شیریں مزاری کے خلاف مقدمہ بزدار حکومت میں بنایا گیا، مریم نواز

ہم نیوز  |  May 21, 2022

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ ن لیگ چاہتے ہوئے بھی لوڈشیڈنگ ختم نہیں کر پا رہی، اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ حکومت نے پلانٹس بند رکھے گئے، ان کی ادائیگیاں نہیں کی گئی۔ 

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شیریں مزاری کے خلاف مقدمہ بزدار حکومت میں بنایا گیا تھا، ان کی گرفتاری پر خوشی نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی شیریں مزاری کی گرفتاری پر عورت کارڈ کھیل رہی، اینٹی کرپشن نے کسی وجہ سے انہیں گرفتار کیا ہو گا۔ پی ٹی آئی عورت کارڈ کی طرف مت آئے، کیونکہ مجھے بھی گرفتار کیا گیا تھا شیریں پر تو سنگین الزام ہے میرے پر تو کوئی الزام نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی مظلومیت کارڈ نہیں کھیلا، مجھے نیب نے اپنے والد نواز شریف کے سامنے گرفتار کیا گیا جس پر نواز شریف نے کہا تھا کہ صبر رکھو وقت ایک جیسا نہیں رکھتا۔

مریم نواز نے کہا کہ شیریں مزاری کو خاتون پولیس نے گرفتار کیا جب کہ مجھے مرد پولیس اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب نے میرے ساتھ بہت برا سلوک کیا، یہ رات کو بارہ بجے میرے کمرے پر دھاوا بولتے تھے اور میری ویڈیو بناتے تھے۔

انہوں  نے کہا کہ شہبازشریف نے جو کراچی میں گفتگو کی چار سال ایسی گفتگو سننے کو کان ترس گئے تھے،  چار سال سے انتقام انتقام انتقام کے الزامات کے علاوہ کوئی بات نہیں سنی ، پاکستان آج معاشی طور پر وینٹی لیٹر پر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چار سال جو پاکستان کے ساتھ کیا گیا ملک اس کا خمیازہ بھگت رہا ہے ، شہبازشریف نے پنجاب کی تقدیر بدلی ہے۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے کہا کہ شیریں مزاری کو مقدمات کا سامنا کرنا چاہیے، اگر وہ بے قصور ثابت ہوئیں تو سب سے پہلے مریم نواز ان کے ساتھ کھڑی ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ آپ کہتے ہیں رات کو عدالتیں کیوں کھلی، کیونکہ آپ نے آئین توڑا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ابھی بھی لاڈلہ ہے، نواز شریف نے اگر اداروں پر کبھی تنقید کی تو وہ تعمیری تھی لیکن نواز شریف اس نظام کا لاڈلہ نہیں بلکہ عوام کا لاڈلہ ہے۔ یہ اس کو نکالتے ہیں مگر عوام اسے واپس لے آتی ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ عمران خان نے جس طرح آئین کو روندھا، اس کا صدر اور گورنر پنجاب آج تک آئین کا حلیہ بگاڑتے آ رہے ہیں لیکن ان کے خلاف کچھ نہیں کیا جا رہا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More