پاکستانی پہلوان چاندی اور کانسی کے تمغوں کو گولڈ میڈل میں کیسے تبدیل کر سکتے ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Aug 10, 2022

Getty Images

پاکستان ہو یا انڈیا، پہلوانی کے اکھاڑوں میں ہونے والے دنگل کے بعد بھنگڑے ڈالنے کے مناظر آج بھی دیکھنے والوں کو اپنی جانب متوجہ کر لیتے ہیں۔ مٹی میں ہونے والی دیسی کشتی سے بات اب ربراور فوم کے میٹ پر ہونے والے مقابلوں تک آ پہنچی ہے۔

مقابلوں کا انداز ضرور بدلا ہے لیکن پہلوانوں کے جذبے اور جیت کا جشن منانے کے انداز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

پاکستان کا پنجاب ہو یا انڈیا میں پنجاب اور ہریانہ کے علاقے، سرحد کے دونوں طرف یہ جوش و خروش بتاتا ہے کہ آج کا نوجوان پہلوان بھی ریسلنگ کی دیرینہ روایات سے جڑا ہوا ہے جس کی جھلک کامن ویلتھ گیمز کے دوران بھی دیکھی جا چکی ہے۔

پاکستانی پہلوانوں کی کارکردگیGetty Images

برمنگھم میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمز میں چھ پہلوانوں نے پاکستان کی نمائندگی کی جن میں سے پانچ پہلوان تمغے جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ ان میں انعام بٹ، زمان انور اور شریف طاہرنے چاندی کے تمغے جیتے جبکہ علی اسد اور عنایت اللہکے حصے میں کانسی کے تمغے آئے۔

صرف ایک پہلوان طیب رضا تمغہ جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکے انھیں کانسی کے تمغے کے لیے ہونے والے مقابلے میں شکستکا سامنا کرنا پڑا۔

ناکافی سہولتوں میں گولڈ میڈل کیسے؟

ریسلنگ وہ کھیل ہے جس میں پاکستانی ریسلرز کسی بھی دوسرے کھیل کے مقابلے میں زیادہ طلائی تمغے جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کامن ویلتھ گیمز کی تاریخ میں پاکستان نے مجموعی طور پر 27 طلائی، 27 چاندی اور 29 کانسی کے تمغے جیتے ہیں۔

جن میں صرف ریسلنگ میں جیتے گئے سونے کے تمغوں کی تعداد 21 ہے۔ چاندی کے 14 اورکانسی کے 12 تمغے ان کے علاوہ ہیں۔ پاکستانی پہلوانوں کی سب سے بہترین کارکردگی سنہ 1962 کے کامن ویلتھ گیمز میں رہی تھی جس میں پاکستان کے مجموعی آٹھ گولڈ میڈلز میں سے سات ریسلنگ میں تھے۔

اس شاندار کارکردگی کے باوجود پاکستان میں ریسلنگ کو نہ حکومت کی بھرپور توجہ مل سکی اور نہ ہی ملک میں ٹریننگ اور کوچنگ کا ذمہ دار ادارہ پاکستان سپورٹس بورڈ ریسلنگ کو وہ مقام دے سکا جس کا یہ کھیل مستحق ہے۔

Getty Imagesارشد ستار کہتے ہیں کہ 'پاکستان سپورٹس بورڈ کا یہ حال ہے کہ اس نے پہلوانوں کے لیے جوتے اور کاسٹیوم بھی فراہم نہیں کیے اور یہ بھی فیڈریشن کے کھاتے میں ڈال دیے۔'

پاکستان میں کھلاڑیوں کی ٹریننگ اور کوچنگ کی ذمہ داری پاکستان سپورٹس بورڈ پر عائد ہوتی ہے لیکن اس کے بارے میں ہمیشہ یہ بات مشہور ہے کہ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کے بجٹ کا اچھا خاصا حصہ کھلاڑیوں کی ٹریننگ اور کوچنگ پر خرچ ہونے کے بجائے سپورٹس بورڈ کے اپنے سٹاف کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات پر ہی ختم ہو جاتا ہے۔

فیڈریشن کی گرانٹ صرف دس لاکھ روپے

پاکستان ریسلنگ فیڈریشنکے سینئر نائب صدر محمد ارشد ستار بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں’فیڈریشن کو پاکستان سپورٹس بورڈ کی طرف سے صرف دس لاکھ روپے سالانہ گرانٹ ملتی ہے جبکہ ایشین چیمپئن شپکے بعد ایک سپیشل گرانٹ ملی جس کے حصول کے لیے بھی انھیں ایک وزیر سے فون کرانا پڑ گیا۔‘

محمد ارشد ستار نے فیڈریشن کے اخراجات کے بارے میں بتایا کہ ’پاکستان ریسلنگ فیڈریشن کودو ہزار سوئس فرینک ورلڈ ریسلنگ فیڈریشن کو سالانہ فیس کے طور پر دینے پڑتے ہیں۔جو بھی پہلوان بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں اس کے لیے ورلڈ فیڈریشن کو ہر سال ایک پہلوان کی سالانہ فیس 100 سوئس فرینک ادا کرنے پڑتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی بھی بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں ایک پہلوان کی شرکت کی فیس 100 سوئس فرینک دینی ہوتی ہے۔‘

’پاکستانی پہلوان جس ایونٹ میں بھی حصہ لینے جاتے ہیں وہاں انھیں رہائش اور خوراک کی مد میں فی پہلوان 200 امریکی ڈالرز دینے ہوتے ہیں اس طرح پاکستان ریسلنگ فیڈریشن عالمی فیڈریشن کو ہر سال تقریباً بیس لاکھ روپے صرف انہی فیسوں کی مد میں ادا کر رہی ہوتی ہے۔‘

محمد ارشد ستار کہتے ہیں کہ ’پاکستان سپورٹس بورڈ کھلاڑیوں کی ٹریننگ اور کوچنگ کا ذمہ دار ہے لیکن آپ اس بات سے اندازہ لگالیں کہ پاکستان سپورٹس بورڈ کے پاس بین الاقوامی معیار کا کوئی میٹ نہیں ہے ۔جب پہلوانوں کا کیمپ پنجاب سپورٹس بورڈ میں لگا تھا تو فیڈریشن کو اپنا میٹ وہاں لے جانا پڑا تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’ورلڈ ریسلنگ فیڈریشن کے مقرر کردہ بین الاقوامی معیار کے ایک میٹ کی قیمت ساڑھے سات ہزار ڈالرز ہے جبکہ اسے منگوانے کا کرایہ اور ٹیکس اس کے علاوہ ہے۔‘

ارشد ستار کہتے ہیں کہ ’پاکستان سپورٹس بورڈ کا یہ حال ہے کہ اسنے پہلوانوں کے لیے جوتے اور کاسٹیوم بھی فراہم نہیں کیے اور یہ بھی فیڈریشن کے کھاتے میں ڈال دیے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان سپورٹس بورڈ اسلام آباد اور پنجاب سپورٹس بورڈ میں ریسلنگ کے لیے کوئی بھی ٹریننگ ہال نہیں ہے بلکہ مختلف کھیلوں کے لیے بنے ایک ہی ہال میں میٹ لگا کر ٹریننگ کے لیے کہہ دیا جاتا ہے۔‘

بین الاقوامی مقابلوں میں برائے نام شرکت

حالیہ برسوں میں پاکستانی ریسلرز کو بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لینے کا برائے نام موقع ملسکا جس کی سب سے بڑی مثال پاکستان کے نمبر ایک پہلوان انعام بٹ ہیں جو کامن ویلتھ گیمز میں دو اور عالمی چیمپئن شپ میں پانچ طلائی تمغے جیت چکے ہیں لیکن گزشتہ سال انھیں ملک سے باہرصرف تین مقابلوں میں حصہ لینے کا موقع مل سکا۔

اسی طرح دوسرے پہلوانوں کی شرکت بھی برائے نام رہی۔ اس کے برعکس انڈین ریسلرز باقاعدگی سے انٹرنیشنل مقابلوں میں حصہ لیتے رہے بلکہ وہ گزشتہ ماہ بھی ایک ایونٹ میں حصہ لے کر کامن ویلتھ گیمز میں آئے تھے مطلب یہ کہ انھیں کامن ویلتھ گیمز کی تیاری کا بھرپور موقع ملتا رہا تھا۔

Getty Imagesشریف طاہر نے کامن ویلتھ گیمز کے لیے ہونے والے ٹرائلز میں متاثرکن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی سکواڈ میں جگہ بنائی لیکن انھیں بھی انہی حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے جو انعام بٹ اور دیگر تجربہ کار پہلوانوں کو درپیش رہے ہیںانٹرنیشنل ٹریننگ کی ضرورت

بیس سالہ شریف طاہر نوجوان باصلاحیت پہلوان ہیں۔ ان کا تعلق لاہور کے پہلوان خاندان سے ہے۔ ان کے والد طاہر سعید، بھائی شہوار طاہر اور عماد طاہر بھی پہلوان ہیں۔ شریف طاہر کی تربیت میں ان کے والد اور بھائیوں کا بہت ہاتھ رہا ہے۔

شریف طاہرنے کامن ویلتھ گیمز کے لیے ہونے والے ٹرائلز میں متاثرکن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی سکواڈ میں جگہ بنائی لیکن انھیں بھی انہی حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے جو انعام بٹ اور دیگر تجربہ کار پہلوانوں کو درپیش رہے ہیں۔

شریف طاہر بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’کووڈ کی وجہ سے صورتحال اچھی نہیں تھی جس کی وجہ سے قومی کیمپ بھی نہیں لگ رہے تھے لیکن پاکستان ریسلنگ فیڈریشن نے کامن ویلتھ گیمز کی اہمیت کے پیش نظر کیمپ لگانے کا فیصلہ کیا تاکہ یہ توقع تو رکھی جاسکے کہ پاکستان ان مقابلوں میں میڈلز جیت سکتا ہے۔‘

شریف طاہر کا کہنا ہے ’انٹرنیشنل مقابلوں میں شرکت کے لیے ٹریننگ بھی انٹرنیشنل معیار کی ضروری ہے۔ آپ کو میری فائٹ میں بھی میرے اور میرے انڈین حریف پہلوان نوینکے درمیان فرق واضح طور پر دکھائی دیا ہو گا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ نوین نے کامن ویلتھ گیمز میں آنے سے قبل ایک ماہ کا انٹرنیشنل ٹریننگ ٹور کیا تھا اور صرف ایک مہینے میں چار انٹرنیشنل مقابلوں میں حصہ لیا تھا۔ ظاہر سی بات ہے کہ جو پہلوان ایک ماہ میں چار انٹرنیشنل ٹورنامنٹس کھیلے گا اس کا تجربہ اس پہلوان سے کہیں زیادہ ہوگا جسے سال میں ایک دو ہی انٹرنیشنل مقابلے کھیلنے کو ملے ہوں۔‘

’ہمارا مسئلہ بیرون ملک ٹرنینگ نہ ہونا ہے‘

شریف طاہر کہتے ہیں کہ ’ہمارے پہلوانوں کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ پیسے کی کمی کی وجہ سے انھیں بیرون ملک ٹریننگ کے لیے نہیں بھیجا جاتا نہ ہی زیادہ سے زیادہ انٹرنیشنل مقابلوں میں وہ شرکت کرپاتے ہیں۔ سپانسرشپ نہیں ہے۔اگر پہلوانوں کو یہ تمام سہولتیں نہیں ملیں گی تو آپ کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ وہ اولمپکس اور دوسرے بڑے مقابلوں میں گولڈ میڈل جیت سکیں۔‘

انعام بٹ کو بھی اسی بات کا گلہ ہے کہ پاکستانی پہلوانوں کو اگر ٹریننگ کے لیے باہر جانے کا موقع مل جاتا تو نتائج مختلف ہوتے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میںدیپک پونیا سے فائنل ہارا، انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ پچھلے دو سال سے مشی گن امریکہ میں ٹریننگ کر رہے ہیں اور پچھلے دو سال میں وہ 30، 40 انٹرنیشنل مقابلوں میں حصہ لے چکے ہیں۔اب آپ خود اندازہ لگالیں کہ اتنے ایونٹس کھیلنے سے ریسلنگ میں کتنا نمایاں فرق آجاتا ہے۔‘

Getty Imagesنہ اکیڈمی ہے نہ ہی ملازمتیں

پاکستانی پہلوانوں کی اکثریت گوجرانوالہ سے تعلق رکھتی ہے لیکن اس شہر میں ایک بھی ایسی جگہ نہیں ہے جسے اکیڈمی کہا جا سکے اور جہاں یہ پہلوان تمام ضروری سہولتوں کے ساتھ ٹریننگ کر سکیں۔ یہ پہلوان عام طور پر اپنے گھروں میں یا ان سے ملحقہاکھاڑوں میں ٹریننگ کرتے ہیں۔

پاکستانی اداروں میں کھیلوں کی بنیاد پر ملازمتیں دینے کا سلسلہ اب ختم ہو چکا ہے بلکہ یوں کہہ لیں کہ اداروں میں سپورٹس ڈپارٹمنٹس ہی نہیں رہے تو ملازمت کیسی؟

پاکستان کے زیادہ تر پہلوان اس وقت پاکستان واپڈا سے وابستہ ہیں۔ یہ وہ پہلوان ہیں جنھیں ماضی میں سپورٹس پالیسی کے تحت ملازمتیں مل گئی تھیں جیسا کہ انعام بٹ 2011 میں واپڈا میں شامل ہوئے تھے۔ انکے بعد زمان انور اور محمد بلال بھی پہلوانی کی بنیاد پر واپڈا میں آئے تھے۔

لیکن 2018 کے بعد کھیلوں کی بنیاد پر ملازمتوں پر پابندی عائد کردی گئی تھی جس کی بنیادی وجہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی وہی پرانی سوچ تھی کہ اداروں کے بجائے ریجنل سطح پر کھیلوں کو فروغ دینا ہے لیکن اس کے نتیجے میں ملک میں بڑی تعداد میں کھلاڑی بے روزگار ہوکر مشکلات میں گھر گئے۔

اس کے برعکس انڈیا میں ریلویز پہلوانوں کو بہترین سہولتیں فراہم کر رہا ہے۔ انڈیا کے متعدد صف اول کے پہلوان ریلویز سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ ریلویزنے اب دہلی میں پہلوانوں کی ٹریننگ کے لیے اکیڈمی قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

جہاں تک پرائیویٹ اداروں کی سپانسرشپ کا تعلق ہے تو انڈین ریسلنگ فیڈریشن کو ٹاٹا موٹرز کی سپانسرشپ حاصل ہے۔

Getty Imagesانڈین ریسلنگ کا معیار بلند کیوں؟

کامن ویلتھ گیمز میں انڈین پہلوانوں نے پانچ گولڈ میڈلز جیتے، اس کارکردگی پر ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے صدر اور رکن پارلیمان برج بھوشن سرن سنگھ کی خوشی بے جا نہیں ہے۔

دہلی میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں ’اس بار ہمارا کوئی پہلوانخالی ہاتھ واپس نہیں آیا۔ ہر کسی کومیڈل ملا ہے۔ ہمنے سب سے زیادہ گولڈ میڈلز جیتے ہیں۔‘

Getty Imagesدیپک پونیا

ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے اسسٹنٹ سیکریٹری ونود تومر کا کہنا ہے کہ ’پہلوانی کے شعبے میں بہت سی اصلاحات کی گئی ہیں جس کا نتیجہ میڈلز کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ سب سے پہلے کوچنگ کے شعبے پر توجہ دی گئی اور اسے ٹھیک کیا گیا جس کے نتیجے میں سب کچھ ٹھیک ہوتا گیا۔‘

انڈین ریسلنگ فیڈریشن کے صدر کا کہنا ہے کہ ’ہم نے کوچز کا ایجوکیشن پروگرام منعقد کیااس کے لیے باہر سے تربیت دینے والے بلائے اور تھوڑے ہی عرصے میں ہمارے کوچ اس قابل ہو گئے کہ ہمیں کسی غیر ملکی کوچ کی ضرورت نہیں رہی۔اس کے بعد ہمارے کسی سٹار پہلوان نے کسی کوچ کا مطالبہ نہیں کیا۔ نہ بجرنگ ُپونیا نے کوئی کوچ مانگا، نہ دیپک نے کوئی کوچ مانگا اور نہ ہی کسی اورنے۔ʹ

ان کا کہنا ہے کہ ’حکومت نے ریسلنگ کے بنیادی ڈھانچے میں بین الاقوامی معیار کی تمام ضرورتیں فراہم کر دی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پہلے کوئی بھی پہلوان ایک تمغہ جیت کر سال بھر کے لیے بیٹھ جاتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ ملک میں کشتی کے مقابلے مسلسل جاری رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ کیمپ لگتے ہیں اور خاص مقابلوں سے قبل اس میں تیزی آ جاتی ہے۔ ہم نے سخت اصول قائم کر رکھے ہیں اور کسی کی اجارہ داری کو قبول نہیں کرتے۔‘

کشتی کے میدان میں دہلی سے ملحق ریاست ہریانہ کا دبدبہ رہا ہے لیکن صدر برج بھوشن سنگھ کا کہنا ہے کہاب گراس روٹ لیول سے بچے منتخب کیے جا رہے ہیں اور مہاراشٹر، اتر پردیش اور مدھیہ پردیش سے اچھے لڑکے آ رہے ہیں اور مقابلہ دن بہ دن سخت ہوتا جا رہا ہے۔

ونود تومر نے بتایا کہ پہلے جہاں سال میں قومی سطح کے تین چار ٹورنامنٹ ہوتے تھے اب ان کی تعداد تقریبا 20 ہے۔ ٹریننگ کیمپ سال بھر جاری رہتا ہے۔

فیڈریشن کے صدر کہتے ہیں کہ پہلے قومی مقابلے میں اگر کوئی بچہ ہار جاتا تھا تو اسے سال بھر دوسرے قومی مقابلے کا انتظار کرنا پڑتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ پہلے یہ بھی روایت تھی کہ ہر ریاست سے صرف ایک پہلوان لیا جائے گا لیکن اب ہم نے رینکنگ سسٹم متعارف کرایا ہے جس میں کوئی بھی پہلوان لڑ سکتا ہے۔

Getty Images

یہ بھی پڑھیے

اکرم پہلوان نے کیا صرف خاندانی وقار کی خاطرانوکی سے کُشتی لڑی؟

انڈیا کا دل جیتنے والا پاکستانی صادق پہلوان

’مٹی کے اکھاڑوں سے میٹ ریسلنگ کا سفر آسان نہیں‘

’ٹوکیو اولمپکس میں حصہ نہ لینے کا افسوس، لیکن اب اگلے اولمپکس پر نظر ہے‘

ان کا کہنا ہے کہ پہلے ایک وزن کیٹگری میں ریاست کے حساب سے27، 28 لڑکے لڑکیاں آ سکتے تھے لیکن اب رینکنگ کی وجہ سے ہر ایک کیٹگری میں 150 بچے ہوتے ہیں۔ جو ٹیلنٹ سامنے آتا ہے اسے ٹرائلز کا موقع دیتے ہیں۔

’رینکنگ والے پہلوانوں کو مالی امداد بھی دی جاتی ہے حکومت نے انفرااسٹرکچر فراہم کیا ہے اور ہم نے سپانسرز تلاش کر کے بچوں کو مالی امداد دینے کا طریقہ نکالا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس معاملے میں ہمنے پہلوانوں کی درجہ بندی بنا رکھی ہے اور پہلوانوں کو 7500 روپے ماہانہ سے لے کر ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ تک امداد دی جاتی ہے جسے وہ اپنی خوراک اور دوسری ضروریات پر خرچ کرتے ہیں۔

کینیڈا ریسلنگ کی بڑی قوت

کامن ویلتھ گیمز کی تاریخ میں کینیڈا نے ریسلنگ میں سب سے زیادہ 69 گولڈ میڈلز جیتے ہیں۔ برمنگھم میں کینیڈا کے مرد پہلوانوں نے دو گولڈ میڈلز جیتے۔

جب کینیڈا کے امر ویر دھیسی نے پاکستان کے زمان انور کو ہرا کر گولڈ میڈل اپنے نام کیا تو سب سے زیادہ خوشی ان کے والد بلبیر دھیسی کو ہوئی تھی جو کینیڈا میں اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ کر ٹی وی پر بیٹے کی کامیابی دیکھ رہے تھے۔

امر ویر دھیسی جب بھی کامیابی حاصل کرتے ہیں توبلبیر دھیسی کو اپنا زمانہ یاد آجاتا ہے ۔ وہ خود انڈیا میں گریکو رومن سٹائل کشتی کے قومی چیمپئن رہے تھے۔ آج بھی انھوںنے انعام میں ملنے والا روایتی گرز سنبھال کر رکھا ہے۔

ستر کی دہائی میں جالندھر سے کینیڈا آنے کے بعد بھی پہلوانی سے ان کی جذباتی وابستگی میں کمی نہیں آئی اور انھوں نے اپنے علاقے سری میں خالصا کلب قائم کیا اور مقامی ایشیائی باشندوں میں پہلوانی کو فروغ دینے کی ٹھان لی۔ اب وہاں باقاعدگی سے پہلوانی کے مقابلے ہوتے ہیں جن میں کامیاب ہونے والے پہلوانوں کو گرز دیے جاتے ہیں۔

بلبیر دھیسی کے دونوں بیٹے امرویر دھیسی اور پرم ویر بھی والد کو دیکھ کر پہلوان بنے۔ پرم ویر پولیس میں ملازمت کرتے ہیں اور وہ ورلڈ پولیس مقابلوں میں چاندی کا تمغہ جیت چکے ہیں لیکن انھیں 12 گھنٹے پولیس کی ڈیوٹی لازمی کرنی ہے جس کے بعد بچ جانے والے وقت میں وہ پہلوانی کرتے ہیں۔

امرویر دھیسی پین امریکن چیمپئن بننے کےساتھ ساتھ دیگر مقابلوں میں بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے آگے بڑھتے رہے ہیں اس دوران انھیں ایک امریکن یونیورسٹی میں بھی سکالرشپ مل گئی تھی اب انھیں بھی پولیس میں ملازمت کی پیشکش ہوئی ہے۔

بلبیر دھیسی کہتے ہیں کہ ’یہ کہنا غلط ہو گا کہ کینیڈا میں ریسلنگ صرف انڈیا سے آنے والوں کی وجہ سے ہی کامیاب ہے ان سے پہلے بھی کینیڈا انٹرنیشنل ریسلنگ میں اچھے نتائج دیتا آیا ہے۔‘

بلبیر دھیسی کہتے ہیں کہ ’کینیڈا میں پہلوانوں کو حکومت کی سرپرستی حاصل نہیں ہے ۔ صرف صفِ اول کے پہلوانوں کو جن میں امرویر دھیسی شامل ہیں انھیں ہر ماہ 1500 ڈالرز ملتے ہیں لیکن کامن ویلتھ گیمز میں میڈلز جیتنے والوں کے لیے علیحدہ سے کوئی انعام نہیں ہے۔‘

Getty Images

بلبیر دھیسی کا کہنا ہے کہ ’پہلوان جیسے جیسے آگے بڑھتا جاتا ہے اس کے اخراجات بھی بڑھتے جاتے ہیں۔‘

بلبیر دھیسی کو اس بات کا ضرور دکھ ہے کہ ان کی جنم بھومی انڈین پنجاب سے اب پہلوان ابھر کر سامنے نہیں آرہے ہیں اور ہریانہ اس کے مقابلے میں چھا چکا ہے۔

اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ ریسلنگ امیروں کا کھیل نہیں ہے۔ انڈین پنجاب میں پہلوان دنگل میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں کیونکہ اس میں انھیں بہت پیسہ ملتا ہے اسی لیے وہ اب صرف روایتی دنگلوں کے ہو کر رہ گئے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More