Getty Images
شیزا کی جب بیس کے پیٹے میں تھیں تو انھیں معلوم ہوا کہ وہ پولی سسٹک اوورین سنڈورم یعنی پی سی او ایس کا شکار ہیں۔ سنہ 1994 میں پہلے بیٹے کی پیدائش کے بعد ان کے ماہواری کے وقفے طویل ہوتے گئے، وزن بڑھنے لگا اور انھیں سلیپ اپنیا کی تشخیص بھی ہوئی۔ انھوں نے اپنے ڈاکٹر سے پوچھا کہ کیا اس میں کوئی تشویش کی بات ہے؟
سلیپ اپنیا ایک نیند سے متعلق طبی حالت ہے جس میں سوتے وقت انسان کی سانس بار بار رک جاتی ہے یا بہت کم ہو جاتی ہے۔ یہ مسئلہ صرف نیند کو متاثر نہیں کرتا بلکہ مجموعی صحت پر بھی گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔
شیزا کے مطابق ڈاکٹر نے جواب دیا کہ ’کیا آپ دوبارہ حاملہ ہونا چاہتی ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر فکر کیوں کرتی ہیں؟‘
وہ کہتی ہیں کہ اُس وقت انھیں کچھ معلوم نہیں تھا۔
وقت کے ساتھ ان کی صحت مزید بگڑتی گئی۔ وزن میں اضافہ، جلد کا سیاہ پڑنا اور دیگر علامات ظاہر ہوتی رہیں مگر اس سب کی اصل وجہ کے بارے میں کبھی معلوم نہیں ہوسکا۔
شیزا کہتی ہیں کہ ’کسی نے انسولین ریزسٹنس کا ٹیسٹ نہیں کیا نہ بتایا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔‘
سات سال بعد جب انھوں نے دوبارہ حاملہ ہونے کا فیصلہ کیا تب انھیں آخرکار پولی سسٹک اوورین سنڈورم کی تشخیص ہوئی۔
برسوں بعد جب ان کی نوعمر بیٹی میں بھی وہی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں تو شیزا کا ردِعمل بالکل مختلف تھا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے انتظار نہیں کیا۔ تحقیق کی، بنیادی ٹیسٹ کروائے اور پھر انھیں ڈاکٹر کے پاس لے گئی۔‘
ان کی بیٹی کی میں صرف 15 سال کی عمر میں پولی سسٹک اوورین سنڈورم کی تشخیص ہوئی۔
بروقت تشخیص نے بہت فرق پڑا۔
شیزا کے مطابق ’کیونکہ اسے جلد تشخیص ہوگئی، ہم نے ابتدا ہی سے اس کا بہتر طریقے سے علاج کروایا اور انتظام کر لیا۔‘
آج 24 سال کی عمر میں ان کی بیٹی اپنی حالت کے بارے میں زیادہ باخبر ہیں، طرزِ زندگی بہتر رکھتی ہے اور طویل مدتی خطرات سے نمٹنے کے لیے زیادہ تیار ہے۔
شیزا کہتی ہیں کہ ’وہ جانتی ہے کہ اسے کیا کرنا ہے، جو میں اس کی عمر میں نہیں جانتی تھی۔‘
شیزا کی بیٹی نے ابتدا ہی سے اپنی خوراک، وزن اور علامات پر توجہ دی۔
ڈاکٹروں کی بروقت رہنمائی سے وہ غیر متوازن ہارمونز اور بے قاعدہ ماہواری جیسے مسائل کو بگڑنے سے پہلے ہی سنبھالنے میں کامیاب رہی، جس سے مستقبل میں پیچیدگیوں کے خطرات کم ہو گئے۔
شیزا کہتی ہیں کہ ’میں اکثر سوچتی ہوں کہ اگر میں نے خود یہ سب نہ جھیلا ہوتا تو شاید اس کے ساتھ بھی یہی ہوتا۔‘
دیر سے تشخیص نے شیزا کو برسوں تک وزن بڑھنے، جلد کی تبدیلیوں اور ہارمونل مسائل سے لڑتے رہنے پر مجبور کیا، اور اس سب کے دوران وہ یہ نہیں جانتی تھیں کہ آخر اُن کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔
یہ صرف جسمانی نہیں بلکہ جذباتی طور پر بھی تھکا دینے والا تجربہ تھا۔
وہ بتاتی ہیں کہ وہ اکثر الجھن، مایوسی اور بے بسی محسوس کرتی تھیں، کیونکہ کوئی بھی ان کی علامات کی مکمل وضاحت نہیں کرتا تھا۔
اسی تلخ تجربے نے انھیں اپنی بیٹی میں علامات کو جلد پہچاننے اور بروقت قدم اٹھانے کے قابل بنایا۔
Getty Imagesایک ایسی حالت جو اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے
جنوبی ایشیا میں شیزا کی کہانی کوئی نئی نہیں ہے ایسی کئی کہانیاں ہمارے ارد گرد موجود ہوتی ہے اور یہ عام ہیں۔ خطے میں لاکھوں خواتین پولی سسٹک اوورین سنڈورم کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں اور اکثر تو ایسی بھی ہیں کہ جنھیں اس بات کی بھی علم ہی نہیں ہے کہ اُن کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ بیماری دنیا بھر میں 10 سے 13 فیصد خواتین کو متاثر کرتی ہے، لیکن تقریباً 70 فیصد کیسز کی تشخیص ہی نہیں ہو پاتی۔
جنوبی ایشیا میں صورتحال مزید تشویشناک ہے، جہاں ہر دس میں سے ایک خاتون اس مسئلے کا شکار ہے جبکہ بعض کمیونٹیز میں یہ شرح پانچ میں سے ایک تک رپورٹ ہوئی ہے۔
پاکستان میں اعداد و شمار خاص طور پر پریشان کن ہیں۔ مقامی طبی جرائد جن میں جرنل آف کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان بھی شامل ہے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق بعض علاقوں میں پولی سسٹک اوورین سنڈورم کی شرح 50 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، خاص طور پر شہری علاقوں کی نوجوان خواتین میں۔
اس کے باوجود تشخیص اکثر تاخیر سے ہوتی ہے اور زیادہ تر اس وقت سامنے آتی ہے جب خواتین کو بانجھ پن یا تولیدی مسائل کا سامنا شروع ہوتا ہے۔
پی سی او ایس یا پی ایم او ایس، نام کیوں اہم ہے؟
ماہرین کے مطابق مسئلے کی ایک بڑی وجہ اس بیماری کا نام بھی ہے۔ پولی سسٹک اوورین سنڈورم کو طویل عرصے تک بنیادی طور پر اووری میں رسولیوں اور بانجھ پن سے جوڑا جاتا رہا، لیکن بڑھتے ہوئے سائنسی شواہد بتاتے ہیں کہ یہ نام اس حالت کی اصل پیچیدگی کو ظاہر نہیں کرتا۔ بعض صورتوں میں یہی غلط فہمی تاخیر سے تشخیص کا سبب بنتی ہے۔
یہ صورتحال جلد بدل سکتی ہے۔ عالمی ماہرین کے ایک کنسورشیم نے جس کی تحقیق دی لینسٹ میں شائع ہوئی اور جس کی قیادت موناش یونیورسٹی کی پروفیسر ہیلن ٹیڈ کر رہی ہیں ’پولی سسٹک اوورین سنڈورم‘ کا نام بدل کر ’پولی اینڈوکرائن میٹابولک اووریئن سنڈروم‘ رکھنے کی تجویز دی ہے۔ یہ تبدیلی 2028 تک عالمی سطح پر نافذ ہونے کی توقع ہے جس کا مقصد اس بیماری کی بہتر وضاحت اور مریضوں و طبی ماہرین دونوں میں آگاہی بڑھانا ہے۔
تحقیق کے مطابق سنہ 1935 میں دیا گیا نام پولی سسٹک اوورین سنڈورم گمراہ کن ہے، کیونکہ بہت سی خواتین جنھیں یہ بیماری ہوتی ہے ان میں اووری میں رسولیاں ہوتی ہی نہیں۔ اس کے برعکس یہ عارضہ جسم کے کئی نظاموں کو متاثر کرتا ہے، جن میں ہارمونز، میٹابولزم اور تولیدی صحت شامل ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پولی سسٹک اوورین سنڈورم کی شکار خواتین کو طویل المدتی صحت کے مسائل کا نمایاں طور پر زیادہ خطرہ ہوتا ہے، جو جسمانی اور ذہنی صحت دونوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
دی لینسٹ کی تحقیق میں کہا گیا ہے ’پولی سسٹک اوورین سنڈورم‘ کو طویل عرصے تک صرف ایک امراضِ نسواں یا اووری کا مسئلہ سمجھا گیا، لیکن تحقیق اور بین الاقوامی گائیڈ لائنز سے ثابت ہوا ہے کہ یہ بنیادی طور پر انسولین، اینڈروجنز، نیورواینڈوکرائن اور اووری ہارمونز میں بگاڑ سے جڑا ہوا عارضہ ہے۔‘
’عورت کی داڑھی نکلنے پر سب مذاق اڑاتے ہیں‘ماہواری میں معمول سے زیادہ خون آنا خواتین میں کن مسائل کا باعث بن سکتا ہے؟ماہواری کے خون میں آپ کی صحت کے بارے میں کیا راز پوشیدہ ہو سکتے ہیں؟پریگنینسی یعنی حمل ٹھہرنے کے علاوہ وہ آٹھ وجوہات جو ماہواری رُکنے کا باعث بن سکتی ہیں
کراچی کے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں امراضِ نسواں کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر انعم عزیز کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی بہت پہلے آ جانی چاہیے تھی۔
ان کے مطابق ’پولی سسٹک اوورین سنڈورم کا نام غلط فہمی پیدا کرتا ہے، کیونکہ کلینک میں آنے والی خواتین کی علامات صرف اووری کی رسولیوں تک محدود نہیں ہوتیں۔ اصل مسئلہ میٹابولک صحت سے جڑا ہوتا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’اس بیماری کو صرف بانجھ پن یا اووری تک محدود سمجھنا درست نہیں، کیونکہ یہ عورت کی مجموعی صحت کو کئی سطحوں پر متاثر کرتی ہے۔‘
تجویز کردہ نیا نام اسی وسیع حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ ڈاکٹر انعم کے مطابق ’پولی اینڈوکرائن‘ کا مطلب ہے کہ جسم کے کئی اینڈوکرائن نظام متاثر ہوتے ہیں۔ میٹابولک صحت بھی شامل ہے اور اووریز بھی۔ یہ نام بیماری کی زیادہ جامع تصویر پیش کرتا ہے۔‘
یہ تبدیلی واضح کرتی ہے کہ یہ عارضہ صرف اووری تک محدود نہیں بلکہ پورے جسم کے ہارمونل توازن، وزن، توانائی اور بلڈ شوگر کے نظام کو متاثر کرتا ہے۔
Getty Imagesتشخیص پر ازسرِنو غور
نام کی تبدیلی کی ایک اہم وجہ تشخیص سے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیاں بھی ہیں۔ طبی رہنما اصولوں کے مطابق پولی سسٹک اوورین سنڈورم کی تشخیص کے لیے لازمی نہیں کہ بیضہ دانی میں رسولیاں موجود ہوں۔ اس کے بجائے ڈاکٹر تین میں سے کم از کم دو علامات کی بنیاد پر تشخیص کرتے ہیں۔
کلینک میں عام طور پر نظر آنے والی علامات کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر عزیز کہتے ہیں کہ ’خواتین عموماً ماہواری کی بے قاعدگی، جیسے کم آنا یا مہینوں تک نہ آنا کے مسائل کے ساتھ آتی ہیں۔ دوسری علامت اینڈروجن ہارمونز کی زیادتی ہے، جو چہرے پر زائد بال یا مہاسوں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ تیسری علامت الٹراساؤنڈ میں بیضہ دانی کا پولی سسٹک دکھائی دینا ہے۔‘
ان کے علاوہ بہت سی خواتین وزن میں اضافہ، انسولین مزاحمت اور کولیسٹرول کی غیر معمولی سطحوں کا بھی سامنا کرتی ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ میٹابولک علامات اکثر ابتدا ہی میں ظاہر ہو جاتی ہیں، خصوصاً جنوبی ایشیائی آبادی میں جہاں ذیابیطس کی تشخیص اب بیس کی دہائی کے آخر میں بھی عام ہوتی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر عزیز کے مطابق ’پولی سسٹک اوورین سنڈورم‘ یا پولی ’اینڈوکرائن میٹابولک اووریئن سنڈروم‘ PCOS یا PMOS دراصل ذیابیطس اور لپڈ ڈس آرڈرز سے پہلے ظاہر ہونے والی حالت ہے۔‘ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پولی سسٹک اوورین سنڈورم کی شکار خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، امراضے قلب، موٹاپا، نیند میں رکاوٹ سلیپ اپنیا اور بعض اقسام کے سرطان کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
یہ حالت ذہنی صحت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پولی سسٹک اوورین سنڈورم کی شکار خواتین میں اضطراب اور ڈپریشن کی شرح زیادہ پائی جاتی ہے۔ جنوبی پنجاب میں شادی شدہ خواتین پر کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ زرخیزی سے متعلق سماجی توقعات خصوصاً شادی کے فوراً بعد اولاد کی خواہش ان خواتین میں جذباتی دباؤ میں نمایاں اضافہ کرتی ہیں۔
عوامی تاثر اور سماجی بدنامی
نام کی تبدیلی سے عوامی تاثر میں بھی نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔ کئی دہائیوں تک پولی سسٹک اوورین سنڈورم کو بانجھ پن کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جاتا رہا ہے، جس کے باعث اکثر خواتین صرف اس وقت طبی مدد لیتی ہیں جب وہ حاملہ ہونے میں ناکام رہتی ہیں۔
ڈاکٹر عزیز کے مطابق ’ہمارے کلینک میں آنے والی زیادہ تر مریض اسی وجہ سے آتی ہیں کہ وہ حاملہ نہیں ہو پا رہیں۔ وہ دیگر علامات کے لیے عموماً ماہرِ امراضِ نسواں سے رجوع نہیں کرتیں۔‘ ان کے بقول یہ رویہ سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب توجہ صرف بیضہ دانی تک محدود نہ رہے تو نیا نام اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ یہ ایک دائمی میٹابولک اور اینڈوکرائن بیماری ہے جس کی دیکھ بھال پوری زندگی درکار ہوتی ہے نہ کہ صرف تولیدی عمر کے دوران۔
Getty Imagesآگاہی اب بھی بنیادی ضرورت
اگرچہ طبی تحقیق میں پیش رفت ہو رہی ہے لیکن آگاہی کی سطح اب بھی بہت محدود ہے۔ سنہ 2023 کی ایک تحقیق ’دی نالیج اینڈ اوئیرنیس آن پولی سسٹک اوورین سنڈورم امنگ لیڈیز ہیلتھ ویزٹرز ان پبلک ہیلتھ‘ کے مطابق شہری علاقوں کی 17 سے 20 سال کی عمر کی 80 فیصد سے زائد نوجوان خواتین پولی سسٹک اوورین سنڈورم اور اس کے خطرات سے ناواقف تھیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق صرف نام تبدیل کر دینا کافی نہیں ہوگا۔ ڈاکٹر عزیز کہتے ہیں کہ ’اگر لوگوں کو سمجھ ہی نہ آئے کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، تو اسے ’پولی سسٹک اوورین سنڈورم‘ کہیں یا ’اینڈوکرائن میٹابولک اووریئن سنڈروم‘ کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ہمیں آگاہی پیدا کرنا ہوگی۔‘
خواتین میں علامات کی بروقت پہچان اور مناسب وقت پر علاج تک رسائی کے لیے عوامی صحت کی مہمات، بہتر تعلیم اور صحت کی سہولیات تک آسان رسائی ناگزیر ہیں۔
ابتدائی تشخیص سے بیماری کو زیادہ مؤثر طریقے سے قابو پایا جا سکتا ہے۔ صحت مند غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، ذہنی دباؤ میں کمی اور بہتر نیند جیسے طرزِ زندگی میں تبدیلیاں طویل المدتی خطرات کو نمایاں حد تک کم کر سکتی ہیں۔
ڈاکٹر عزیز کے مطابق ’اگر ہم کم عمری سے ہی فعال طرزِ زندگی کی حوصلہ افزائی کریں تو یہ ایک طرح کی حفاظتی دوا بن جاتی ہے اور روک تھام ہمیشہ علاج سے بہتر ہوتی ہے۔‘
خواتین کے لیے کیا بدلے گا؟
عملی طور پر دیکھا جائے تو خواتین کو فوری طور پر تشخیص یا علاج میں کوئی بڑی تبدیلی محسوس نہیں ہوگی۔ لیکن وقت کے ساتھ اس کے اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔ زیادہ واضح اور درست نام سے بیماری کی جلد تشخیص، سماجی بدنامی میں کمی اور مناسب دیکھ بھال ممکن ہو سکے گی جو صرف تولیدی صحت نہیں بلکہ مجموعی صحت کو مدنظر رکھے۔
بالآخر پولی سسٹک اوورین سنڈورم کا نام تبدیل کرنے کا مقصد طبی زبان کو سائنسی حقیقت سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ دنیا بھر کی لاکھوں خواتین کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ پرانی غلط فہمیوں سے آگے بڑھ کر اپنی صحت کو زیادہ درست انداز میں سمجھ سکیں اور اسے اہمیت دیں۔
ماہواری کے خون میں آپ کی صحت کے بارے میں کیا راز پوشیدہ ہو سکتے ہیں؟پریگنینسی یعنی حمل ٹھہرنے کے علاوہ وہ آٹھ وجوہات جو ماہواری رُکنے کا باعث بن سکتی ہیں’عورت کی داڑھی نکلنے پر سب مذاق اڑاتے ہیں‘ماہواری میں معمول سے زیادہ خون آنا خواتین میں کن مسائل کا باعث بن سکتا ہے؟بچیوں میں قبل از وقت ماہواری کی وجوہات: ’مجھے 13 سال کی عمر میں ماہواری ہوئی، گمان تھا کہ میری بچی بھی اِسی عمر میں بالغ ہو گی‘