’انصاف میں تاخیر‘، بزرگ شہری نے بھائی کے قتل کے ملزمان کو ہلاک کردیا

اردو نیوز  |  Oct 06, 2022

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں ایک شخص نے بھائی کے قتل کے ملزمان کو عدالت کے احاطے میں قتل کردیا۔

پولیس کے مطابق ’قتل کا یہ واقعہ ضلع صوابی میں منگل کے روز جوڈیشل کمپلیکس کے باہر پیش آیا جہاں 65 سالہ شخص فقیر گل نے فائرنگ کرکے اپنے بھائی کے قتل کے دو ملزمان کو ہلاک کردیا۔‘

 پولیس کا کہنا ہے کہ ’یہ ملزمان عدالت میں پیشی کے لیے آرہے تھے۔‘ 

 واقعے کے بعد ملزم کو گرفتار کرلیا گیا جس کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا۔ پولیس نے ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے جیل بھیج دیا ہے۔ 

بزرگ شہری نے قتل کیوں کیے؟

مقامی صحافی ایاز خان نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ملزم فقیر گل کی عمر 65 سال ہے، ان کا چھوٹا بھائی 2015 میں اراضی کے تنازعے پر قتل کردیا گیا تھا۔‘

’بھائی کے قتل کے بعد ملزم فقیر گل نے بدلہ لینے کے بجائے قانون کا راستہ اپنایا مگر گذشتہ سات برسوں سے عدالت کے چکر کاٹتے کاٹتے ملزم فقیر گل کی ہمت جواب دے گئی۔‘  

صحافی ایاز خان کا مزید کہنا تھا کہ ’ملزم فقیر گل انصاف میں تاخیر پر مایوس ہوچکا تھا کیونکہ ملزمان اثرورسوخ رکھتے تھے اور انہیں تاریخ پر تاریخ مل رہی تھی۔‘

عینی شاہدین کے مطابق ’عدالت کے باہر فقیر گل نے گولی چلانے کے بعد مزاحمت نہیں کی بلکہ خود کو پولیس کے حوالے کردیا۔‘ 

پولیس کی جانب سے فائرنگ کے واقعے کی ابتدائی رپورٹ (بشکریہ صوابی پولیس)عدالت میں زیر التوا کیسز کے نقصانات 

پشاور ہائی کورٹ کے ایڈووکیٹ محمد سلیم نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’انصاف میں تاخیر کی وجہ سے مظلوم قاتل بن جاتے ہیں۔ اگر عدالتیں وقت پر فیصلہ سنائیں تو بہت سے زیر التوا کیسز حل ہوجائیں گے۔‘

’دشمنی کے کیسز میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے کیونکہ ایک شخص کی وجہ سے پورا خاندان ایک دوسرے کا دشمن بن جاتا ہے۔ اس نوعیت کے مقدمات میں پولیس سٹیشن میں قائم ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل کو بھی فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔‘

اسلحہ کہاں سے آیا؟

دوسری جانب صوابی بار کونسل کے عہدیداروں نے فائرنگ کے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عدالتی احاطے میں سکیورٹی کے انتظامات بہتر بنانے کا مطالبہ کیا۔ وکلا برادری نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ آخر اتنی سکیورٹی کے باوجود ملزم کے پاس اسلحہ کہاں سے آیا؟

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More