’ایران، قطر میں زمینی سرحد‘ اور ’ٹرمپ کو مودی کی کلائی کا سہارا‘: جی سیون اجلاس میں عالمی رہنماؤں کے درمیان دلچسپ گفتگو اور لمحات

بی بی سی اردو  |  Jun 17, 2026

Getty Images

فرانس میں جہاں جی سیون ممالک کے سربراہی اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ اور روس، یوکرین جنگ سمیت دنیا بھر کے بڑے مسائل موضوعِ گفتگو رہے، وہیں متعدد ممالک کے رہنماؤں کی ہلکی پھلکی گفتگو اور دلچسپ جملوں کے تبادلے بھی سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زايد آل نہيان اور ایک عرب صحافی کے ساتھ گفتگو کی ویڈیوز شیئر ہو رہی ہیں، وہیں اٹلی کی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی، انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی، جرمنی کے چانسلر فریڈرش میرس اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان بھی تبصروں کا مرکز بنے نظر آ رہے ہیں۔

آئیں آپ کو بتاتے ہیں کہ سنجیدہ موضوعات کے ساتھ ساتھ جی سیون کے سربراہی اجلاس میں دنیا کی بڑی جمہوریتوں کے رہنما آپس میں کیا باتیں کرتے رہے ہیں۔

’جب آپ اتنے امیر ہوتے ہیں تو دھیمی آواز میں بات کر سکتے ہیں‘Getty Images

صدر ٹرمپ اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زايد آل نہيان کے درمیان ملاقات کے دوران کئی مرتبہ ہال میں ہنسی اور قہقہوں کی آوازیں گونجتی رہیں۔

ایک موقع پر محمد بن زايد آل نہيان اپنے امریکی ہم منصب سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے حوالے سے کچھ کہتے ہوئے سُنائی دیے لیکن اُن کی آواز بہت دھیمی تھی، جو شاید ٹرمپ کے علاوہ کسی اور کو نہ سنائی دی ہو۔

اس کے ردعمل میں صدر ٹرمپ نے کہا ’بہت شکریہ میرے دوست۔‘ اس بعد انھوں نے محمد بن زايد آل نہيان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’دیکھیں جب آپ اتنے امیر ہوتے ہیں تو آپ اِتنے دھیمے انداز میں بھی بات کر سکتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’میں یہ سوچ رہا تھا کہ آپ لوگ یہ سب سُن بھی پا رہے ہیں؟ لیکن جب آپ اتنے امیر ہوتے ہیں تو آپ کو ایسا اعتماد حاصل ہوتا ہے کہ آپ کو اپنی آواز پر زور ڈالنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔‘

ان کی اس بات پر وہاں قہقہے گونج اُٹھے۔

اسی ملاقات کے موقع پر موجود ایک صحافی نے صدر ٹرمپ سے کہا ’جناب صدر، میرے پاس آپ کے لیے سوال ہے۔‘

ابھی وہ صحافی اتنا ہی کہہ پائے تھے کہ صدر ٹرمپ نے کہا ’یہ کتنے خوبصورت آدمی ہیں۔‘

اس کے بعد انھوں نے متحدہ عرب امارات کے صدر سے پوچھا ’کیا اِن (صحافی) کا تعلق آپ کے ملک سے ہے؟ ان کا انداز کتنا اچھا ہے۔ ہمارے لوگ تو بہت سخت مزاج ہوتے ہیں۔ یہ بہت باادب ہیں، انھیں تو ابھی کسی فلم میں بھی لیا جا سکتا ہے۔‘

نریندر مودی اور جارجیا میلونی کے درمیان انسٹاگرام سے متعلق گفتگوGetty Images

انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی رواں برس مئی میں دو روزہ سرکاری دورے پر اٹلی گئے تھے، جہاں اُن کی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی کے ساتھ کئی ویڈیوز اور تصاویر انسٹاگرام سمیت متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہوئی تھیں۔

ایک ایسی ویڈیو بھی تھی، جس میں وزیرِ اعظم مودی اپنی اطالوی ہم منصب کو ایک چاکلیٹ کا پیکٹ بطور تحفہ دے رہے تھے۔

لیکن یہ بات چونکہ پُرانی ہو چکی تھی اور لوگوں کا لگا ہو گا کہ شاید یہ طنز و مزاح اب ختم ہو گیا ہے لیکن ایسا نہیں ہوا۔

’مجھے پتا ہے وزیر اعظم مودی کو سوال پسند نہیں لیکن یہ میری ذمہ داری تھی‘: ناروے کی صحافی ہیلی لینگ کا انڈیا میں چرچاوزیرِاعظم اور سیاستدانوں سمیت مشہور خواتین کی مسخ شدہ تصاویر اور نازیبا تبصرے شائع کرنے والی ویب سائٹ بند کر دی گئیٹرمپ کی جانب سے خود کو حضرت عیسیٰ جیسی شخصیت کے طور پر دکِھانے والی تصویر پر تنقید: ’میں سمجھا تھا کہ یہ میں ہوں، بطور ڈاکٹر‘ٹرمپ کی متنازع ’زمین پر جہنم‘ سے متعلق پوسٹ پر انڈیا کا ردعمل: ’تبصرے لاعلمی پر مبنی، نامناسب اور ناموزوں ہیں‘

اجلاس کے دوران جب تمام سربراہان مملکت ایک باغیچے میں ایک دوسرے سے مصافحہ کر رہے تھے تو ایک مرتبہ پھر نریندر مودی اور جارجیا میلونی آمنے سامنے آئے اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں اطالوی وزیرِ اعظم اپنے انڈین ہم منصب سے کہتی ہوئی نظر آئیں: ’آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی۔ ہم انسٹاگرام پر سب سے زیادہ مشہور جوڑا ہیں۔‘

انڈین نیوز ایجنسی ’اے این آئی‘ نے اس ویڈیو کی تصدیق کی ہے۔

لیکن جی سیون اجلاس کے دوران یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلا وان ڈر لیئن، برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹامر، جرمن چانسلر فریڈرش میرساور دیگر رہنماؤں کے سامنے جارجیا میلونی یہ بتاتی ہوئی نظر آئیں کہ انھوں نے سگریٹ نوشی چھوڑ دی ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں اطالوی وزیرِ اعظم کہہ رہی تھیں کہ انھوں نے صبح کافی کے تین کپ پیے ہیں اور اس موقع پر جرمن چانسلر نے فوراً ایک ٹکڑا جوڑا ’اور ایک سگریٹ؟‘

وزیرِ اعظم میلونی نے جواب دیا: ’نہیں میں نے چھوڑ دی ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ انھوں نے سگریٹ نوشی کب ترک کی ہے، تو انھوں نے کہا ’ایک مہینہ قبل۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ برس اکتوبر میں ترکی اور اٹلی کے سربراہاں کے علاوہ دیگر ممالک کے رہنما مصر میں غزہ سے متعلق ایک اجلاس میں شریک ہوئے تھے اور اس موقع پر رجب طیب اردوغان اور جارجیا میلونی کے درمیان گفتگو کو متعدد نیوز آؤٹ لیٹس نے رپورٹ کیا تھا۔

پولیٹیکو کے مطابق صدر اردوغان نے وزیرِ اعظم میلونی کو کہا تھا کہ ’آپ اچھی لگ رہی ہیں لیکن مجھے آپ کی سگریٹ نوشی چھڑوانی ہو گی۔‘

اس موقع پرن وہاں فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں بھِی موجود تھے جنھوں نے برجستہ کہا ’یہ ناممکن ہے۔‘

جی سیون سربراہان کی گروپ فوٹو کے دوران جب تمام رہنما ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے تو، وہاں موجود سٹیج پر چڑھنے کے لیے محض ایک سیڑھی تھی۔ اس موقع پر وزیر اعظم مودی نے صدر ٹرمپ کو وہاں چڑھنے میں مدد دینے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا تو امریکی صدر نے ان کی کلائی پکڑ کر سہارا لیا اور سٹیج پر چڑھ گئے۔

Getty Imagesکیا قطر محلِ وقوع کے اعتبار سے ایران کے سب سے زیادہ قریب ہے؟

قطر کے امیر تميم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ دوحہ نے ایران کے ساتھ معاہدے پر پہنچنے میں بہت مدد کی ہے۔

اس موقع پر انھوں نے کہا کہ ’قطر محلِ وقوع کے اعتبار سے ایران کے سب سے زیادہ قریب ہے۔ میں نے نوٹ کیا ہے کہ بعض دیگر ممالک سے وہاں (ایران) پہنچنے میں 45 منٹ سفر کرنا پڑتا ہے، لیکن قطر سے آپ پیدل سرحد پار کر کے ایران داخل ہو سکتے ہیں۔‘

امریکی صدر کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر کافی بحث ہو رہی ہے کیونکہ ایران اور قطر کے درمیان کوئی زمینی سرحد موجود ہی نہیں ہے۔

جیروم گوڈفروئے نامی ایکس صارف نے لکھا کہ ’ٹرمپ، جنھوں نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک بے معنی جنگ میں امریکی فوج کو جھونک دیا، خطے کے جغرافیے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایران اور قطر کے درمیان سرحد کو پیدل عبور کیا جا سکتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان خلیجِ فارس کا پانی ہے اور ان کے درمیان کوئی زمینی سرحد موجود نہیں۔‘

ایک اور صارف نے بتایا کہ صرف سعودی عرب کی زمینی سرحد قطر سے ملتی ہے اور قطر اور ایران کے درمیان خلیجِ فارس ہے۔

انھوں نے مزید لکھا کہ ٹرمپ کے اس بیان پر قطر کے امیر بھی ’حیران‘ ہیں۔

اب ’دولے شاہ کے چوہے‘ کیوں نظر نہیں آتے؟اٹلی کے عجائب گھر میں چوری: جب چور صرف تین منٹ میں 90 لاکھ یورو کے فن پارے لے کر فرار ہو گئے سابقہ محبوبہ کی بطور مشیر تعیناتی: وہ سکینڈل جس پر اٹلی کے وزیر کو مستعفی ہونا پڑا’عشق و محبت کے ملک‘ اٹلی کے شہری سیاحوں سے نالاں: ’ہم سیاحت کی وجہ سے مرنا نہیں چاہتے‘’پڑھو گے، لکھو گے تو بنو گے نواب‘۔۔۔ لیکن چور کو دورانِ واردات کتاب پڑھنا مہنگا پڑ گیا
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More