ڈال سکتا ہے جہاں سے عالمی رسد کا 20 فیصد سامان گزرتا ہے۔
امریکی صدر کی جانب سے اس معاملے میں مدد کی درخواست پر مثبت جواب نہیں مل رہا۔ برطانیہ، یورپ اور دیگر ممالک اپنی اپنی بحریہ کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ وہ بھی جب انھوں نے اس جنگ کی شروع سے ہی حمایت نہیں کی۔
’گلف نیٹو‘ کا خواب: خلیجی ممالک کی رقابتیں، امریکی اثر و رسوخ اور پاکستان کا ممکنہ کردارمسلسل میزائل و ڈرون حملے اور معاشی دباؤ: کیا ایران نے امریکہ و اسرائیل کو طویل جنگ میں پھنسا دیا ہے؟امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد ترکی کو کس بات کا خوف ہے؟’اگر وہ زندہ ہیں تو ہم انھیں مار دیں گے‘: نیتن یاہو کی ویڈیو میں ’چھ انگلیاں‘، موت کی افواہیں اور تہران کی دھمکی
سرکاری طور پر ایران کا کہنا ہے کہ اسے یہ مضبوط یقین دہانی چاہیے کہ دوبارہ حملہ نہیں کیا جائے گا جبکہ تہران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں سے پہنچنے والے نقصان کے عوض اربوں ڈالر کے ہرجانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ لیکن تہران شاید جانتا ہے کہ اسے دونوں ہی نہیں مل سکیں گے۔
تاہم ایران کی حکومت اور پاسداران انقلاب کی قیادت کو صرف اس تنازع میں زندہ رہنا ہے جس کے بعد وہ اسے دنیا اور اپنی عوام کے سامنے ایک فتح کے طور پر پیش کر سکیں گے۔
اسرائیل
اس جنگ میں شامل تینوں ممالک، یعنی امریکہ، ایران اور اسرائیل، میں سے صرف ایک ملک ہے جسے اس جنگ کے خاتمے کی بلکل جلدی نہیں ہے۔
اسرائیل چاہتا ہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائل، سٹوریج ڈپو، کمانڈ اور کنٹرول مراکز سمیت ریڈار اور پاسداران انقلاب کے اڈوں کو جتنا ممکن ہو سکتا ہے تباہ کرے۔
جنگ رکتے ساتھ ہی یہ سب دوبارہ تعمیر ہو سکتا ہے اور اسرائیل چاہتا ہے کہ ایران یہ سمجھ لے کہ یہ کام کتنا مہنگا ہو گا کیوں کہ اسرائیلی فضائیہ کسی بھی وقت لوٹ کر دوبارہ یہ سب تباہ کر سکتی ہے۔
اسرائیل ایرانی میزائلوں اور اس کے مشتبہ جوہری پروگرام کو اپنے وجود کے لیے خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس جنگ کے آغاز تک ایران اپنے میزائل اور ڈرون تیار کر رہا تھا۔ تہران نے روس کو شاہد ڈرون مہیا کیے جنھوں نے یوکرین میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔
ایران یورینیئم بھی اس حد تک افزودہ کر چکا ہے جو سول جوہری ضرورت سے زیادہ ہے۔ ان سب کو ملا کر دیکھیں تو اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے لیے یہ ایسا خطرہ ہے جو ناقابل قبول ہے۔
مشرق وسطیٰ
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان کا خیال تھا کہ وہ سمندر کے اس پار ایران کی حکومت کے ساتھ آرام سے رہ سکتے ہیں۔
لیکن اب انھیں اس بات پر غصہ ہے کہ اس جنگ کی مخالفت کرنے کے باوجود انھیں تقریبا روزانہ کی بنیاد پر ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
صرف سوموار کے دن چند گھنٹوں کے دوران سعودی عرب کی حکومت کے مطابق 60 سے زیادہ پروجیکٹائل روکے گئے۔
مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے ایک عہدیدار نے مجھے بتایا کہ ’ایک سرخ لکیر پار کی گئی ہے۔ اب تہران اور ہمارے بیچ اعتماد صفر ہو چکا ہے اور اس کے بعد ان سے تعلقات کی بحالی نہیں ہو سکتی۔‘
’گلف نیٹو‘ کا خواب: خلیجی ممالک کی رقابتیں، امریکی اثر و رسوخ اور پاکستان کا ممکنہ کردار’اگر وہ زندہ ہیں تو ہم انھیں مار دیں گے‘: نیتن یاہو کی ویڈیو میں ’چھ انگلیاں‘، موت کی افواہیں اور تہران کی دھمکیامریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد ترکی کو کس بات کا خوف ہے؟مسلسل میزائل و ڈرون حملے اور معاشی دباؤ: کیا ایران نے امریکہ و اسرائیل کو طویل جنگ میں پھنسا دیا ہے؟خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کے دوران لوگوں نے کیا دیکھا: ’خود کو خطرے سے دور سمجھتے تھے، سوچا نہیں تھا یہ دن دیکھنا پڑے گا‘ایران جنگ کس کے لیے منافع بخش اور کس کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے؟