شعیب اختر اور نعمان نیاز کے درمیان بحث: ’نعمان نیاز نے صرف شعیب اختر نہیں بلکہ پاکستان کی بے عزتی کی‘

بی بی سی اردو  |  Oct 27, 2021

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی ابتدائی میچوں میں شاندار کامیابیوں نے جہاں پاکستانی کرکٹ شائقین کو جذباتی بنا دیا ہے وہیں بظاہر سابق کرکٹرز بھی جذبات کی رو میں بہتے نظر آ رہے ہیں۔

ابھی انڈین سپنر ہربھجن سنگھ کی پاکستانی فاسٹ بولر شعیب اختر کے ساتھ سوشل میڈیا پر بحث تکرار اور طنزیہ گفتگو کی بازگشت ختم نہیں ہوئی تھی کہ ہربھجن سنگھ ٹوئٹر پر ایک اور پاکستانی فاسٹ بولر محمد عامر کے ساتھ بیان بازی کرتے نظر آئے۔

دوسری جانب پاکستانی وکٹ کیپر اور بیٹسمین محمد رضوان کی میدان میں نماز کے بارے میں سابق فاسٹ بولر وقار یونس کے ریمارکس نے بھی سوشل میڈیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ بعدازاں وقار یونس نے کہا کہ وہ جذبات کی رو میں بہہ نکلے تھے اور وہ اپنے بیان پر معافی کے طلبگار بھی ہوئے۔

سابق کرکٹرز تو یہ تمام باتیں سوشل میڈیا پر بیٹھ کر رہے ہیں لیکن منگل کی رات پاکستان ٹیلی وژن کے سپورٹس چینل کے سٹوڈیو میں جو کچھ ہوا وہ ’دور دور‘ سے نہیں بلکہ ’آمنے سامنے‘ تھا جس کے دو مرکزی کردار اس پروگرام کے میزبان ڈاکٹر نعمان نیاز اور سابق فاسٹ بولر شعیب اختر ہیں۔

پروگرام میں ہوا کیا تھا؟

پی ٹی وی سپورٹس ان دنوں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ پر خصوصی نشریات کر رہا ہے جس کے میزبان ڈاکٹر نعمان نیاز ہیں۔

اس پروگرام میں مہمانوں کے طور پر ویسٹ انڈیز کے سر ویوین رچرڈز اور انگلینڈ کے ڈیوڈ گاور کے علاوہ پاکستان سے شعیب اختر، راشد لطیف، اظہر محمود، عمر گل اور ثنا میر شریک ہیں۔

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے میچ کے بعد یہ پروگرام معمول کے مطابق جاری تھا کہ اس میں نعمان نیاز اور شعیب اختر، فاسٹ بولر حارث رؤف کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اختلاف رائے کا شکار ہوئے اور اس کا اختتام شعیب اختر کے بطور احتجاج سٹوڈیو سے جانے پر ہوا۔

اس تنازع کی جو ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شعیب اختر فاسٹ بولر حارث رؤف کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ وہ لاہور قلندر کے ’پلیئرز ڈیولپمنٹ پروگرام‘ کے تحت سامنے آئے ہیں۔ جس پر نعمان نیاز ان سے کہتے ہیں کہ شاہین آفریدی پاکستان کی طرف سے کھیل چکے تھے جس پر شعیب اختر کا جواب ہوتا ہے کہ میں حارث رؤف کی بات کر رہا ہوں۔

حارث رؤف
Getty Images

شعیب اختر کو بظاہر میزبان نعمان نیاز کا ٹوکنا بُرا لگتا ہے اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’کوئی کام کے لیے آیا ہے‘ جس پر نعمان نیاز کو یہ کہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے کہ ’آپ تھوڑے سے اکھڑ لگے، زیادہ ہوشیار لگے، لہذا آپ جا سکتے ہیں۔ میں یہ بات آن ائیر کہہ رہا ہوں۔‘

نعمان نیاز نے یہ کہہ کر گفتگو کا رخ ثنا میر کی طرف موڑ لیا لیکن شعیب اختر نے انھیں روکتے ہوئے کہا ’ایکسکیوز می۔۔۔ ایکسکیوز می۔۔۔ ایکسکیوز می۔‘ اس موقع پر میزبان نے پروگرام میں بریک کا اعلان کیا۔

اس معاملے کی جو دوسری ویڈیو وائرل ہوئی ہے اس میں شعیب اختر بریک سے واپس آنے کے بعد یہ کہتے ہوئے نظر آرہے ہیں کہ ’میں پی ٹی وی سے مستعفی ہو رہا ہوں۔‘

اس ویڈیو میں شعیب اختر مزید کہتے ہیں کہ ’جس طرح میرے ساتھ قومی ٹی وی پر سلوک کیا گیا، اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ مجھے یہاں بیٹھنا چاہیے۔ اس لیے میں مستعفی ہو رہا ہوں۔ شکریہ۔‘

یہ کہہ کر شعیب اختر نے اپنا کالر مائیک اتارا اور چلے گئے۔

شعیب اختر: ’میرے پاس یہی راستہ تھا‘

شعیب اختر اس واقعے کے بعد ٹوئٹر پر خاصے متحرک نظر آئے اور انھوں نے اپنی ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر کئی وڈیو کلپس نظر آ رہے ہیں لہذا وہ صورتحال کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

شعیب اختر کا کہنا تھا کہ ’نعمان نیاز کا رویہ نامناسب تھا اور انھوں نے مجھے جانے کے لیے کہا۔ مجھے نہیں معلوم کہ انھوں نے مجھ سے یہ کیوں کہا۔ انھوں نے قومی ٹی وی پر ایک قومی سٹار کی بے عزتی کی اور مجھے سائیڈ پر کر دیا۔‘

’میں نے بریک میں سوچا کہ سارے سپر سٹارز بیٹھے ہوئے ہیں، غیر ملکی بیٹھے ہوئے ہیں۔ کیا امیج جائے گا۔ میں نے نعمان نیاز سے کہا کہ اس معاملے کو ختم کرتے ہیں کیونکہ آپ نے جو کچھ میرے ساتھ کیا وہ کلپ وائرل ہو جائے گا اس کا کوئی حل نہیں۔‘

شعیب اختر کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہی سوچا کہ اس معاملے کو مذاق کہہ کر ختم کیا جا سکتا ہے۔

’میں نے نعمان نیاز سے یہ بھی کہا کہ آپ مجھ سے معذرت کر لیں لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا اور جب انھوں نے معذرت نہیں کی تو میں نے سوچا کہ اب مجھے چلے جانا چاہیے۔ میں نے پروگرام کے دوران بھی اپنے طور پر اس معاملے کو نمٹانے کی پوری کوشش کی لیکن انھوں نے میری بے عزتی کی۔ اس پروگرام میں بیٹھے غیر ملکی کرکٹرز کیا سوچ رہے ہوں گے کہ آپ کے قومی سٹار کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

اسد شفیق: یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ دلیر ہوں یا نہیں

جب حارث رؤف اور پاکستان نے ’تضحیک‘ کا جواب دینے کے لیے شارجہ کو چنا

وقار یونس کی ’ہندوؤں کے بیچ نماز‘ سے متعلق بیان پر معافی: ’کرکٹ تو متحد کرتی ہے تقسیم نہیں‘

نعمان نیاز: ʹیہ یکطرفہ کہانی ہے‘

ڈاکٹر نعمان نیاز سے جب بی بی سی اردو نے رابطہ کر کے ان کا مؤقف جاننا چاہا تو ان کا مختصر جواب یہ تھا کہ انھیں جو بھی کہنا تھا وہ گذشتہ رات ہی اپنی ایک ٹویٹ میں کہہ چکے ہیں لہذا اس پر مزید تبصرہ نہیں کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’صرف یہی کہوں گا کہ میں اور شعیب اختر ایک ساتھ بڑے ہوئے ہیں اور جو کچھ سوشل میڈیا پر سامنے آ رہا ہے وہ یکطرفہ کہانی ہے جو ظاہر ہے سب کو متوجہ کر لیتی ہے۔‘

سوشل میڈیا پر ہر کوئی شعیب اختر کی حمایت میں

پی ٹی وی سپورٹس کے اس پروگرام میں جو کچھ ہوا اس کے بعد سوشل میڈیا پر اس کا ردعمل آنا فطری امر تھا۔

تبصروں کا ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا لیکن اس بارے میں اگر سوشل میڈیا پر نظر ڈالی جائے تو صارفین کی اکثریت شعیب اختر کے ساتھ کھڑی نظر آئی اور توپوں کا رُخ ڈاکٹر نعمان نیاز کی طرف ہی رہا۔

ملک خرم خان نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’اس بحث میں جائے بغیر کہ شعیب اختر اور نعمان نیاز میں سے کون صحیح ہے کون غلط، یہ بات اہم ہے کہ سرکاری چینل کے میزبان کا ایک سپورٹس لیجنڈ کو آن ائیر چلے جانے کا کہنا نامناسب ہے، اس میزبان کو فارغ کیا جانا چاہیے۔’

صحافی اجمل جامی نے لکھا: ’کیا لیجنڈ کے ساتھ ہم اسی طرح کا برتاؤ کرتے ہیں؟ ڈاکٹر نعمان نیاز کی بدتمیزی کے بعد شعیب اختر کو سٹوڈیو چھوڑنا پڑا۔‘

حذیفہ رانا کہتے ہیں کہ ’یہ شرم کی بات ہے جس طرح نعمان نیاز نے لیجنڈری شعیب اختر کی بے عزتی کی اور انھیں شو سے جانے کو کہا۔‘

راجہ خرم زاہد نے لکھا کہ ’شعیب اختر کے لیے بہت زیادہ احترام لیکن حکومت نعمان نیاز کے خلاف فوری ایکشن لے۔‘

عرفان صدیقی نے نعمان نیاز کی برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے صرف قومی ہیرو شعیب اختر کی نہیں بلکہ پاکستان کی بے عزتی کی۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More