کیا انڈیا، متحدہ عرب امارات میں دفاعی شراکت داری کا اعلان پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدے کا جواب ہے؟

بی بی سی اردو  |  Jan 21, 2026

پیر کے روز نئی دہلی میں واقع پالم ایئرپورٹ پر جب متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کا طیارہ لینڈ کیا تو انڈین وزیرِاعظم نریندر مودی بذات خود وہاں اُن کے استقبال کے لیے موجود تھے۔

اگرچہ اماراتی صدر کا انتہائی مختصر دورہ انڈیا محض ساڑھے تین گھنٹوں پر ہی محیط تھا مگر اس کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیے اور انڈین وزارت خارجہ کی جانب سے دی گئی بریفنگ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی سمیت عرب میڈیا کی توجہ بڑی حد تک اپنی جانب مبذول کی۔

اماراتی صدر کے اس اچانک دورے کی پیشگی تفصیلات انڈین میڈیا کے پاس بھی نہیں تھیں۔ بظاہر اِسی لیے انڈیا کے سابق سفیر برائے متحدہ عرب امارات اور ایران، کے سی سنگھ، نے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھا کہ ’دورے کے بارے میں پیشگی اطلاع کا نہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خلیج اور مغربی ایشیا میں تیزی سے بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی منظرنامے کے باعث حالات معمول کے مطابق نہیں ہیں۔‘

شیخ محمد بن زاید النہیان کے اس مختصر دورے کے دوران دونوں ممالک میں کئی معاہدے طے پائے اور اُن میں سب سے زیادہ زیرِبحث معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک دفاعی شراکت داری کے لیے ’لیٹر آف انٹینٹ‘ پر دستخط ہے۔

یہ دفاعی شراکت داری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گذشتہ سال ستمبر میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدہ طے پایا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے تجزیاتی پلیٹ فارم ’مڈل ایسٹ آئی‘ کے ترکی کے بیورو چیف رائیپ سویلو نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ امارات، جوہری طاقت کے حامل ملک انڈیا کے ساتھ شراکت داری کر رہا ہے تاکہ سعودی عرب کے ایٹمی طاقت پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کے بعد توازن قائم کیا جا سکے۔‘

تو کیا واقعی ایسا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس نے عرب دنیا میں بھی خطے میں نئی صف بندیوں اور اس کے ممکنہ اثرات پر بحث چھیڑ دی ہے۔ خاص طور پر ایک ایسے وقت پر جب سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان تعلقات میں قربت بڑھ رہی ہے، جبکہ دوسری جانب یمن کی صورتحال پر ریاض اور ابوظہبی کے تعلقات میں کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔

قطر سے منسلک ویب سائٹ ’عربی 21‘ نے اپنی رپورٹ میں سوال اٹھایا کہ آیا اسرائیل بھی اس امارات، انڈیا معاہدے میں شامل ہو گا تاکہ اُس ’سعودی محور‘ کا مقابلہ کیا جا سکے جس میں پاکستان اور ترکی شامل ہیں؟

مصری صحافی جمال سلطان نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ اسرائیلی میڈیا نے وزیرِاعظم نیتن یاہو کے اُن ممکنہ ارادوں پر بحث کی ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے میں ناکام رہنے کے بعد کیا انڈیا کے ساتھ دفاعی و اقتصادی معاہدہ کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ’امارات اور اسرائیل میں حالیہ پیش رفت اُن بین الاقوامی رپورٹس کو تقویت دیتی ہے کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے اتحاد کے مقابلے میں اسرائیل، بھارت اور امارات پر مشتمل ایک نیا محور تشکیل پا رہا ہے۔‘

سعودی صحافی سلیمان العقیلی نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’ابوظہبی بظاہر ایک نظریہ اپنائے ہوئے ہے، جس کا مقصد اپنے اثر و رسوخ کو معمول سے بڑھانا اور عرب دنیا کے بڑے مراکز، بالخصوص سعودی عرب اور مصر کو جغرافیائی و سٹریٹجک دباؤ کے ذریعے گھیرنا ہے۔‘

تیونس کے نجی جریدے ’میم‘ نے بھی بین الاقوامی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل، انڈیا اور امارات پر مشتمل ایک نیا محور اُبھر رہا ہے، جو سعودی عرب، ترکی اور پاکستانی اتحاد کے مقابلے میں ہو گا۔

مصر کی نجی ویب سائٹ ’الامہ‘ نے لکھا کہ امارات، انڈیا سٹریٹجک تعاون اور دفاعی معاہدے ’علاقائی اتحادوں کے پیچیدہ کھیل میں ایک اہم قدم' ہیں اور 'ایک نئی دنیا کی تشکیل کا حصہ ہیں جہاں مختلف طاقتیں اثر و رسوخ اور سٹریٹجک خودمختاری کے لیے مقابلہ کر رہی ہیں۔‘

اس رپورٹ میں سیاسی تجزیہ کاروں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی میں امارات اور انڈیا کے معاہدے کو اُن کے علاقائی اتحاد کے اثر کو محدود کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا ہے۔

78 ارب ڈالر کا دفاعی بجٹ، 917 طیارے اور 840 ٹینک: امریکی سکیورٹی ضمانت کے باوجود سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیوں کیا؟پاکستان کی متعدد ممالک سے جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کی فروخت پر ’مذاکرات‘ کی تصدیق: ’ان معاہدوں میں چین کی مرضی شامل ہوگی‘

سٹریٹجک امور کے محقق ناصر المطیری نے کہا کہ یہ معاہدہ ’سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے لیے ایک واضح سیاسی پیغام ہے کہ امارات اپنے دفاعی اور سٹریٹجک شراکت داروں کو متنوع بنا سکتا ہے اور اس کے ذریعے خطے میں اپنے اوپر موجود دباؤ کو کم کر سکتا ہے۔‘

تاہم یاد رہے کہ اماراتی صدر کے دورے کے بعد انڈیا کے خارجہ سیکریٹری وکرم مصری نے صحافیوں کو بتایا کہ انڈیا، امارات دفاعی شراکت داری کو مستقبل کے کسی خلیجی تنازع میں شامل کرنے کے بجائے اسے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود دفاعی تعاون کی فطری توسیع سمجھا جانا چاہیے۔

صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وکرم مصری نے کہا کہ ’میں اسے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود وسیع دفاعی تعاون کی فطری توسیع سمجھوں گا، نہ کہ خطے میں کسی خاص واقعے پر ردِعمل یا کسی ممکنہ مستقبل کی صورتحال میں شامل ہونے کے ارادے کے طور پر۔‘

کیا انڈیا، امارات معاہدہ، پاکستان اور سعودی دفاعی معاہدے کا جوابہو گا؟

اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے انڈیا کے سابق سفیر برائے سعودی عرب تلمیذ احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اماراتی صدر کا دورہ انڈیا بہت اہم تھا۔ اگرچہ دونوں ممالک میں پہلے بھی سٹریٹجک شراکت داری موجود تھی، لیکن اس شراکت داری میں دفاع اُس طرح شامل نہیں تھا جیسے دیگر معاملات ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’دفاع کو اس شراکت داری میں ایسے وقت میں شامل کیا جا رہا ہے جب ایران اور امریکہ کے تعلقات کشیدہ ہیں، غزہ کا مسئلہ حل طلب ہے، امارات صومالی لینڈ کے معاملے پر اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے، سعودی عرب اور امارات کے تعلقات میں تناؤ ہے اور سب سے بڑھ کر پاکستان چاہتا ہے کہ ترکی سعودی عرب کے ساتھ اس کے دفاعی معاہدے میں شامل ہو۔‘

تلمیذ احمد کے مطابق ’اگر ترکی سعودی، پاکستان دفاعی معاہدے میں شامل ہوتا ہے تو یہ انڈیا کے لیے مثبت نہیں ہو گا۔ اس وقت غیر یقینی صورتحال بہت زیادہ ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ وزیرِاعظم مودی نے ضرور سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی معاہدے پر اماراتی صدر سے بات کی ہو گی کیونکہ اس معاہدے کے بعد پاکستان عالمی سطح پر اچانک اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

’سعودی عرب پاکستان کو قریب کر رہا ہے، ترکی سعودی عرب کی حمایت چاہتا ہے اور صدر ٹرمپ بھی پاکستان پر توجہ دے رہے ہیں اور اس کے رہنماؤں کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ ایسے میں انڈیا کی مغربی ایشیا میں حکمتِ عملی ایک بڑا سوال ہے۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ برس کے دوران ترکی اور سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔

مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے ترک پروگرام کی بانی گونول تول کے مطابق، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلق اماراتی رہنما محمد بن زاید کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہے اور ترک حکام اس تعلق کو واشنگٹن کے ساتھ مسائل حل کرنے میں کارآمد سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہی عوامل ترکی اور سعودی عرب کے دفاعی و مالی تعلقات کو گہرا کرنے کا باعث بنے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امارات سعودی عرب کے برعکس مغربی ایشیا اور خلیجی تعاون کونسل میں مختلف پالیسی اپناتا آیا ہے۔ سنہ 2020 میں امارات نے اسرائیل کو تسلیم کیا اور سفارتی تعلقات قائم کیے جبکہ حال ہی میں جب اسرائیل نے صومالیہ کے اندر صومالی لینڈ کو تسلیم کیا تو بیشتر اسلامی ممالک نے اس کی مذمت کی، لیکن امارات خاموش رہا۔

تلمیذ احمد کا خیال ہے کہ اسرائیل بھی پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے پر مطمئن نہیں ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ انڈیا، پاکستان کی طرح، سعودی عرب کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا ہے، لیکن فرق یہ ہے کہ پاکستان سعودی عرب کو سلامتی کی ضمانت فراہم کرتا ہے جبکہ انڈیا ایسا نہیں کرتا۔ انھوں نے یاد دلایا کہ ایٹمی تجربات کے بعد سخت پابندیوں کا مقابلہ کرنے میں سعودی عرب نے پاکستان کی مدد کی تھی۔

دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے مرکز برائے مغربی ایشیا سٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد مدثر قمر کا کہنا ہے کہ امارات، انڈیا دفاعی شراکت داری کو پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدے کے جواب کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

اُن کے مطابق ’ہم مغربی ایشیا میں ہر انڈین پالیسی کو پاکستان کے تناظر میں نہیں دیکھ سکتے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ گذشتہ ستمبر میں ہوا، لیکن دونوں ممالک میں فوجی تعاون اور وابستگی کئی دہائیوں پر محیط ہے۔‘

مدثر قمر نے مزید کہا کہ ’یہ درست ہے کہ موجودہ حالات میں امارات، اسرائیل اور انڈیا ایک صف میں دکھائی دیتے ہیں، جبکہ پاکستان زیادہ تر اسلامی ممالک کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ لیکن ہم اسے مستقل صورتحال نہیں سمجھتے۔ امارات اور سعودی عرب کے درمیان تناؤ (دونوں ممالک کے رہنماؤں کی) ذاتی انا کی وجہ سے بھی ہے، جو چند ماہ میں کم ہو سکتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یمن سے امارات کی خاموش واپسی اس بات کی علامت ہے کہ وہ سعودی عرب سے تصادم نہیں چاہتا۔ لہٰذا انڈیا اور امارات کی دوستی کو براہِ راست موجودہ حالات سے جوڑنا درست نہیں ہو گا۔‘

پاکستان اور سعودی عرب میں دفاعی معاہدہ: ’جوہری تحفظ پر ابہام بھی سعودی مقاصد پورا کر سکتا ہے‘پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دفاعی اتحاد کی بازگشت: ’صدر اردوغان کی سوچ ہے کہ وسیع پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی جائے‘پاکستان کی متعدد ممالک سے جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کی فروخت پر ’مذاکرات‘ کی تصدیق: ’ان معاہدوں میں چین کی مرضی شامل ہوگی‘78 ارب ڈالر کا دفاعی بجٹ، 917 طیارے اور 840 ٹینک: امریکی سکیورٹی ضمانت کے باوجود سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیوں کیا؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More