’بردار ملک‘ سے ’جوابی کارروائی‘ کی دھمکی تک: کیا ’بقا کی جدوجہد‘ میں ایران نے سعودی عرب سے طے پانے والا مصالحتی معاہدہ قربان کر دیا؟

بی بی سی اردو  |  Mar 22, 2026

Getty Images

گذشتہ برس جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد سعودی عرب نے ایران کو نہ صرف اپنا ’برادر ملک‘ قرار دیا تھا بلکہ ان حملوں کو تہران کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دے کر ان کی مذمت بھی کی تھی۔

تجزیہ کاروں کی جانب سے سعودی عرب کے اس ردعمل کو تہران اور ریاض کے درمیان کشیدگی میں کمی سے متعلق ایک ’مثبت‘ اور ’بڑی پیش رفت‘ قرار دیا تھا۔

لیکن صرف نو ماہ بعد اب سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان ایران کو خبردار کر رہے ہیں کہ ’کشیدگی کا جواب کشیدگی سے دیا جائے گا‘ اور یہ کہ دونوں مملک کے درمیان اعتماد کا رشتہ اب ’ٹوٹ‘ چکا ہے۔

ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں گذشتہ 23 روز کے دوران تہران نے سعودی عرب سمیت اپنے دیگر خلیجی پڑوسی ممالک پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون داغے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنی وضاحت میں کہہ چکے ہیں کہ یہ میزائل حملے بردار اسلامی ممالک کے خلاف نہیں بلکہ ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں اور تنصیبات پر کیے جا رہے ہیں۔

ان ایرانی میزائل و ڈرون حملوں کے سبب سنہ 2023 میں چین کی ثالثی میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان طے پانے والا وہ مصالحتی معاہدہ، جس کا مقصد دونوں ممالک میں سفارتی روابط بحال کرنا اور کشیدگی کو بتدریج کم کرنا تھا، اب عملی طور پر ختم ہو چکا ہے۔

19 مارچ کو سعودی وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان کی جانب سے دیا گیا بیان، سعودی عرب کی جانب سے ایران کے حوالے سے ماضی قریب میں اپنائے گئے مؤقف میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اور اس کی دیگر کئی وجوہات بھی ہیں۔

Getty Imagesایران اور سعودی عرب کے درمیان مصالحتی معاہدہ چین کی ثالثی میں طے پایا تھا جس کے بعد دونوں ممالک نے سفارتی تعلقات بحال کر لیے تھے

گذشتہ برس ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں اور اس سے قبل ایران، اسرائیل کی لڑائی کے بعد سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے آٹھ برس کے طویل وقفے کے بعد پہلی مرتبہ واشنگٹن کا دورہ کیا تھا۔ صدر جو بائیڈن کے دور میں سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات میں دراڑ نظر آئی تھی لیکن صدر ٹرمپ کے موجودہ دورِ حکومت میں سعودی ولی عہد کے واشنگٹن کے اس دورے کو ’تعلقات کی بحالی‘ قرار دیا گیا۔

حالیہ میزائل حملوں کے بعد ایران اور سعودی عرب کے درمیان جنم لینے والا موجودہ تنازع ایک ایسے وقت میں بھی سامنے آیا ہے جب سعودی عرب پر وژن 2030 کے تحت سماجی اور معاشی اصلاحاتی منصوبے کے وعدوں کو پورا کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔

علاقائی سکیورٹی اور استحکام اس منصوبے، وژن 2030، کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ اسی لیے ریاض کو اس چیلنج کا سامنا ہے کہ وہ ایران کو قابو میں رکھنے کی اپنی خواہش اور علاقائی تنازع کو قابو میں رکھنے کی ضرورت کے درمیان توازن قائم کرے، تاکہ اپنے اس طویل المدتی منصوبےپر موجودہ صورتحال کے باعث پڑنے والے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

مغربی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق محمد بن سلمان نے صدر ٹرمپ کے ساتھ حالیہ ٹیلی فونک گفتگو میں ایران کے خلاف جاری امریکی حملوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ تاہم یہ اطلاعات ریاض کے اُس سرکاری مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتیں جس میں بظاہر وہ ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی مخالفت کرتا ہے۔

سعودی ولی عہد نے جنوری 2026 میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو بتایا تھا کہ ریاض نے امریکہ کو ایران پر حملے کرنے کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا اور اس مؤقف کی سعودی وزیرِ خارجہ نے بھی اپنے ایک حالیہ بیان میں توثیق کی ہے۔

Getty Imagesمیزائل حملوں میں سعودی تیل تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے

اگرچہ ایران کے بارے میں سعودی عرب کا سرکاری لہجہ سخت ہو گیا ہے، لیکن اس کے باوجود ایسے اشارے موجود ہیں کہ ریاض اور تہران دونوں سفارتی لچک برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، کم از کم بیانات کی حد تک ہی۔

سعودی وزارتِ دفاع نے اپنے ملک پر ہونے والے حالیہ میزائل حملوں سے متعلق اپنے مذمتی بیانات میں یہ کہنے سے گریز کیا کہ میزائل ایران نے داغے۔ جبکہ سعودی عرب میں ایران کے سفیر علیرضا عنایتی نے بھی حال ہی میں سعودی تیل کی تنصیبات کو ایرانی میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنانے کی خبروں کی تردید کی ہے۔

ایرانی سفیر نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو یہ بھی بتایا کہ وہ سعودی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور بہت سے معاملات میں تعلقات ’آگے کی سمت بڑھ رہے ہیں۔‘

19 مارچ کو فیصل بن فرحان کے بیان سے ایک روز قبل ایران نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔ اس وقت ایسا محسوس ہوا تھا کہ تہران اب چین کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کو قابلِ عمل نہیں سمجھتا۔

سعودی وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ: ’ایران کبھی بھی سعودی عرب کا سٹریٹیجک شراکت دار نہیں رہا اور اگر وہ علاقائی برتری کے اپنے نظریات، انقلاب برآمد کرنے کی پالیسی اور طاقت کے استعمال کو ترک کر دیتا تو وہ ایک شراکت دار بن سکتا تھا۔‘

فیصل بن فرحان ریاض میں عرب اور مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے، جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ فوراً خلیجی ممالک کے خلاف اپنے حملے روک دے۔

ڈیاگو گارشیا پر ایرانی میزائل داغے جانے کی اطلاعات: کیا ایران کے پاس 3800 کلومیٹر دور تک مار کرنے والا ہتھیار موجود ہے؟ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز سے ایک پاکستانی جہاز سمیت کون سے 99 جہاز گزرنے میں کامیاب رہے اور کیسے؟بمباری اور تباہی کے درمیان ایران میں سالِ نو کا آغاز اور مجبتی خامنہ ای کا پیغام: ’پاکستان میرے والد کا خاص پسندیدہ تھا‘امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل پر عائد پابندیاں عارضی طور پر ہٹانے کے فیصلے سے انڈیا کو کتنا فائدہ ہو گا؟

سعودی عرب نے 28 فروری کو ایران کے ابتدائی حملوں کے جواب میں ایک بیان جاری کیا تھا، جس میں ان حملوں کو ’بزدلانہ‘ قرار دیا گیا تھا اور اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ ایرانی حکام بخوبی آگاہ تھے کہ ریاض نے اپنی فضائی حدود اور سرزمین کو ایران کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

چین نے گذشتہ برس دسمبر میں تہران میں سعودی عرب، ایران اور بیجنگ کے درمیان ہونے والے ایک سہ فریقی اجلاس میں شرکت کی تھی، جو اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ معاہدے کی بقا کے لیے اپنی وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہے، لیکن اس کے متوقع خاتمے کے بارے میں اس نے عوامی سطح پر بہت کم بات کی ہے۔

Getty Imagesحوثی جنگجو

گذشتہ تین برسوں میں ایران کے بارے میں سعودی سرکاری بیانیے اور مملکت کے اہم میڈیا اداروں کی تحریروں سے یہ واضح اشارے ملتے رہے ہیں کہ چین کی ثالثی میں ہونے والا سنہ 2023 کا معاہدہ کمزور بنیادوں پر کھڑا تھا۔

معاہدے پر دستخط ہونے کے فوراً بعد ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دونوں ممالک کے تمام تنازعات حل ہو گئے ہیں، جبکہ سعودی میڈیا میں بھی اسی طرح کے شکوک و شبہات پر مبنی رپورٹس شائع کی گئی تھیں۔

اعتماد سازی کی ان سفارتی کوششوں کے باوجود ریاض نے تہران کو بدستور شک کی نظر سے دیکھا جا رہا تھا۔

معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر اتفاق کیا تھا۔ یہ معاملہ ریاض کے لیے خاص طور پر اختلاف کا سبب ثابت ہوا ہے، کیونکہ اس کا خیال ہے کہ ایران تاحال پراکسی گروہوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور خطے کی سکیورٹی کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

اپنے تازہ ترین بیان میں سعودی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایران کے ’تضادات‘ ریاض کے لیے تہران کے ساتھ تعلقات میں ایک تاریخی چیلنج رہے ہیں اور اس کی جانب سے یمن میں حوثی باغیوں جیسے علاقائی گروہوں کی حمایت سے متعلق ایران کی بارہا تردیدوں پر بھی شکایت کی ہے۔

ان کے بقول ایران ’جرائم کرنے اور پھر ان سے انکار کرنے‘ کا عادی ہو چکا ہے۔

سعودی عرب نے سنہ 2015 میں اپنے پڑوسی ملک یمن میں شیعہ باغیوں کے خلاف ایک طویل اور مہنگی فوجی مہم کا آغاز کیا تھا، جس کے دوران اس گروہ، حوثی جنگجوؤں، نے سرحد پار حملوں میں آرامکو کی تیل تنصیبات اور فوجی ڈھانچے سمیت مختلف مقامات کو نشانہ بنایا تھا۔

اگرچہ ریاض نے سنہ 2023 میں یمنی باغی گروہ کے ساتھ تاریخی نوعیت کی بات چیت کی میزبانی کی تھی، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان دشمنی دوبارہ ابھر آئی اور موجودہ تنازع کے آغاز کے بعد اس میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔

حوثی جنگجوؤں نے حالیہ تنازع کے دوران ابھی تک ایران کی حمایت میں کوئی اقدام نہیں کیا ہے، لیکن اس ماہ کے اوائل میں یمن کے ایک معروف میڈیا ادارے کی ایک رپورٹ نے ایک ایرانی عہدیدار کے میڈیا کو دیے گئے بیان کی طرف اشارہ کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران باغیوں کو بحیرہ احمر کی سٹریٹجک آبنائے باب المندب سے گزرنے والے جہازوں پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے لیے تیار کر سکتا ہے۔

یہ وہی باب المندب ہے جسے غزہ تنازع کے بعد حوثیوں نے امریکی اور اسرائیلی جہازوں کے لیے بند قرار دیا تھا۔

ایران کی حکمت عملیGetty Images

ایران نے خطے میں اپنی اس مہم کے دوران سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو بخوشی خطرے میں ڈالا ہے۔

28 فروری کو اس تنازع کے آغاز کے بعد ہی ایرانی حکام نے واضح کر دیا تھا کہ وہ ہر جگہ امریکی، اسرائیلی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنائیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ خلیجی ممالک میں ایران کی طرف سے اہداف کا انتخاب نہایت پیچیدہ اور وسیع رہا ہے، جن میں امریکی فضائی اڈوں سے لے کر شہری انفراسٹرکچر اور توانائی کی تنصیبات تک سب شامل ہیں۔ جس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور اس کا مقصد امریکہ کو جنگ سے پیچھے ہٹنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔

ایران نے اپنے بیانات میں ریاض کو خاص طور پر نشانہ نہیں بنایا ہے، لیکن سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈوں اور اثاثوں کی موجودگی نے اسے تہران کی نظر میں ایک جائز ہدف بنا دیا ہے۔

تہران طویل عرصے سے خطے سے امریکی موجودگی کے اخراج کی کوشش کرتا آیا ہے۔

اور سعودی عرب اپنے وسیع توانائی کے ڈھانچے کی وجہ سے ایران کے میزائلوں اور ڈرونز کا آسان ہدف بن گیا ہے، حالانکہ ایرانی فوجی حکام بارہا اصرار کرتے آئے ہیں کہ ان تنصیبات پر حملے دراصل اسرائیلی ’فالس فلیگ‘ کارروائیوں کا نتیجہ ہیں۔

ایران کے لیے سعودی عرب اب ایک وسیع اور نہایت خطرناک علاقائی حکمتِ عملی کا ایک حصہ بن چکا ہے، جس کا مقصد اتنی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا ہے کہ تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھ جائیں اور ٹرمپ پر ایران کے خلاف جنگ روکنے کے لیے دباؤ بڑھتا رہے۔

خلیجی ممالک نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ اُن کی زمین یا فضائی حدود ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہیں، تاہم دی وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی میزائل حملوں کے لیے خلیجی ممالک کی سرزمین کا استعمال ہونا عین ممکن ہے۔

ریاض کے ساتھ ایران کا تعلق فی الحال اُن بے شمار قربانیوں میں سے صرف ایک ہے، جنھیں دینے کو وہ اپنے سے کہیں زیادہ طاقتور دشمن کے خلاف اپنی بقا کی جدوجہد کا حصہ سمجھتا ہے۔

Getty Imagesسخت گیر ایرانی حلقوں کی جانب سے تنقید کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو خلیجی ممالک سے متعلق اپنے معذرت پر مبنی بیان کی وضاحت دینے پر مجبور ہونا پڑا تھا

بعض ایرانی حکام سعودی عرب کے ساتھ تعلق کی خرابی پر دل گرفتہ بھی ہیں، خصوصاً صدر پزشکیان، جنھوں نے ان حملوں پر معذرت کی اور کہا کہ خلیجی ممالک پر حملے بند کر دیے جائیں گے اگر ایران پر ہونے والے حملوں میں اُن کی سرزمین استعمال نہ ہو تو۔

تاہم وقت کے ساتھ ایران کی خلیجی ممالک کے ساتھ جاری کشیدگی میں کمی ممکن نہ ہو سکی۔ ایران میں سخت گیر حلقوں نے فوراً ہی اس پیغام کو رد کر دیا اور بالآخر صدر پزشکیان کو اپنے بیان کی وضاحت دینے پر مجبور ہونا پڑا۔

تہران میں سفارتکاری اب پس منظر میں چلی گئی ہے اور آئندہ آنے والے دنوں میں ایسا ہی جاری رہے گا کیونکہ اسرائیل ایران کے رہنماؤں کو نشانہ بنا رہا ہے، جس کے نتیجے میں بڑے فیصلوں کا اختیار اب زیادہ شدت پسند پاسدارانِ انقلاب کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے۔

جہاں تک سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک کا تعلق ہے، ایران کے رویّے کو ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سابق سیکریٹری علی لاریجانی کے ان الفاظ میں سمیٹا جا سکتا ہے، جو انھوں نے اپنی موت سے ایک دن قبل مسلم ممالک کے نام ایک کھلے خط میں کہے تھے۔

انھوں نے اس تنازع کو ایک جانب ایران، مسلم ممالک اور ’محورِ مزاحمت‘ اور دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل کے درمیان قرار دیتے ہوئے پوچھا تھا: ’تو آپ کس فریق کا ساتھ دیں گے؟‘

ڈیاگو گارشیا پر ایرانی میزائل داغے جانے کی اطلاعات: کیا ایران کے پاس 3800 کلومیٹر دور تک مار کرنے والا ہتھیار موجود ہے؟’ٹرمپ جیسا کوئی نہیں‘ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز سے ایک پاکستانی جہاز سمیت کون سے 99 جہاز گزرنے میں کامیاب رہے اور کیسے؟دبئی، ابوظہبی میں دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت: ’مظفر بچپن میں یتیم ہوا، اب اس کے بچے بھی کم عمری میں باپ کھو بیٹھے‘ایرانی گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کے بعد ٹرمپ کے پیغام سے جنم لیتے سوالات: کیا ایران جنگ پر امریکہ اور اسرائیل ایک سوچ رکھتے ہیں؟’انھیں روکنا بہت ہی مشکل ہے‘: کلسٹر بموں والے ایرانی میزائلوں سے اسرائیلی پریشان علی خامنہ ای ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے باز رکھ رہے تھے، انھیں قتل نہیں کیا جانا چاہیے تھا: جو کینٹ
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More