Getty Images
’میرا نہیں خیال سنگل نہ لینے پر بابر میرے سے اتنا خوش ہوئے ہوں گے۔۔۔‘ آسٹریلوی کرکٹر سٹیو سمتھ نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب ان سے پوچھا گیا کہ انھوں نے بِگ بیش لیگ کے دوران سابق پاکستانی کپتان بابر اعظم کے ساتھ کھیلتے ہوئے سنگل لینے سے انکار کیوں کر دیا۔
دراصل لیگ کے 37ویں میچ کے دوران ان کی ٹیم سڈنی سکسرز 190 رنز کا تعاقب کر رہی تھی۔ پہلی اننگز میں سڈنی تھنڈرز نے چھ وکٹوں کے نقصان پر 189 رنز بنائے تھے۔
یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا جب سڈنی سکسرز کے لیے بابر اعظم اور سٹیو سمتھ اوپننگ کر رہے تھے۔
جب اگلے اوور میں بابر اعظم کی وکٹ گِری تو وہ پویلین کی طرف جاتے ہوئے کافی غصے میں نظر آئے۔ انھوں نے جاتے ہوئے اپنا بلا باؤنڈری روپ پر مارا۔
بابر اعظم اور سٹیو سمتھ کے درمیان کیا ہوا؟
190 رنز کے تعاقب میں بیٹنگ کرتے ہوئے سٹیو سمتھ اور بابر اعظم نے پہلے 12 اوورز میں 141 رنز کی شراکت قائم کی جو سڈنی سکسرز کی تاریخ کی سب سے بڑی اوپننگ شراکت ہے۔
11واں اوور کرس گرین نے کرایا تھا جس کے دوران بابر اعظم نے تین ڈاٹ گیندیں کھیلیں۔ جب آخری گیند پر انھوں نے سنگل لینے کی کوشش کی تو سٹیو سمتھ نے رن لینے سے ہی انکار کر دیا۔
دراصل سٹیو سمتھ نے یہ فیصلہ بگ بیش لیگ کے ’پاور سرج‘ مرحلے کے لیے لیا۔ پاور سرج کے دوران بلے باز دو اوورز میں مزید جارحانہ انداز میں کھیل سکتے ہیں کیونکہ بولنگ ٹیم سرکل کے باہر صرف دو فیلڈرز رکھنے کی پابند ہوتی ہے۔ بگ بیش میں چھ اوورز کی بجائے چار اوورز کا پاور پلے ہوتا ہے۔
سٹیو سمتھ کا یہ فیصلہ صحیح ثابت ہوا کیونکہ انھوں نے 12ویں اوور کی پہلی چاروں گیندوں پر چار چھکے لگائے اور اس اوور میں انھوں نے 32 رنز بٹورے۔
’خوف زدہ کر دینے کی حد تک‘ تیز بولر جنھیں شعیب اختر جیسی شہرت نہ مل سکیبنگلہ دیشی بورڈ کے ڈائریکٹر کا متنازع بیان جس پر کھلاڑیوں نے پریمیئر لیگ کا میچ کھیلنے سے ہی انکار کر دیاسیالکوٹ کو ’کرکٹ ٹیم کا تحفہ‘ اور حیدر آباد میں ’سٹیڈیم کی تعمیر کا منصوبہ‘: پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کے مالکان کون ہیں؟پاکستان کی تاریخکا ’سب سے عظیم‘ کرکٹر کون ہے؟Getty Images
مگر بابر اس وقت سمتھ کے اس فیصلے سے مطمئن دکھائی نہیں دیے تھے۔ اس دوران ایک کمنٹیٹر نے تبصرہ کیا کہ ’بابر اعظم خوش نظر نہیں آ رہے‘ جبکہ دوسرے کمنٹیٹر نے کہا کہ ’انھیں خوش ہونا چاہیے کیونکہ یہ بہتر حکمت عملی ہے‘
تیسرے کمنٹیٹر نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ بظاہر ایسا ہے جیسے سمتھ بابر سے کہہ رہے ہوں کہ ’آپ چھکا نہیں لگا سکتے۔‘
دریں اثنا 13ویں اوور کی پہلی گیند پر بابر 47 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے اور وہ غصے میں پویلین کی طرف لوٹے۔ انھوں نے جاتے ہوئے اپنا بلا باؤنڈری روپ پر مارا۔ کمنٹیٹر نے تبصرہ کیا کہ بابر ’اپنے پارٹنر کو دیکھے بغیر واپس جا رہے ہیں۔‘
دوسرے کمنٹیٹر نے کہا کہ ’بابر خوش نہیں تھے مگر یہ کرنا ٹھیک نہیں تھا۔ آپ جیسا بھی محسوس کر رہے ہوں مگر ایسا کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔‘
اس میچ میں سٹیو سمتھ نے 42 گیندوں پر سنچری بنائی اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔
میچ کے بعد جب سٹیو سمتھ سے پوچھا گیا کہ انھوں نے ایسا کیوں کیا تو ان کا جواب تھا کہ 10 اوورز کے بعد ٹیم نے کہا تھا کہ پاور سرج لے لی جائے مگر ان کا خیال تھا کہ ایک اوور بعد ایسا کیا جائے کیونکہ وہ لیگ سائیڈ پر چھوٹی باؤنڈری کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
سمتھ نے کہا کہ ان کا 12ویں اوور میں 30 رنز بنانے کا ارادہ تھا اور انھوں نے بالآخر اس اوور میں 32 رنز بٹور لیے تھے۔
سمتھ نے یہ بھی بتایا کہ اس فیصلے سے ’میرا نہیں خیال بابر اتنا خوش تھے۔‘
’پاکستانی بیٹرز کو اپنا انداز بدلنا ہو گا‘
سوشل میڈیا پر صارفین نے اس واقعے پر تبصرے کیے ہیں۔ کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ پاکستانی بلے بازوں کو ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے لیے اپنی حکمت عملی بدلنی ہو گی۔
صحافی فیضان لاکھانی نے سوال کیا کہ ’کیا بگ بیش کی ٹیمیں پاکستانی بیٹرز پر اعتماد کھو رہی ہیں؟‘
’آخری گیند پر سٹیو سمتھ نے بابر اعظم کو سٹرائیک دینے کے بجائے سنگل لینے سے انکار کیا۔ پھر اگلے اوور میں 30 رنز (4 چھکے، 1 چوکا) بنائے۔‘
’بابر واضح طور پر نالاں نظر آئے۔ چند روز قبل محمد رضوان کو ان کے کپتان نے ’ریٹائرڈ آؤٹ‘ کر دیا تھا۔۔۔ شاید یہ وقت ہے کہ پاکستان کے سینیئر بلے باز ٹی 20 کرکٹ کو کھیلنے کے اپنے طریقہ کار پر سنجیدگی سے نظرثانی کریں۔‘
کرکٹ تجزیہ کار مظہر ارشد نے لکھا کہ یہ حقیقت ہے کہ بہت سے پاکستانی شائقین اور بعض کرکٹرز یہ بات سمجھ نہیں پاتے کہ ’ریٹائر آؤٹ‘ ہونا یا کسی بلّے باز کو سٹرائیک پر رکھنے کے لیے سنگل لینے سے انکار کرنا جدید ٹی 20 کرکٹ کی حکمتِ عملی ہے۔ ہم ٹی 20 کرکٹ کو سمجھنے میں اب بھی پیچھے ہیں۔‘
بھارت سندریسن نے لکھا کہ سٹیو سمتھ واضح طور پر کوئی موقع ضائع کرنے کے موڈ میں نہیں۔ ’وہ بیٹ کے ساتھ ہر اننگز میں یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ 2028 تک اپنے اولمپکس کے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے ٹی 20 کرکٹ کھیلتے رہنے کے کتنے خواہش مند ہیں۔ یہ واقعی حیران کن پاور ہٹنگ ہے۔‘
دوسری طرف کچھ صارفین نے بابر کا دفاع کیا اور ان کا خیال ہے کہ بابر نے اس میچ میں سٹیو سمتھ کے ساتھ ایک اچھی شراکت قائم کی تھی۔
’ریٹائرڈ آؤٹ‘ کیا ہے جس کے ذریعے رضوان کو اپنی ہی ٹیم کے کپتان نے پویلین واپس بلا لیابنگلہ دیشی بورڈ کے ڈائریکٹر کا متنازع بیان جس پر کھلاڑیوں نے پریمیئر لیگ کا میچ کھیلنے سے ہی انکار کر دیاسیالکوٹ کو ’کرکٹ ٹیم کا تحفہ‘ اور حیدر آباد میں ’سٹیڈیم کی تعمیر کا منصوبہ‘: پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کے مالکان کون ہیں؟عثمان خواجہ کا ریٹائرمنٹ کے اعلان پر ’نسلی امتیاز‘ کا شکوہ: ’مسلمان پاکستانی لڑکے سے کہا گیا تم کبھی آسٹریلیا کے لیے نہیں کھیل پاؤ گے‘’خوف زدہ کر دینے کی حد تک‘ تیز بولر جنھیں شعیب اختر جیسی شہرت نہ مل سکی