امریکی ڈالر 175روپے سے بھی متجاوز

سماء نیوز  |  Oct 26, 2021

آئی ایم ایف قرض پروگرام منظوری میں تاخیر کی وجہ سے مقامی کرنسی مارکیٹوں میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی اونچی اڑان منگل کو بھی برقرار ہے اور ٹریڈنگ کے دوران انٹر بینک میں امریکی ڈالر 175روپے کی سطح پر پہنچ گیا جب کہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر 175.50روپے پر جا پہنچا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ تجارتی و کرنٹ خسارہ بڑھنے کی وجہ سے بیرونی ادائیگیوں کا توازن متاثر ہو رہا ہے جس کا اثر زرمبادلہ کے ذخائرمیں کمی اور روپے کی قدر پر دباوٗ کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔

فاریکس ایسوسی ایشن کے مطابق منگل کو انٹر بینک میں امریکی ڈالر 45پیسے کے اضافے سے 174.55روپے سے بڑھ کر 175روپے ہوگیا جب کہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر مزید 20پیسے بڑھ گئی جس کے نتیجے میں امریکی ڈالر 175.30روپے سے بڑھ کر 175.50روپے کی ملکی تاریخ کی ایک اور بلند سطح پر پہنچ گیا جب کہ ٹریڈنگ کے دوران ڈالر 175.30روپے کی سطح پر بھی دیکھا گیا۔

یکم اکتوبر کو اوپن مارکیٹ میں ڈالر 172.40روپے کا تھا جس میں اب تک 3.10روپے کا اضافہ ہوچکا ہے جب کہ انٹر بینک میں یکم اکتوبر کو ڈالر 170.48روپے کا تھا یعنی اکتوبر کے مہینے میں اب تک انٹر بینک میں بھی ڈالر 4.52روپے مہنگا ہوچکا ہے۔

رواں سال مئی میں ڈالر 152روپے کی نچلی سطح پر تھا جس کے بعد ڈالرکی قدر میں 25اکتوبر تک 12.70 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔

معاشی ماہر عبدالعظیم نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل سمیت دیگر کموڈٹیز کے نرخ بڑھ گئے ہیں جس کی وجہ سے درآمدات کا دباوٗ ہے اور کرنٹ اکاونٹ خسارہ بھی بڑھ گیا ہے اس صورتحال میں آئی ایم ایف سے قرض پروگرام میں جب تک پیش رفت نہیں ہوگی ڈالر پر دباوٗ برقرار رہے گا۔

عبدالعظیم کے مطابق پاکستان کو 3.4ارب ڈالر کے سکوک اور یورو بانڈز جاری کرنے ہے اس کے لیے بھی آئی ایم ایف کا پروگرام ضروری ہے، آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے تاثر اچھا ملتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایک دو روز میں آئی ایم ایف پروگرام میں مثبت پیش رفت کا امکان ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More