وقار یونس کی ’ہندوؤں کے بیچ نماز‘ سے متعلق بیان پر معافی: ’کرکٹ تو متحد کرتی ہے تقسیم نہیں‘

بی بی سی اردو  |  Oct 27, 2021

وقار
Getty Images

پاکستان اور انڈیا کا کرکٹ میچ ہو اور بات صرف گراؤنڈ تک ہی محدود رہے، یہ کم کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ میچ کھیل ہی نہیں بلکہ ایک ایسی تقریب کی شکل اختیار کر جاتا ہے جس کے بارے میں میچ سے پہلے اور بہت بعد تک باریک بینی سے تجزیے کیے جاتے ہیں۔

میچ سے پہلے دونوں ملکوں کے ٹی وی چینل مل کر ’ٹاکرے‘ ٹیلی کاسٹ کرتے ہیں، میچ کے دوران میراتھان ٹرانسمیشنز ہوتی ہے جبکہ میچ کے بعد نتیجے کے اعتبار سے تنقید یا تعریف کی جاتی ہے اور اس دوران اکثر سابق کھلاڑی اور تجزیہ کار جوش خطابت میں ایسی باتیں بھی کہہ جاتے ہیں جو وہ عام حالات میں کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

منگل کو جب پاکستان نے ورلڈ کپ مقابلوں کی تاریخ میں انڈیا کو پہلی مرتبہ شکست دی تو اس جیت کا جشن اگلے روز بھی منایا جاتا رہا اور اس حوالے سے ٹی وی ٹاک شوز پر پاکستان کی فتح کی کہانی ہی موضوع بحث رہی۔

ایسے ہی ایک ٹاک شو پر پاکستان کے سابق کپتان اور فاسٹ بولر وقار یونس سے بھی ایسے ہی کلمات ادا ہوئے جن کے بارے میں سرحد پار خاص طور پر تنقید کی جا رہی ہے۔

انھوں نے میچ کے سب سے بہترین لمحات کا ذکر کرتے ہوئے رضوان کی بیٹنگ کے بارے میں بات کی اور پھر کہا کہ ’سب سے اچھی بات جو رضوان نے کی، اس نے ماشااللہ گراؤنڈ میں ہندوؤں کے بیچ میں کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور یہ میرے لیے بہت خاص تھا۔‘

انڈیا کے معروف کمنٹیٹر ہرشا بھوگلے نے اس حوالے سے وقار یونس جیسے انسان کا یہ کہنا کہ 'رضوان کا ہندوؤں کے درمیان نماز پڑھنا ان کے لیے سپیشل تھا، میرے لیے انتہائی مایوس کن باتوں میں سے ایک ہے۔

’ہم میں سے اکثر لوگ ایسی باتوں کو نظر انداز کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں اور کھیل کے بارے میں بات کرتے ہیں، لیکن یہ بات سُننا انتہائی تکلیف دہ تھا۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’مجھے امید ہے کہ پاکستان میں کھیل سے صحیح معنوں میں محبت کرنے والوں کو اس بیان کا خطرناک پہلو نظر آیا ہو گا اور وہ اس بارے میں مایوسی کا اظہار کرنے میں میرا ساتھ دیں گے۔ ایسے بیانات سے کھیلوں سے محبت کرنے والوں کو لوگوں کو یہ بتانے میں بہت مشکل ہوتی ہے کہ یہ صرف کھیل ہے، ایک کرکٹ میچ ہے۔‘

'آپ امید کرتے ہیں کہ کرکٹرز ہمارے کھیل کے سفیر ہوتے ہیں اس لیے وہ زیادہ ذمہ داری کا ثبوت دیں گے۔ ہمیں کرکٹ کی دنیا کو متحد کرنا ہے اسے مذہبی بنیادوں پر تقسیم نہیں کرنا۔'

ہرشا بھوگلے کی ٹویٹ کے بعد جہاں دیگر افراد کی جانب سے بھی وقار پر تنقید کی گئی، وہیں وقار یونس کی جانب سے اب اس حوالے سے معافی بھی مانگی گئی ہے۔

وقار یونس نے معافی میں کیا کہا؟

اے سپورٹس کے پروگرام پویلین میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے میچ کے بعد نشریات کے اختتام پر بات کرتے ہوئے وقار یونس کا کہنا تھا کہ ’میری نیت کبھی بھی ایسی نہیں تھی اور نہ میں کبھی مذہب پر بات کرتا ہوں یا پنگا لیتا ہوں، میں بہت پرجوش تھا کہ پاکستان میچ جیت گیا اور اس جوش میں میں نے رضوان کے نماز پڑھنے سے متعلق بات کرتے ہوئے کچھ ایسے الفاظ کہہ دیے جس سے ہو سکتا ہے کہ کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہوں۔‘

’میں معافی مانگتا ہوں اگر کسی کو میری وجہ سے تکلیف ہوئی ہے۔ میرا کہنا کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا، یہ ایک میچ کے بارے میں تھا، اور جوش خطابت میں ایسا ہو جاتا ہے، میں معافی مانگتا ہوں۔‘

https://twitter.com/waqyounis99/status/1453109128755232772?s=20

یہاں شو کے میزبان فخر عالم نے کہا کہ ’دوسرے ملک سے اس پر جو ردِ عمل آ رہا ہے اس میں شاید پاکستان کی جیت کا بھی عمل دخل ہو۔‘ اس پر وقار یونس نے کہا کہ ’یہ بھی میں کہنا چاہتا تھا کہ کیونکہ پاکستان میچ جیتا تو اسے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا کیونکہ ان کے پاس کوئی اور وجہ نہیں تھی، لیکن پھر بھی میں یہ سمجھتا ہوں کہ مجھے یہ نہیں کہنا چاہیے تھا، یہ غلط تھا، اس لیے آگے بڑھتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کے ہاتھوں شکست پر اکشے ’پنوتی‘ اور شامی ’غدار‘ کیوں ہو گئے؟

پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ: کیا ʹموقع موقعʹ کے بعد اب بات ʹبدلہ بدلہʹ کی ہے؟

جب حارث رؤف اور پاکستان نے ’تضحیک‘ کا جواب دینے کے لیے شارجہ کو چنا

ٹی 20 ورلڈ کپ کا سپر 12 مرحلہ شروع، پاکستان کے میچ کب، کہاں اور کس کے خلاف ہوں گے؟

اس پروگرام میں معافی مانگنے کے کچھ ہی دیر بعد وقار یونس نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی ٹویٹ کی اور معافی مانگنے کے بعد لکھا کہ ’کھیل لوگوں کو نسل، رنگ اور مذہب کی تفریق سے بالاتر ہو کر متحد کرتے ہیں۔‘

سوشل میڈیا پر ردِ عمل

ایک صارف بختاور شیخ نے اس بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 'بطور مسلمان مجھے فخر تھا کہ (رضوان) نے نماز نہیں چھوڑی اور اس کے لیے وقت نکالا۔ لیکن بس بات یہیں تک تھی۔ اس سے ان کا ہندوؤں کے درمیان نماز پڑھنے وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مجھے وقار یونس کے اس بیان پر بہت مایوسی ہوئی ہے۔ پتا نہیں کب میچور ہوں گے ہم۔'

صارف ولید فرخ نے ہرشا بھوگلے کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ کھیل سے سیاست اور مذہب کو نہ جوڑا جائے لیکن ہمارے ملک میں کچھ افراد پوائنٹ سکور کرنے اور دائیں بازو کے افراد میں مقبولیت کے لیے اییسے بیانات دیتے ہیں۔ ایسے لوگ دونوں ہی ممالک میں ہیں۔

نسرین نامی صارف نے لکھا کہ ’رضوان نے تو صحیح کیا۔ نماز ہر چیز سے پہلے آنی چاہیے، اس میں کچھ غلط نہیں تھا اور میرے خیال میں کسی کو برا بھی نہیں لگا۔ لیکن جو وقار نے کہا وہ غلط تھا، اور 'ہندوؤں کے بیچ' جیسے الفاظ کا استعمال انتشاراور تقسیم پیدا کرتا ہے۔ یہ بہت غیر ذمہ دارانہ الفاظ تھے۔‘

’یہ وقار یونس کی جانب سے مضحکہ خیز بات، بالکل مضحکہ خیز۔ اور یہ بیان رضوان کی جانب سے شامی کے لیے پوسٹ کیے گئے بہترین پیغام کے لیے بھی انتہائی نقصان دہ ہے۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More