پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کو اسلام آباد سے گرفتار کر لیا گیا

اردو نیوز  |  May 21, 2022

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ دیر میں سابق وزیراعظم عمران خان اس معاملے پر بات کریں گے۔

سنیچر کو اسلام آباد کے تھانہ کہسار کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے وکلا اسلام آباد ہائی کورٹ میں حبس بیجا کے خلاف پٹیشن دائر کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی قیادت کی مزید گرفتاریوں سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ خاتون اہلکاروں کی عدم موجودگی میں مرد اہلکاروں نے شیریں مزاری کو گرفتار کیا جو خلاف قانون ہے۔

پی ٹی آئی حکومت کے دور میں درج مقدمہ میں گرفتاری کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ریکارڈ کے مطابق شیریں مزاری کی پیدائش 1966 کی ہے جب کہ مقدمہ اس وقت کا ہے جب وہ چند برس کی بچی تھیں، یہ مضحکہ خیز ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل نے ایک ٹویٹ میں گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے پارٹی ورکرز کو اسلام آباد کے تھانہ کہسار پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔

اینٹی کرپشن پنجاب کی ٹیم نے اسلام آباد سے انہیں گرفتار کیا جو کہ اسی مقصد کے لیے اسلام آباد آئی تھی۔

اردو نیوز کے پاس دستیاب پولیس ریکارڈ کے مطابق شیریں مزاری کی گرفتاری کی وجہ بننے والا حالیہ مقدمہ اا اپریل 2022 کو درج کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر راجن پور کی جانب سے چھ اپریل 2022 کو بھی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ڈیرہ غازی خان ریجن کے ڈائریکٹر کو خط لکھا تھا۔ اس خط میں 1971.72 کی اصل جمع بندی کے غائب ہونے کی تحقیق کا ذکر کیا گیا تھا۔

شیریں مزاری کی بیٹی ایمان زینب مزاری نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’مرد پولیس افسران نے میری والدہ کو مارا اور پکڑ کر لے گئے۔ مجھے صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ اینٹی کرپشن ونگ لاہور نے ان کو حراست میں لیا ہے۔‘

ان پر 1972میں غیرقانونی طریقے سے اراضی کو کمپنی کے نام منتقل کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے، ان کے والد کی جانب سے یہ اراضی کمپنی کے نام منتقل کی گئی تھی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More