یوکرین تنازع، کیا چین اور انڈیا نے بھی روس کا ساتھ چھوڑ دیا؟

اردو نیوز  |  Sep 25, 2022

چین اور انڈیا نے یوکرین میں جاری کے معاملے پر روایتی اتحادی روس کی حمایت کرنے کے بجائے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس یوکرین جنگ کو بامعنی مذاکرات کے ذریعے ختم کرائے، جس کو قدرے حیرت سے دیکھا جا رہا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک ہفتے تک مسسلسل دباؤ کے بعد جیسے ہی روسی وزیر خارجہ نے سنبھالا تو مغربی ممالک کو شدید ردعمل دیتے ہوئے روس کے خلاف ان کے کردار کو ’تضادات کا مجوعہ‘ قرار دیا۔

دوسری جانب اہم بات یہ بھی ہے کہ کوئی بھی ملک روس کے ساتھ کھڑا دکھائی نہیں دے رہا یہاں تک کہ چین بھی ایک طرف ہے حالانکہ فروری میں یوکرین پر حملے کے بعد اس کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس کا صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ’اٹوٹ رشتہ‘ ہے۔

چین کے وزیر خارجہ وینگ یی نے روس اور یوکرین دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہ وہ بحران کو مزید پھیلنے سے روکیں تاکہ ترقی پذیر ممالک مزید متاثر نہ ہوں۔

’چین ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو بحران کو پرامن حل کی طرف لے جاتے ہوں، ہماری ترجیح مذاکرت کے لیے سہولت مہیا کرنا ہے۔’

وینگ یی کے مطابق ’بنیادی حل یہ ہے کہ تمام فریقین کے قانونی سکیورٹی خدشات کو دور کیا جائے اور ایک متوازن، موثر اور پائیدار سکیورٹی ڈھانچہ تعمیر کیا جائے۔‘

اقوام متحدہ آمد کے موقع پر چینی وزیر خارجہ وینگ یی نے یوکرینی ہم منصب ڈمیترو کیولیبا سے ملاقات کی اور جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار ان کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں صدر پوتن نے اعتراف کیا تھا کہ چینی صدر نے شی جنپنگ نے ملاقات کے دوران یوکرین جنگ پر ’تحفظات‘ کا اظہار کیا تھا۔

چین کی جانب سے روس کی ٹھوس حمایت میں کمی پر امریکی حکام نے خوشی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیجنگ نے اس نے فوجی سازوسامان بھجوانے کی درخواستوں کو مسترد کیا ہے جس سے روس جنوبی کوریا اور ایران پر انحصار کرنے پر مجبور ہوا ہے جبکہ اس کی سپلائی لائن میں بھی کمی آ رہی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More