آئل ٹینکر پر مبینہ حملے کا تہران کو وقت آنے پر جواب دیا جائے گا، اسرائیل

وائس آف امریکہ اردو  |  Aug 05, 2021

ویب ڈیسک — اسرائیل کے نو منتخب وزیر اعظم نفتالی بینٹ نے کہا ہے کہ ان کا ملک بحیرہ عرب میں آئل ٹینکر پر ایران کے مبینہ حملے کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا۔

بینٹ نے منگل کے روز شمالی اسرائیل میں فوجی عہدے داروں کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا کہ ایرانی رہنما پورے مشرق وسطیٰ میں آگ بھڑکا کر تہران میں سکون سے نہیں بیٹھ سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم دنیا کو شامل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ لیکن جب وقت آئے گا تو ہمیں معلوم ہے کہ اکیلے کیسے عمل کرنا ہے۔

'واشنگٹن ایگزامینر' کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بینٹ کے اس بیان کو اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک بڑی جھڑپ کے امکان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کی مقامی اور سفارتی اہمیت ہے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے آئل ٹینکر پر مبینہ حملے کے واقعہ کے خلاف اجتماعی ردعمل دینے کا وعدہ کیا ہے۔ بلنکن نے واضح کیا کہ وہ پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ایران نے متعدد ڈرونز کی مدد سے یہ حملہ کیا۔

اس مبینہ حملے میں دو عام شہری ہلاک ہو گئے تھے جن میں سے ایک کا تعلق برطانیہ اور دوسرے کا رومانیہ سے تھا۔

نیٹو کے ترجمان نے منگل کے روز کہا کہ ہم عمان کے ساحل کے قریب بحری ٹینکر ایم وی مرسر سٹریٹ پر مہلک حملے کی بھرپور مذمت کرنے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہیں۔ اور ہم رومانیہ اور برطانیہ سے ان کی شہریوں کی ہلاکت پر تعزیت کرتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آزادانہ جہاز رانی کا حق تمام نیٹو اتحادیوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی قانون کا لازمی اطلاق کیا جانا چاہیے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ برطانیہ، امریکہ اور رومانیہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ زیادہ امکان یہ ہے کہ ایران اس واقعہ کا ذمہ دار ہے۔ تمام اتحادیوں کو ایران کی جانب سے خطے کو عدم استحکام کی جانب دھکیلنے کی کارروائیوں پر تشویش ہے اور وہ تہران پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے۔

برطانیہ کے ایک اعلیٰ کمانڈر، جنرل نک کارٹر نے کہا ہے کہ چند روز قبل خلیج میں تیل کے ایک ٹینکر پر ایران کے مبینہ ڈرون حملے کے جواب میں مغربی طاقتوں کو جوابی کارروائی کرنے چاہیے۔ ان کے بقول، اگر ایسا نہ کیا گیا تو اس سے ایران کو شہ ملے گی۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے، برطانوی ڈیفنس اسٹاف کے سربراہ نے کہا کہ خلیج میں اپنی طاقت برقرار نہ رکھی گئی تو ایران ہمارے اثاثوں پر مزید حملے کرسکتا ہے، اور وہ غلط اندازے لگا سکتا ہے۔

بقول ان کے، ''بنیادی طور پر جو چیز ہمیں کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ ایران اپنے انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویے کا حساب دے''۔

دوسری جانب ایران نے 29 جولائی کو عمان کے ساحل کے پاس ایم وی مرسر اسٹریٹ نامی آئیل ٹینکر پر ڈرون حملے کے الزام کو مسترد کیا ہے۔ یہ جہاز جاپان کی ملکیت ہے لیکن اس کا انتظام لندن میں قائم زوڈئیک میری ٹائم کمپنی چلاتی ہے، کمپنی کے مالک اسرائیلی ارب پتی، ایال اوفر ہیں۔

حکومت برطانیہ اور امریکی صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ نے آئل ٹینکر پر ڈرون حملے کا الزام ایران پر لگایا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ، ڈومنک روب نے اس ایک ''غیر قانونی اور سنگدلانہ'' حرکت قرار دیا ہے۔

اس ہفتے کے اوائل میں انھوں نے مزید کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایران کی جانب سے دانستہ طور پر، ہدف بنا کر بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی کی گئی ہے۔

اسرائیل کی حکومت نے بدھ کے روز ایران کے فوجی اہلکار سعید اریجانی پر الزام لگایا کہ انہی کی نگرانی میں یہ ڈرون حملہ کیا گیا جو پاسداران انقلاب میں ڈرون دستے کے سربراہ ہیں۔

اسرائیل کے حزب اختلاف کے لیڈر بن یامین نتتن یاہو نے، جن کی جگہ بینٹ جون میں وزیراعظم بنے ہیں، تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بینٹ کے اقدامات سے اسرائیل کا حملہ سبوتاژ ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بینٹ نے جو معلومات امریکہ بھجوائی ہیں وہ میڈیا کو لیک ہو سکتی ہیں جس سے ہمارے آپریشن کو نقصان پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر اسرائیل کو ’سرپرائز‘ دینا چاہیے اور بعض دفعہ فوری ردعمل دینے کی فی الواقع ضرورت ہوتی ہے۔

اسرائیل سے متعلقہ ایک اور خبر میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے لبنان سے اسرائیلی حدود میں فائر کیے جانے والے تین راکٹوں کا جواب بدھ کے روز توپ خانے کی مسلسل گولا باری سے دیا۔

فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

یہ اعلان شمالی اسرائیل میں لبنان کی جانب سے ممکنہ راکٹ حملوں سے چوکس رہنے کے لیے سائرن بجائے جانے کے بعد سامنے آیا۔

فوج نے کہا ہے کہ دو راکٹ اسرائیلی علاقے میں گرے جس کا جواب لبنان میں توپ خانے کی گولاباری سے دیا گیا۔

چینل 12 کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے ایک راکٹ ایک کھلے علاقے میں گرا جب کہ دوسرے راکٹ کو اسرائیل کے ڈیفنس سسٹم 'آئرن ڈوم' نے ناکارہ بنا دیا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے بتایا ہے کہ لبنان میں عہدے داروں نے فوری طور پر اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ راکٹ حملے لبنان میں موجود فلسطینی گروپس نے کیے تھے نہ کہ عسکری گروپ حزب اللہ نے۔ تاہم یہ امکان کم ہے کہ فلسطینی گروپ، حزب اللہ کی رضامندی کے بغیر یہ کارروائی کر سکیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More