ایوارڈز کی تقریب میں اداکارہ کا 500 ڈبل روٹیوں سے بنا لباس: ’کاروبار کی تشہیر کے لیے اس سے بہتر جگہ کون سی ہو سکتی ہے‘

بی بی سی اردو  |  May 12, 2026

ایوارڈ شوز ہوں یا فلمی و موسیقی کے میلے، دنیا بھر میں فنکار اپنی تخلیقی صلاحتیں، دلکش اور جاذب نظر ملبوسات دکھانے کے لیے مہنگے سے مہنگے اور باصلاحیت ڈیزائنرز کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔

لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے دنیا بھر میں فنکار توجہ حاصل کرنے کے لیے خوبصورتی اور نفاست سے زیادہ حیرت اور غیر یقینی کے عنصر پر انحصار کرتے نظر آتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جہاں ان ایوارڈ شوز میں نت نئے حیران کر دینے والے لباس دکھائی دیتے ہیں وہیں عجیب چیزوں سے بنے لباس بھی توجہ حاصل کر لیتے ہیں: جیسا کے آسٹریلوی ملبوسات ڈیزائنر لیزی گارڈنرکا لباس جو 254 امریکن ایکسپریس گولڈ کارڈز کی مدد سے بنایا گیا تھا یا پھر لیڈی گاگا کا گوشت سے بنا لباس۔

اب اس فہرست میں ایک نئے لباس کا اضافہ ہوا ہے جو ڈبل روٹیوں سے بنا ہے اور جسے حال ہی میں ایک افریقی فنکارہ نے پہنا ہے۔

افریقہ میں فلم اور فیشن کی سب سے بڑی رات میں وہاں کی مشہور شخصیات، فلم ساز اور تخلیق کار نائجیریا میں افریقہ میجک ویوئرز چوائس ایوارڈز کے 12ویں ایڈیشن میں سج دھج کر پہنچے تھے۔

لاگوس کے ایکو ہوٹل اینڈ سوٹس میں منعقد ہونے والی یہ سالانہ تقریب براعظم افریقہ کے سب سے بڑے ثقافتی مظاہروں میں سے ایک ہے، جہاں مشہور شخصیات ایوارڈز کے ساتھ ساتھ بہترین لباس کے اعزاز کے لیے بھی مقابلہ کرتی ہیں۔

اس سال کے ریڈ کارپٹ پر فیشن کا بھرپور مظاہرہ ہوا۔

BBC/GIFT UFUOMA

کئی مشہور شخصیات اپنے ساتھ ایسے گروپ لے کر آئیں جو فوٹوگرافروں کے ہجوم اور چیختے ہوئے مداحوں کے درمیان ان کے بڑے سائز کے ملبوسات کو سنبھالنے میں مدد کر رہے تھے۔

اس رات سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والے انداز اور لمحات میں سے ایک وہ تھا جسے شائقین نے ’بدلنے کا لمحہ‘ قراردیا۔

ریئلٹی ٹی وی سٹار کوئین مرسی آتانگ اس شام کے وہاں پہنچیں تو سب کی توجہ کا مرکز بن گئیں، وجہ ان کا لباس تھا جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ 500 سے زائد ڈبل روٹیوں کی مدد سے بنایا گیا ہے۔

دو لڑکیوں کے درمیان، جو ٹرے اٹھائے ہوئے تھیں، اور کئی معاونین اس لباس کو ریڈ کارپٹ پر سنبھالنے میں مدد کر رہے تھے۔

اس لباس کے ساتھ آتانگ کو آزادانہ طور پر چلنے میں مشکل پیش آئی۔

BBC/GIFT UFUOMAاداکارہ اور تقریب کی میزبان سِمی ڈرے ستاروں جیسی روشنی میں لپٹی ہوئی تھیں، ایک ایسا لباس پہنے ہوئے جو مکمل طور پر شیشے سے بنا تھا اور جسے اوویمز نے ڈیزائن کیا تھا

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ لباس اُن کے بریڈ بنانے کے کاروبار کی تشہیر کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا اور انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ انداز چونکانے کے بجائے ایک سوچا سمجھا مارکیٹنگ فیصلہ تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’میرے کاروبار کی تشہیر کے لیے اس شام سے بہتر اور کون سی جگہ ہو سکتی ہے؟‘

یہ لباس تیانا ایمپائر کی معروف ڈیزائنر ٹوین لاوان نے تیار کیا تھا، جنھوں نے انسٹاگرام پر تبصرہ کیا کہ وہ ’ہر کسی کو اپنا کاروبار پہننے‘ کا ایک نیا رجحان شروع کر رہی ہیں۔

یہ انداز فوراً ہی اس رات سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والا موضوع بن گیا۔

کچھ سوشل میڈیا صارفین نے اس ڈیزائن کو سراہتے ہوئے اسے ’اپنے کاروبار کو فروغ دینے کی حقیقی مثال‘ قرار دیا۔

تاہم، تمام مداح متاثر نہیں ہوئے۔ کچھ نے کہا کہ یہ نمائش خوراک کے ضیاع کی نمائندگی کرتی ہے، تاہم اس تبصرے کو ریئلٹی ٹی وی سٹار نے مسترد کر دیا۔

نانا اکوا اڈو کا گرجا گھر جیسا لباسBBC/MOBOLAJI OLATUNDEجرمنی کے کولون کیتھیڈرل سے متاثر لباس

آتانگ انوکھے ڈیزائن کا لباس پہننے والی واحد خاتون نہیں تھیں۔ گھانا کی فیشن سٹار نانا اکوا اڈو نے بھی اس شام کے ڈرامائی فیشن لمحات کی اپنی شہرت کے مطابق جرمنی کے کولون کیتھیڈرل سے متاثرہ چاندی کے رنگ کے ایک لباس میں شرکت کی۔

یہ مضبوط ساخت والا لباس ہاتھ سے بنائی گئی کھڑکیوں جیسی ڈیٹیلز، کیتھیڈرل کی شکل کی توسیعات اور ہم آہنگ چاندی کے لوازمات پر مشتمل تھا۔ ان کی ٹیم کے اراکین لباس کے مختلف حصوں کو سنبھالنے میں مدد کر رہے تھے۔

ان کی ڈیزائنر، اباس وومن، نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ڈیزائن کو بنانے کا عمل نومبر 2025 میں شروع ہوا تھا اور یہ لباس تقریب سے صرف دو دن پہلے مکمل ہوا۔

ان کی ٹیم کے مطابق، یہ لباس مشہور گرجا گھر کے طرز تعمیر سے متاثر تھا، اور اس کا مقصد شان و شوکت اور فنِ تعمیر دونوں کو ظاہر کرنا تھا۔

Reutersیہ شعلہ نما لباس کئی مہینوں سے تیاری کے مراحل میں تھاآگ اور نئی زندگی کی علامت

نائجیرین اداکارہ اوچے مونٹانا ایک شاندار سرخ اور سنہری پروں والے لباس میں آئیں جسے انھوں نے ’آگ‘ اور ’فینکس کی دوبارہ پیدائش‘ کی نمائندگی قرار دیا۔

دونوں ہاتھوں پر سرخ جڑے ہوئے پتھروں کے ساتھ، اداکارہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس انداز پر سال کے آغاز سے کام جاری تھا۔

مکمل رقم بتانے سے انکار کرتے ہوئے، انھوں نے کہا کہ اس انداز کو حقیقت بنانے پر انھوں نے ’بہت زیادہ‘ رقم خرچ کی، اور یہ بھی کہا کہ مشہور شخصیات کی چمک دمک کے بارے میں ایک بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ستاروں کو برانڈز کی جانب سے مکمل طور پر مفت سٹائل کیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا، ’ان اندازوں میں بہت زیادہ مالی اور ذہنی محنت شامل ہوتی ہے۔‘

ان کی یہ شرکت ان کے لیے ایک اہم رات کا اختتام بنی، جس میں انھیں افریقہ میجک ویوئرز چوائس ایوارڈز کا ٹریل بلیزر ایوارڈ بھی ملا، جو ایک غیر ووٹنگ کیٹیگری ہے اور ان ابھرتی ہوئی صلاحیتوں کو سراہتی ہے جو انڈسٹری میں مضبوط اثر ڈال رہی ہیں۔

کیا دفتر میں کامیابی کا راز آپ کے لباس میں بھی چھپا ہے؟آسکرز 2026، پریانکا چوپڑا اور ’آزاد فلسطین‘ کا نعرہ: فلم ایوارڈز کی سب سے بڑی تقریب میں کیا کیا ہوا؟’صبا قمر نے ہامی بھری تو اندازہ ہو گیا کہ ڈرامہ ہٹ ہو گا‘: ’معمہ‘ کی کہانی خود ایک معمہ کیوں بن گئیامریکی اشرافیہ اور خاندانی رئیسوں کا لباس بن جانے والا ’مدراس چیک‘ ایک سٹائل کیسے بنامیٹ گالا پر لیڈی گاگا کا راجہزاروں ڈالرز کا لباس جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More