’منی لانڈرنگ اور 25 ارب روپے کی منتقلی‘: ٹک ٹاکر ڈاکٹر فضیلہ عباسی کی جانب سے مقدمے کے اخراج کی درخواست مسترد

بی بی سی اردو  |  Mar 27, 2026

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا پر مقبول شخصیت ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف منی لانڈرنگ اور 25 ارب روپے کے لین دین کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

ادھر اسلام آباد کے سپیشل جج سینٹرل کی عدالت سے ملزمہ کی ضمانت قبلِ از گرفتاری میں توسیع کی درخواست بھی مسترد کیے جانے کے بعد ایف آئی اے نے ان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔

بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس خادم حسین کی عدالت میں فضیلہ عباسی کی جانب سے دائر کی گئیں تین درخواستوں پر فیصلہ جاری کیا گیا ہے۔

عدالت نے ایف آئی اے کو قانون کے مطابق شفاف تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ فضیلہ عباسی کے خلاف فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کے تحت تحقیقات جاری رہیں گی۔

تاہم عدالت نے منی لانڈرنگ سے متعلق مقدمے میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت الزامات پر مقدمے اور انکوائری کو غیرقانونی قرار دے دیا۔

اس حوالے سے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے نے کیس میں طے شدہ قانونی طریقہ کار کی پیروی نہیں کی اور اختیارات سے تجاوز کیا۔

عدالتی فیصلوں کے بعد ردعمل کے لیے جب بی بی سی نے فضیلہ عباسی کے وکیل سے رابطہ کیا تو انھوں نے بی بی سی کے سوالات کے جواب نہیں دیے۔

فضیلہ عباسی کے خلاف مقدمہ ہے کیا؟

ایف ائی اے میں درج ہونے والے مقدمے میں ملزمہ ڈاکٹر فضیلہ عباسی پر غیر قانونی طور پر رقوم امریکہ اور دبئی منتقل کرنے کا الزام ہے۔

ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق ٹک ٹاکر ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے 22 بینک اکاؤنٹس میں 25 ارب روپے کے ٹرن اوور کا انکشاف ہوا۔

اس ضمن میں درج ہونے والے مقدمے کے مطابق ڈاکٹر فضیلہ کی ایف بی آر میں ڈکلیئرڈ سالانہ آمدن 4 سے 6 لاکھ روپے بتائی گئی۔

مقدمے کی تحقیقاتی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمے میں مزید منی لانڈرنگ کے شواہد ملے ہیں اور یہ رقم 30 ارب روپے سے بھی زیادہ بنتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ تفتیش کے دوران مخلتف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ ملزمہ منی لانڈرنگ اکیلے ہی کر رہی تھی یا اس میں دیگر افراد بھی ملوث ہیں۔

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’حوالہ ہنڈی اور مشکوک ٹرانزیکشنز کے ذریعے منی لانڈرنگ کے بظاہر شواہد موجود ہیں اور ایف بی آر حکام کے مبینہ کردار کا تعیّن بھی دورانِ تفتیش کیا جائے گا۔‘

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ’تحقیقاتی ایجنسی ضرورت پڑنے پر اکاؤنٹس ڈی فریز کرنے کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوگی۔‘

اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ 'الزامات ثابت نہ ہونے کی صورت میں اکاؤنٹس فوری ڈی فریز کیے جائیں گے۔'

فضیلہ عباسی کون ہیں؟

واضح رہے کہ فضیلہ عباسی پاکستان میں ایک ڈرماٹالوجسٹ کی حیثیت سے کام کرتی ہیں اور وہ اداکار حمزہ عباسی کی بڑی بہن بھی ہیں۔

ان کی ذاتی ویب سائٹکے مطابق ’ڈاکٹر فضیلہ عباسی ایک فنکار کی جمالیاتی صلاحیت اور ماہر امراض جلد کی سائنسی درستگی کا امتراج ہیں۔ ان کا فلسفہ ہے کہ وہ سب سے خوبصورت اور قدرتی نتائج پیدا کریں۔‘

ان کی ویب سائٹ پر ان کی اسلام آباد، دبئی اور لندن میں کلینکس پر خواہشمند افراد کے لیے اپائٹمنٹ بک کرنے کے آپشنز موجود ہیں۔

ویب سائٹ کے مطابق ’ڈاکٹر فضیلہ عباسی، ایم ڈی، 2003 سے ڈرماٹولوجیکل پریکٹس کر رہی ہیں۔ انھوں نے میڈیکل سکول مکمل کرنے کے بعد سینٹ جانز انسٹی ٹیوٹ آف ڈرماٹولوجی، کنگز کالج لندن، جو دنیا کا معروف ڈرماٹولوجی ادارہ ہے، سے کلینیکل ڈرماٹولوجی میں پوسٹ گریجویشن کی تعلیم حاصل کی۔'

’اس کے بعد انھوں نے ایم ڈی ڈرماٹولوجی میں شمولیت اختیار کی اور میڈیسن میں ڈاکٹریٹ مکمل کی، جس کے ساتھ ان کے تعلیمی کیریئر کو ڈرماٹولوجی کے شعبے میں سب سے معزز قابلیت سے نوازا گیا۔‘

وہ اکثر پاکستان کے ٹیلی وژن شوز میں شرٹکت کرتی ہیں اور فنکاروں کے کاسمیٹکٹ پروسیجرز کی وجہ سے خبروں میں رہتی ہیں۔ ماضی قریب میں وہ اپنی بھابھی اور حمزہ علی عباسی کی اہلیہ کی مبینہ کاسمیٹک سرجری کی وجہ سے سوشل میڈیا بحث کا حصہ رہیں۔

کیا ملک ریاض کے بحریہ ٹاؤن دبئی میں سرمایہ کاری خلاف قانون ہے اور نیب اسے ’منی لانڈرنگ‘ کیوں قرار دے رہا ہے؟’وعدہ معاف گواہ نہیں بنوں گا‘: عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس سے ملک ریاض کا کیا تعلق ہے؟جب لندن کے بینکروں نے منی لانڈرنگ ایجاد کیامریکہ میں منی لانڈرنگ کے ضوابط کی خلاف ورزیوں پر نیشنل بینک آف پاکستان پر 55 ملین ڈالر کا جرمانہسنگاپور میں منی لانڈرنگ کے خلاف تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی، 735 ملین ڈالر کے اثاثے ضبط
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More