پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کو اسلام آباد سے گرفتار کرلیا گیا

اردو نیوز  |  May 21, 2022

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ دیر میں سابق وزیراعظم عمران خان اس معاملے پر بات کریں گے۔

سنیچر کو اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے وکلا اسلام آباد ہائی کورٹ میں حبس بیجا کے خلاف پٹیشن دائر کر رہے ہیں۔

پی ٹی ائی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اسد عمر نے ایک ٹویٹ میں آج شام پورے پاکستان میں احتجاج کی کال دی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’شیرین مزاری کو غیر قانونی طور پر حراست میں لینے پر پارٹی کے کارکنان تمام پاکستان میں آج شام احتجاج کریں گے۔‘

پی ٹی آئی قیادت کی مزید گرفتاریوں سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ خاتون اہلکاروں کی عدم موجودگی میں مرد اہلکاروں نے شیریں مزاری کو گرفتار کیا جو خلاف قانون ہے۔

شیرین مزاری کو غیر قانونی طور پر حراست میں لینے پر پارٹی کے کارکنان تمام پاکستان میں آج شام احتجاج کریں گے.#امپورٹڈ_حکومت_نامنظور

— Asad Umar (@Asad_Umar) May 21, 2022

رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ ’ہمیں ان کے بارے میں کچھ علم نہیں کہ وہ کہاں ہیں، یہ انسانی حقوق کی بڑی خلاف ورزی ہے، یہ حکومت کی جانب سے اعلان جنگ ہے تو ہماری جانب سے بھی اعلان جنگ ہے۔‘

فواد چوہدری نے کہا کہ ’اس حکومت کے غنڈوں نے ایک خاتون کو جس طرح گھر کے اندر سے اٹھایا، ان پر تشدد کیا گیا، ان کے کپڑے پھاڑے گئے اور جس بہیمانہ طریقے سے انہیں گاڑی میں بٹھایا گیا اسے گرفتار نہیں اغوا کہیں گے۔‘

پی ٹی آئی حکومت کے دور میں درج مقدمہ میں گرفتاری کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ریکارڈ کے مطابق شیریں مزاری کی پیدائش 1966 کی ہے جب کہ مقدمہ اس وقت کا ہے جب وہ چند برس کی بچی تھیں، یہ مضحکہ خیز ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل نے ایک ٹویٹ میں گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے پارٹی ورکرز کو اسلام آباد کے تھانہ کوہسار پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔

اینٹی کرپشن پنجاب کی ٹیم نے اسلام آباد سے انہیں گرفتار کیا جو کہ اسی مقصد کے لیے اسلام آباد آئی تھی۔

اردو نیوز کے پاس دستیاب پولیس ریکارڈ کے مطابق شیریں مزاری کی گرفتاری کی وجہ بننے والا حالیہ مقدمہ اا اپریل 2022 کو درج کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر راجن پور کی جانب سے چھ اپریل 2022 کو بھی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ڈیرہ غازی خان ریجن کے ڈائریکٹر کو خط لکھا تھا۔ اس خط میں 1971.72 کی اصل جمع بندی کے غائب ہونے کی تحقیق کا ذکر کیا گیا تھا۔

شریں مزاری جیسی ایماندار اور محب وطن خاتون کو گرفتار نہیں بلکہ اغوا کیا گیا ہے۔ ظلم اور جبر کی انتہا کردی ۔تمام محب وطن پاکستانی اس ظلم کے خلاف کھڑے ہو جائیں

اے خاک نشینوں اٹھ بیٹھووہ وقت قریب آ پہنچا ہےجب تخت گرائے جائیں گےجب تاج اچھالے جائیں گے#امپورٹڈ_حکومت_نامنظور pic.twitter.com/0hdxSw0nGK

— Faraz Chaudhry (@Faraz999) May 21, 2022

شیریں مزاری کی بیٹی ایمان زینب مزاری نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’مرد پولیس افسران نے میری والدہ کو مارا اور پکڑ کر لے گئے۔ مجھے صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ اینٹی کرپشن ونگ لاہور نے ان کو حراست میں لیا ہے۔‘

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایمان مزاری نے کہا کہ ’غنڈوں کی طرح ایک عورت کو آج اٹھایا گیا نہ اس کے خاندان کو کچھ بتایا گیا تو اگر اس قسم کی حرکتیں کرنی ہیں تو میں اس حکومت کو وارننگ دیتی ہوں کہ میں اس کے پیچھے آؤں گی۔‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’میری والدہ کو اس حکومت کی جانب سے جبراً لاپتا کیا گیا ہے مجھے نہیں معلوم وہ کہاں ہیں۔ میری والدہ کو گرفتار نہیں اغوا کیا گیا ہے۔‘

ان پر 1972میں غیرقانونی طریقے سے اراضی کو کمپنی کے نام منتقل کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے، ان کے والد کی جانب سے یہ اراضی کمپنی کے نام منتقل کی گئی تھی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More