Getty Images
انڈیا نے جمعرات کے روز 40 ارب ڈالر (36 کھرب انڈین روپے) مالیت کے دفاعی سازوسامان کی خریداری کی ابتدائی منظوری دے دی ہے جس میں انڈین فضائیہ کے لیے مزید فرانسیسی رفال طیارے بھی شامل ہیں۔
خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کے مطابق انڈین وزارت دفاع نے کہا کہ ’ڈیفینس اکیوزیشن کونسل نے فضائیہ کے لیے مزید رفال لڑاکا طیارے اور میزائل، فوج کے لیے اینٹی ٹینک میزائل اور بحریہ کے لیے P-8I جاسوس طیاروں کے لیے ابتدائی منظوری دے دی ہے۔‘
’روئٹرز‘ کے مطابق جمعرات کے روز انڈیا کے مقامی میڈیا نے یہ رپورٹ کیا تھا کہ ’ڈیفینس اکیوزیشن کونسل نے ڈیسو ایوی ایشن سے 114 رفال طیاروں کی خریداری کے لیے 32 کھرب 50 ارب انڈین روپے کی منظوری دے دی۔‘
جمعرات کو دہلی میں ہونے والے اجلاس میں اس بجٹ کی منظوری دی گئی جس کے تحت مزید رفال لڑاکا طیارے انڈین فضائیہ میں شامل کیے جائیں گے۔
انڈین وزارت دفاع نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ اس کا مقصد فضائی قوت میں اضافہ اور نگرانی کے نظام کو مزید موثر بنانا ہے۔
اس بجٹ کی منظوری فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں کے دورہ انڈیا سے چند روز قبل کی گئی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ فرانسیسی صدر کے دورے کے دوران اس حوالے سے معاہدہ طے پا جائے گا۔
واضح رہے کہ انڈیا نے گذشتہ برس اپریل میں بھی فرانس کے ساتھ 26 رفال فائٹر جیٹ خریدنے کا ایک معاہدہ کیا تھا۔ ان جنگی جہازوں کی مجموعی قیمت تقریباً 63 ہزار کروڑ روپے یا تقریبآ آٹھ ارب ڈالر بنتی ہے۔
فرانسیسیی سیاستدان اور رکن پارلیمنٹ میرین لاپین کا کہنا ہے کہ انڈین حکومت کی جانب سے 114 رافیل طیاروں کی خریداری کی منظوری اس بات کی توثیق ہے کہ یہ ڈیسو ایوی ایشن سب سے زیادہ فروخت ہونے والا برآمدی دفاعی منصوبہ بن چکا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ بین الاقوامی مقابلے میں فرانسیسی دفاعی صنعت کی برتری کا ایک اور ثبوت ہے۔ ’جغرافیائی سیاسی سطح پر یہ فیصلہ انڈیا اور فرانس کے درمیان سٹریٹجک دوطرفہ شراکت داری کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔‘
ان کے مطابق ’خودمختاری اور باہمی مفادات کے احترام پر مبنی یہ باہمی اعتماد کے رشتے عالمی استحکام کے لیے مضبوط بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں اور آئندہ برسوں میں انھیں مزید مستحکم بنانے کے لیے کام کیا جائے گا۔‘
رفال بمقابلہ جے 10 سی: پاکستانی اور انڈین جنگی طیاروں کی وہ ’ڈاگ فائٹ‘ جس پر دنیا بھر کی نظریں ہیںرفال سمیت پانچ انڈین جنگی طیارے ’گرانے جانے‘ کے دعویٰ پر بی بی سی ویریفائی کا تجزیہ اور بھٹنڈہ کے یوٹیوبر کی کہانیفضائی برتری سمیت وہ عوامل جنھوں نے انڈیا کو 26 رفال طیارے خریدنے پر مجبور کیارفال انڈیا کیسے پہنچا، اس کے پس منظر کی کہانیانڈیا کے لیے ’گیم چینجر‘
رفال طیاروں کے حوالے سے نئے معاہدے کا معاملہ سوشل میڈیا پر بھی موضوع بحث بنا ہوا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ برس مئی میں پاکستان اور انڈیا کے مابین ہونے والی لڑائی کے دوران بھی رفال طیاروں کا تذکرہ ہوتا رہا ہے۔
پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس لڑائی کے دوران انڈیا کے رفال طیاروں سمیت اس کے چھ لڑاکا طیارے مار گرائے گئے تھے۔
انڈین ڈیفینس سیکریٹری راجیش کمار نے خبر رساں ادارے ’اے این آئی‘ کو بتایا کہ پہلی مرتبہ رفال طیارے فرانس سے باہر تیار کیے جائیں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ 40 سے 50 فیصد طیارے انڈیا میں تیار کیے جائیں۔ یہ ’میک ان انڈیا‘ کا تسلسل ہو گا۔
راجیش کمار کا کہنا تھا کہ ان طیاروں کی انڈیا میں تیاری سے انھیں جلد انڈین فضائی بیڑے میں شامل کرنے میں مدد ملے گی۔
دفاعی ماہر اشونی سیواچ کہتے ہیں کہ ’اس رقم کی منظوری انڈیا کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گی۔ انڈیا 114 رفال طیارے حاصل کرے گا، جس سے چھ سے سات سکواڈرن بنیں گے۔‘
اُن کے بقول ’یہ طیارے اگلے سات سے آٹھ سال میں آنے کی توقع ہے اور ان میں سے زیادہ تر انڈیا میں ہی تیار کیے جائیں گے۔‘
فرڈ نامی صارف نے لکھا کہ یہ فرانس کی ڈیسو ایوی ایشن کے لیے صدی کا سب سے بڑا معاہدہ ہے۔ یہ اس کمپنی کے لیے اب تک کا سب سے بڑا برآمدی معاہدہ ہے۔
بھومک دوشی نے لکھا کہ اگر 40 ارب معاہدے کے باوجود رفال انڈیا میں ہی بنتا ہے تو یہ کوئی اچھا سودا نہیں ہے۔
اُن کے بقول میک ان انڈیا کے تناظر میں اگر فرانس مکمل آزادی اور بھرپور تعاون کرتا ہے تو پھر ہی اس سودے کو بہتر سمجھا جائے گا۔
منجیت نیگی نے لکھا کہ ’پاکستان کے لیے ڈراونا خواب۔ انڈیا نے 114 رفال طیارے خریدنے کی منظوری دے دی۔ یہ مضبوط انڈیا کی طرف بڑا قدم ہے۔‘
Getty Imagesفرانسیسیی رکن پارلیمنٹ میرین لاپین کا کہنا ہے کہ انڈین حکومت کی جانب سے 114 رافیل طیاروں کی خریداری کی منظوری اس بات کی توثیق ہے کہ یہ ڈیسو کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا برآمدی دفاعی منصوبہ بن گیاکیا انڈیا کو اس لڑاکا طیارے سے پاکستان پر برتری حاصل ہو گی؟
یہ جہاز تمام جنگی ساز وسامان، ہتھیاروں، سیمولیٹر، سپیئر پارٹس وغیرہ سے مزین ہوں گے۔ اس معاہدے میں پائلٹس کی ٹریننگ اور سازو وسامان کی فراہمی کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔
رفال جنگی طیارہ جوہری بم لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ جہاز 70 کلومیٹر دوری تک وار کرنے والے ایگزوسٹ اے ایم 39 بحری جہاز شکن مزائلوں کے علاوہ 300 کلو میٹر رینج والے فضا سے زمین پر وار کرنے والے ’سکلپ‘ اور 120 سے 150 کلومیٹر کی رینج والے فضا سے فضا میں وار کرنے والے میٹیور میزائلوں سے لیس ہو گا۔
دفاعی ماہر سنجیو سریواستو نے بی بی سی کے چندن کمار ججواڑے سے بات کرتے ہوئے کہا ’آج کے دور میں دنیا کے کئی ممالک ڈرون کی مدد سے بھی حملے کر رہے ہیں لیکن لڑاکا طیارے اپنی درستگی کے ساتھ حملہ کرنے اور طویل فاصلے تک حملہ کرنے کی صلاحیت کے لحاظ سے اہم ہیں۔‘
تجزیہ کار راہل بیدی نے بتایا کہ ’ان جہازوں کی خریداری ضروری ہو گئی تھی کیونکہ انڈین بحریہ کے پاس اس وقت روسی ساخت کے جومگ 29 ساخت کے طیارے ہیں جو آئندہ برسوں میں ناقابلِ استعمال ہوں گے۔‘
اس دفاعی بجٹ کی منظوری ایسے وقت پر ہوئی ہے جب پہلگام حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔
تو کیا انڈیا کو اس لڑاکا طیارے سے پاکستان پر برتری حاصل ہو گی؟ پاکستان کے ساتھ موجودہ کشیدہ صورتحال میں انڈیا کے لیے رفال معاہدہ کتنا اہم ہے؟
اس سوال پر راہل بیدی کا کہنا ہے کہ ’ایشیا کے اس خطے میں چین اور تھائی لینڈ کے علاوہ کسی بھی ملک کے پاس طیارہ بردار بحری جہاز نہیں۔‘
یعنی اس معاملے میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کوئی مقابلہ نہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلگام حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی صورتحال میں انڈیا کو رفال ایم ڈیل سے فائدہ تو ہو گا لیکن سب سے اہم چیز اس کی فراہمی ہے جس میں کئی مہینے لگیں گے۔
اس سوال کے جواب میں دفاعی ماہر سنجیو سریواستو کا کہنا ہے کہ ’انڈیا کے پاس اس وقت دو طیارہ بردار بحری جہاز ہیں، آئی این ایس وکرانت اور آئی این ایس وکرمادتیہ جبکہ پاکستان کے پاس ایک بھی طیارہ بردار بحری جہاز نہیں۔ انڈیا کے ذہن میں چین ہے۔ فضائیہ نے اس سے پہلے چین کو ذہن میں رکھتے ہوئے رفال طیارے تعینات کیے۔‘
انڈیا کو اپنی سکیورٹی کے لیے کتنے لڑاکا طیاروں کی ضرورت ہے؟ اس سوال کا ایک جواب یہ ہے کہ آپ کے پاس جتنے زیادہ طیارے ہوں گے وہ اتنی ہی زیادہ جگہوں پر لڑ سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اس معاملے میں نمبر اہم ہیں۔
فضائی برتری سمیت وہ عوامل جنھوں نے انڈیا کو 26 رفال طیارے خریدنے پر مجبور کیاانڈین رفال طیارے گرائے جانے کے پاکستانی دعوے پر کیا انڈونیشیا کو پریشان ہونے کی ضرورت ہے؟رفال انڈیا کیسے پہنچا، اس کے پس منظر کی کہانیرفال بمقابلہ جے 10 سی: پاکستانی اور انڈین جنگی طیاروں کی وہ ’ڈاگ فائٹ‘ جس پر دنیا بھر کی نظریں ہیںرفال سمیت پانچ انڈین جنگی طیارے ’گرانے جانے‘ کے دعویٰ پر بی بی سی ویریفائی کا تجزیہ اور بھٹنڈہ کے یوٹیوبر کی کہانیانڈیا کے رفال طیاروں کے معاہدے میں مبینہ کرپشن کے نئے دعوے، اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟