اگرچہ پاکستان کے زیر انتظام خطے گلگت بلتستان کے الیکشن کمیشن نے اسمبلی کے پانچ حلقوں کے 26 پولنگ سٹیشنز میں ری پولنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان پیپلز پارٹی کو اِن انتخابات میں کامیابی کی مبارکباد دی ہے۔
ایک پیغام میں شہباز شریف نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان الیکشن میں 'پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت' بن کر اُبھری ہے مگر، وزیر اعظم کے بقول، مسلم لیگ ن نے اسے کڑا مقابلہ دیا ہے۔
دوسری جانب چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا دعویٰ ہے کہ گلگت بلتستان میں پی پی پی سب سے بڑی جماعت بن چکی ہے اور یہ حکومت بنانے کی کوشش کرے گی۔
سرکاری خبر رساں ادارے 'اے پی پی' نے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کو 10 جبکہ مسلم لیگ ن کو چھ نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔
تاہم گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز نے بی بی سی کو بتایا کہ 24 جنرل نشستوں میں سے پانچ حلقوں کے مجموعی طور پر 26 پولنگ سٹیشنز پر ری پولنگ 15 جون کو ہو گی جس کے بعد فائنل نتائج مرتب ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے فارم 48(ڈکلیریشن) کے اجرا کے بعد ہی پارٹی پوزیشن واضح ہو سکے گی۔
تاہم گلگت بلتستان الیکشن کمیشن کے حکام کی جانب سے متعدد حلقوں کے فارم 47 بی بی سی کے ساتھ شیئر کیے گئے ہیں، جن کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی غیرحتمی و غیرسرکاری نتائج کے مطابق اِن انتخابات میں دیگر سیاسی جماعتوں سے آگے نظر آتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ اس کے حمایت یافتہ امیدواروں کو دیگر سیاسی جماعتوں کے برعکس انتخابی مہم میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور انھیں آزادانہ طور پر الیکشن میں حصہ لینے اور الیکشن مہم چلانے سے روکا گیا۔ چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سب کے لیے برابر موقع تھا۔ 'یہ آزادانہ انتخابی ماحول تھا۔ پورے علاقے میں کسی کو بھی اور کہیں بھی جانے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔'
فارم 47 کے تحت اب تک کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کو نو نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی جن میں جی بی اسمبلی کے حلقے 1، 3، 4، 5، 7، 10، 11، 12 اور 19 شامل ہیں۔ اسی طرح حلقہ 17 میں بھی پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے تاہم نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے الیکشن کمشنر نے کہا کہ یہاں سے جاری ہونے والا فارم 47 واپس لے لیا گیا ہے اور ری پولنگ کے بعد اس حلقے کا فارم 47 دوبارہ جاری کیا جائے گا۔
فارم 47 کے تحت غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کو پانچ نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے جن میں جی بی اسمبلی کے حلقے 2، 14، 18، 20 اور 22 شامل ہیں۔ اسی طرح حلقہ 13 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے تاہم الیکشن کمشنر نے مطابق یہاں سے جاری ہونے والا فارم 47 واپس لے لیا گیا ہے اور ری پولنگ کے بعد دوبارہ فارم 47 جاری کیا جائے گا۔
پانچ حلقوں کے 26 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کیوں ہو گی؟Getty Imagesپانچ حلقوں کے 26 پولنگ سٹیشنز پر مختلف وجوہات کی بنا پر دوبارہ پولنگ ہو گی
دریں اثنا جن پانچ حلقوں میں 26 پولنگ سٹیشنز پر ری پولنگ کا حکم دیا گیا ہے اُن میں گلگت بلتستان اسمبلی کے حلقہ 8، 13، 15، 16 اور 17 شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق حلقہ 15 (دیامیر ون) میں ضلعی ریٹرننگ آفیسر نے ایک پولنگ سٹیشن میں پتھراؤ اور فائرنگ کے باعث ووٹنگ معطل کر دی گئی تھی۔ اُن کے مطابق حلقہ 8 (سکردو ٹو) میں مبینہ بے ضابطگیوں اور قانون کی خلاف ورزی پر امیدوار کی جانب سے ری پولنگ کا مطالبہ کیا گیا جسے قبول کیا گیا ہے اور اس حلقے کے 10 پولنگ سٹیشنز میں ری پولنگ ہو گی۔
حلقہ 16 (دیامیر ٹو) کے تین پولنگ سٹیشنز میں امیدوار کی طرف سے بے ضابطگیوں کا الزام لگایا گیا جہاں اب ری پولنگ ہو گی۔
الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن میں متعلقہ ریٹرننگ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان حلقوں میں دوبارہ پولنگ مکمل ہونے اور اس کے نتائج موصول ہونے تک کسی بھی صورت میں حتمی نتائج کو نہ کھولیں، نہ ان کی جانچ پڑتال کریں اور نہ ہی انھیں جاری کریں۔
دستاویز کے مطابق نتائج کی تشکیل (کنسولیڈیشن) کا عمل الیکشن ایکٹ 2017 اور انتخابی قواعد کے تحت اُس وقت تک مکمل نہیں کیا جائے گا جب تک دوبارہ پولنگ والے تمام سٹیشنز کے نتائج شامل نہ کر لیے جائیں۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ان ہدایات کی خلاف ورزی کو ضابطوں کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
کامیابی اور حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہونے کے دعوے
گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ کا دعویٰ ہے کہ اُن کی جماعت نے ان انتخابات میں کامیاب ہونے والے چند آزاد امیدواروں کی حمایت سے سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے اور یہ آزاد امیدوار آئندہ چند دنوں میں پارٹی میں شمولیت کا اعلان کریں گے۔
دوسری جانب گلگت بلتستان میں پاکستان مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر حافظ حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ کئی حلقوں کے نتائج اب تک جاری نہیں کیے گئے، اس لیے کسی بھی جماعت کا اکثریت کا دعویٰ قبل از وقت ہے۔ انھوں نے بھی دعویٰ کیا کہ اُن کی جماعت کے حمایت یافتہ چند آزاد اراکین بھی اس انتخابات میں کامیاب ٹھہرے ہیں۔
حافظ حفیظ الرحمان کا کہنا ہے کہ حالیہ انتخابات میں تاحال کوئی بھی جماعت سادہ اکثریت حاصل نہیں کر سکی کیونکہ پانچ حلقوں کے نتائج ابھی آنا باقی ہیں۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ حفیظ الرحمان نے کہا کہ اب تک اُن کی جماعت چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کر چکی ہے، جبکہ دو آزاد امیدوار بھی ان کی حمایت سے کامیاب ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ دیگر آزاد امیدوار بھی ان کے ساتھ رابطے میں ہیں، تاہم ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ خطے میں حکومت کس جماعت کی قائم ہو گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ حتمی سیاسی فیصلے کا انحصار 'بڑوں' کی مشاورت پر ہو گا، جس کے بعد حکومت سازی کے حوالے سے واضح تصویر سامنے آئے گی۔
یاد رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کل 33 نشستوں پر مشتمل ہے جس میں 24 براہ راست منتخب ارکان، چھ خواتین نشستیں جبکہ تین نشستیں ٹیکنو کریٹس کے لیے مختص ہیں۔ حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 17 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار ہو گی۔
اس سوال پر وفاق میں برسراقتدار ہونے کے باوجود مسلم لیگ ن ان انتخابات میں پیچھے کیوں نظر آتی ہے؟ حافظ حفیظ الرحمان نے الزام عائد کیا کہ اس خطے میں مسلم لیگ کو گذشتہ پانچ برس سے سیاسی ہدف بنایا گیا ہے اور اس جماعت کے 'الیکٹ ایبلز' کو جماعت چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی نے ان انتخابات میں سندھ کے خزانے کھول دیے تھے جبکہ ان کے امیدوار اتنے وسائل والے نہیں تھے۔
’پی ٹی آئی کے میدان میں نہ ہونے کا فائدہ پیپلز پارٹی کو ہوا‘
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع اللہ جان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق یہاں لیول پلیئنگ فیلڈ تو دور کی بات تحریک انصاف کو 'پلیئنگ فیلڈ بھی فراہم نہیں کی گئی۔'
تاہم چیف الیکشن کمشنر نے پی ٹی آئی کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام جماعتوں کو کھل کر انتخابی مہم چلانے کی اجازت تھی۔
انتخابی امور پر گہری نظر رکھنے والے صحافی ماجد نظامی کے مطابق اس بار بھی کامیابی ایک ایسی جماعت (پیپلز پارٹی) کے حصے میں جاتی نظر آ رہی ے جسے مکمل طور پر اپوزیشن قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انھوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو 'کسی صورت اقتدار سے باہر کی جماعت نہیں کہا جا سکتا کیونکہ مرکز میں اس وقت صدرِ مملکت اور چیئرمین سینیٹ اسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ گلگت بلتستان سمیت خیبر پختونخوا اور پنجاب کے گورنرز بھی پیپلز پارٹی کے ہیں۔'
ان کا کہنا تھا کہ اگر ان انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار کامیاب ہوتے تو یہ کہا جا سکتا تھا کہ سیاسی رجحان تبدیل ہو رہا ہے اور ایک اپوزیشن جماعت نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔
ماجد نظامی کے مطابق یہ ایسے انتخابات تھے جن میں پیپلز پارٹی کو لیول پلیئنگ فیلڈ میسر تھی تاہم یہی سہولت اپوزیشن کی جماعت تحریک انصاف کو حاصل نہیں تھی۔
وہ کہتے ہیں کہ 'ان انتخابی نتائج کو ملک کے مجموعی سیاسی تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے، جس کا تعلق نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں متوقع انتخابات، آئندہ بجٹ، این ایف سی ایوارڈ اور زیر غور مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم جیسے اہم قومی معاملات سے بھی جڑا ہوا ہے۔'
حکمراں جماعت کے سینیئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے ایکس پر ان غیر سرکاری و غیر حتمی انتخابی نتائج پر اپنی مفصل رائے دی ہے۔ سعد رفیق اپنی جماعت کی انتخابی مہم کے سلسلے میں گلگت بلتستان بھی گئے تھے۔
ان کے مطابق گلگت بلتستان کے انتخابات میں (غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق) تقریباً دس نشستیں حاصل کر کے پاکستان پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ 'سنگل لارجسٹ پارٹی بننے کے باوجود پیپلز پارٹی کی جانب سے مصدقہ نتائج نہ ملنے کا مؤقف اختیار کرنا حیران کُن ہے۔'
سعد رفیق کی رائے میں 'موجودہ نظام سے نالاں پاکستان تحریک انصاف کے متعدد ووٹرز نے بھی، پی ٹی آئی کے انتخابی میدان میں موجود نہ ہونے کے باعث، مسلم لیگ ن کے بجائے پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا۔'
ان کے مطابق 'میری ناقص رائے میں، اگر پی ٹی آئی بطور ایک سیاسی جماعت انتخابات میں حصہ لیتی تو انتخابی عمل کی ساکھ مزید بہتر ہو سکتی تھی۔ اس حوالے سے میں نے پی ٹی آئی رہنماؤں جنید اکبر اور اسد قیصر کو گلگت بلتستان نہ جانے دینے پر برملا اظہارِ خیال بھی کیا تھا۔'
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ 'وسائل کی کمی، تاخیر سے کیے گئے فیصلے اور کمزور تنظیمی ڈھانچہ مسلم لیگ ن کی قیادت کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔'
سعد رفیق کی رائے میں 'گلگت بلتستان میں حکومت بنانے کا پہلا حق پیپلز پارٹی کو حاصل ہے۔ اگر پیپلز پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو میری رائے کے مطابق مسلم لیگ کو حکومت سازی میں تعاون کرنا چاہیے، تاہم خود حکومت کا حصہ بننے کے بجائے اپوزیشن میں بیٹھ کر آئینی عہدوں تک محدود رہنا زیادہ مناسب ہو گا۔'
بعض مبصرین کی رائے میں تحریک انصاف کے تمام تر دعوؤں کے باوجودتحریک انصاف کو بھی ہمدردی کی بنیاد پر بھی ووٹ ملے ہیں اگرچہ اُن کے پاس الیکٹیبلز نہیں تھے۔
گلگت بلتستان انتخابات پر انڈیا کے ’شدید احتجاج‘ پر پاکستان کا جواب: ’مضحکہ خیز دعوے حقیقت کو افسانے میں بدلنے کی کوشش ہیں‘گلگت بلتستان کا لکی سیاسی سرکسگلگت بلتستان کا خطہ پاکستان کے زیرِ انتظام کیسے آیا؟سینکڑوں سال پرانا ’خالصہ سرکار‘ کا قانون جو گلگت بلتستان کے عوام کے زمینی حقوق کی راہ میں حائل ہے
گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے صحافی و تجزیہ کار منظر شگری کا کہنا تھا کہ 'عوام کے اندر پی ٹی آئی کے لیے ہمدردی بڑھی اور اسی بنیاد پر دو حلقوں میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار جیتے ہیں۔' یاد رہے کہ ان میں اس حلقہ وہ ہے جہاں کا فارم 47 واپس لے لیا گیا ہے اور اب اس حلقے کے چند پولنگ سٹیشنز پر ری پولنگ کے بعد دوبارہ فارم 47 جاری کیا جائے گا۔
وہ کہتے ہیں کہ 2020 کے الیکشن کے بعد دو لاکھ سے زیادہ نئے ووٹرز کا اندراج ہوا تھا اور ان کی رائے میں ان نوجوان ووٹرز میں سے کئی نے پی ٹی آئی کے حق میں ووٹ دیے ہوں گے۔
ان کے مطابق اگر پی ٹی آئی کے خلاف 'کارروائیاں' نہ کی جاتیں تو شاید وہ 'اس پوزیشن پر بھی نہ آ پاتی کیونکہ پی ٹی آئی کے پاس الیکٹیبلز نہیں تھے۔'
کیا یہ نتائج حیران کن ہیں؟
گلگت بلتستان میں پی پی پی رہنما امجد حسین ایڈووکیٹ کے مطابق اُن کی جماعت کی نمایاں کامیابی کی بنیادی وجہ اس کا عوامی سطح پر مضبوط اور مسلسل رابطہ تھا۔
ان کے مطابق 'ہم نے بھرپور محنت کی اور اس اچھے نتیجے کی ایک بڑی وجہ اس بار ملنے والی لیول پلیئنگ فیلڈ بھی ہے۔'
امجد حسین کا کہنا تھا کہ 'اپنی زندگی میں پہلی بار میں نے ایسے انتخابات دیکھے ہیں جہاں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہوئی۔'
انھوں نے ایک سوال کے جواب میں پاکستان مسلم لیگ ن کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکمران جماعت کی کمزوری کی بڑی وجہ اس کے اندرونی اختلافات تھے۔ ان کے مطابق نہ صرف یہ کہ ان اختلافات کو کم کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی بلکہ بعض صورتوں میں انھیں مزید بڑھنے دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کئی حلقوں میں مسلم لیگ کے ایک سے زیادہ امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے تھے، جس سے پارٹی کو نقصان اٹھانا پڑا۔
امجد حسین نے خواجہ سعد رفیق کی اس رائے سے بھی اختلاف کیا کہ تحریک انصاف پر پابندیوں یا دباؤ کا فائدہ پیپلز پارٹی کو ہوا۔ ان کے مطابق 'وزیراعظم سمیت کئی وفاقی وزرا نے بھی انتخابات کے سلسلے میں گلگت بلتستان کا رُخ کیا، مگر ہم نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا کیونکہ ہمیں اپنی محنت پر مکمل بھروسہ تھا۔'
انھوں نے کہا کہ تاریخی طور پر بھی گلگت بلتستان کے عوام نے پیپلز پارٹی کو اپنی نمائندہ جماعت کے طور پر قبول کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ روایت ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے جاری ہے، اور پرویز مشرف کے مارشل لا کے باوجود بھی اس خطے سے پیپلز پارٹی نے اس وقت کے انتخابات میں آٹھ نشستیں حاصل کی تھیں۔
امجد حسین کا کہنا ہے کہ گذشتہ انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی کو سب سے زیادہ ووٹ ملے تھے مگر حالات سازگار نہ ملنے کی وجہ سے دو، دو اور تین، تین ووٹوں سے بھی وہ متعدد نشستیں ہار گئے تھے۔
امجد حسین نے دعویٰ کیا کہ جو غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج سامنے آ چکے ہیں اگر اس کے بعد کوئی غیر متوقع رکاوٹ پیش نہ آئی تو اُن کی جماعت باآسانی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہو گی۔
’پیپلز پارٹی کے پاس الیکٹیبلز تھے‘
گلگت بلتستان کے صحافی اور تجزیہ کار منظر شگری کی رائے میں غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کی برتری واقعی حیران کن ہے چونکہ یہ جماعت گذشتہ دو عام انتخابات (2015 اور 2020) میں خاطر خواہ کامیابی نہیں سمیٹ سکی تھی۔
یاد رہے 2015 کے عام انتخابات میں ن لیگ گلگت بلتستان میں 24 میں سے 15 نشستوں پر کامیاب رہی تھی جبکہ سنہ 2020 کے انتخابات میں 24 نشستوں میں سے پی ٹی آئی نے 10 پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے بالترتیب پانچ اور تین نشستیں حاصل کی تھی جبکہ سات نشستوں پر آزاد آمیدوار کامیاب ہوئے تھے۔ 2020 کے عام انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں نے ہی انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا، تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ الزامات مسترد کیے گئے تھے۔
منظر شگری کے مطابق اگرچہ فی الحال پانچ حلقوں کے بعض پولنگ سٹینشز پر ری پولنگ ہونا باقی ہے،مگر پیپلز پارٹی چاہے گی کہ ان انتخابات میں کامیاب ہونے والے آزاد امیدواروں کو اپنے ساتھ ملا کر حکومت قائم کرنے کی کوشش کرے۔
ان کے مطابق 33 نشستوں پر مشتمل گلگت بلتستان اسمبلی میں حکومت قائم کرنے کے لیے کسی بھی جماعت کو 17 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔ 'اگر پیپلز پارٹی چند آزاد امیدواروں کو ملا کر اپنی برتری 12 سیٹوں تک لے جائے تو خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی سیٹیں ملنے کے بعد یہ جماعت 17 نشستوں کے قریب آ سکتی ہے۔'
وہ کہتے ہیں کہ دوسرا آپشن ن لیگ کے ساتھ اتحاد قائم کرنے کا ہو گا، تاہم اُن کے خیال میں اس کے امکانات کم ہیں۔ 'دونوں جماعتوں کی نظریں وفاق میں اپنی قیادتوں کی طرف ہوں گی۔ ابھی تک پیپلز پارٹی کو گلگت بلتستان کی حکومت دینے کی باتیں ہو رہی ہیں۔'
منظر شگری کہتے ہیں چونکہ 28ویں آئینی ترمیم لانے کی تیاری ہو رہی ہے اور بجٹ بھی پیش کیا جانا ہے تو عین ممکن ہے کہ ن لیگ گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی اقتدار تک پہنچنے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
منظر شکری کے مطابق سنہ 2009 میں آخری مرتبہ پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان میں حکومت بنائی تھی۔ '2015 میں انھیں بہت پیچھے جانا پڑا، 2020 میں وہ مزید پیچھے چلے گئے۔ اور پھر فاروڈ بلاک بن گیا۔'
پیپلز پارٹی کی برتری کی وجوہات بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ن لیگ کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے پاس ان انتخابات میں زیادہ الیکٹیبلز تھے جس کی وجہ سے یہ جماعت 23 حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کرنے میں کامیاب رہی ۔ 'ہر حلقے میں ان کے پاس دو سے تین الیکٹیبلز تھے جس کی وجہ سے ٹکٹوں کی تقسیم میں بھی مسئلہ آیا تھا۔'
منظر شگری کہتے ہیں کہ 'پاکستان میں ووٹرز کی توجہ الیکٹیبلز کی طرف ہوتی ہے۔ یعنی کون سا شخص زیادہ منتخب ہوتا ہے، ایسے امیدوار جو خود حلقے میں رہتے ہیں۔ تاہم ن لیگ کے پاس الیکٹیبلز کی تعداد کم تھی۔'
ان کے مطابق ان نتائج کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بعض الیکٹیبلز دیگر جماعتوں سے منحرف ہو کر پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔
پیپلز پارٹی کو کہاں اپ سیٹ ہوا؟
منظر شگری کی رائے میں ان انتخابات میں سب سے بڑا اپ سیٹ گلگت بلتستان اسمبلی کے حلقہ 24 (گانچھے تھری) میں دیکھا گیا جہاں فارم 47 کے مطابق اور غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار انجینیئر محمد اسماعیل کو شکست ہوئی۔
وہ کہتے ہیں کہ 'یہ گلگت بلتستان اسمبلی کی تاریخ کا ساتواں الیکشن تھا جن میں سے چھ بار انجینیئر اسماعیل، جو کہ خطے میں پیپلز پارٹی کے جنرل سیکریٹری بھی ہیں، کامیاب رہے۔ مگر اب وہ ایک نوجوان آزاد امیدوار اسد شفیق کے خلاف ہار گئے ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ اسد شفیق ایک سابق سی ایس ایس افسر تھے جن کے والد پہلے الیکشن لڑ چکے تھے۔ 'انھوں نے نوکری چھوڑ کر الیکشن لڑا۔ ن لیگ نے انھیں ٹکٹ دینے کی بھی پیشکش کی تھی لیکن انھوں نے انکار کر دیا تھا۔'
وہ کہتے ہیں کہ یہ بڑا اپ سیٹ اسی لیے ہے کیونکہ چھ بار منتخب ہونے والے امیدوار کو ایک نوجوان نے ہرایا ہے۔
خیال رہے کہ انجینیئر محمد اسماعیل نے فیس بُک پر ایک پیغام میں اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ '1994 سے اب تک لوگوں نے اس حلقے میں مجھ پر اعتماد کا اظہار کیا۔۔۔ ہوسکتا ہے کہ لوگوں کو مجھ سے شکایات بھی ہوں۔ عوام نے جو فیصلہ کیا میں اسے قبول کرتا ہوں۔'
انھوں نے کہا کہ 'عوام نے میرے مخالف کو مینڈیٹ دیا ہے، ہار جیت سیاست کا حصہ ہے۔ حلقے میں کام جاری رکھوں گا۔'
سعد رفیق کا دعویٰ ہے کہ آزاد امیدوار اسد شفیق کو مسلم لیگ ن کی حمایت حاصل تھی۔
گلگت بلتستان کا لکی سیاسی سرکسگلگت بلتستان انتخابات پر انڈیا کے ’شدید احتجاج‘ پر پاکستان کا جواب: ’مضحکہ خیز دعوے حقیقت کو افسانے میں بدلنے کی کوشش ہیں‘گلگت بلتستان کا خطہ پاکستان کے زیرِ انتظام کیسے آیا؟سینکڑوں سال پرانا ’خالصہ سرکار‘ کا قانون جو گلگت بلتستان کے عوام کے زمینی حقوق کی راہ میں حائل ہے’سرجنگ گلیشیئر‘: گلگت بلتستان کی وہ خوبصورتی جو اب یہاں کے رہائشیوں کو ’خوفزدہ‘ کر رہی ہے’سامان چھوڑو، بیوی بچوں اور بوڑھوں کو لے کر نالے سے دور ہوجاؤ‘: چرواہے کی گلیشیئر جھیل پھٹنے کی اطلاع جس نے گلگت بلتستان میں درجنوں جانیں بچائیں