Poetry in Urdu Shayari, Ghazals, Nazms

UrduWire.com presents thousands of best roman & Urdu poetries, ghazals, Urdu sher & nazms. Read the best shayari by Pakistani & Indian famous Urdu poets.

چوں شمع سوزاں چوں ذرہ حیراں ز مہر آں مہ بگشتم آخر
نمی دانم چہ منزل بود،شب جای کہ من بودم
بہر سو رقصِ بسمل بود،شب جای کہ من بودم

پری پیکرنگاری،سرو قدی،لالہ رُخساری
سراپا آفتِ دل بود،شب جای کہ من بودم

رقیباں گوش بر آواز،او در ناز و من ترساں
سُخن گفتن چہ مشکل بود،شب جای کہ من بودم

خدا خود میرِ مجلس بود،اندر لامکاں خسرو
محمد(صلی اللہ علیہ وسلّم) شمع محفل بود ،شب جای کہ من بودم
آپ کا اعتبار کون کرے
آپ کا اعتبار کون کرے
روز کا انتظار کون کرے

ذکر مہر و وفا تو ہم کرتے
پر تمہیں شرمسار کون کرے

ہو جو اس چشم مست سے بے خود
پھر اسے ہوشیار کون کرے

تم تو ہو جان اک زمانے کی
جان تم پر نثار کون کرے

آفت روزگار جب تم ہو
شکوۂ روزگار کون کرے

اپنی تسبیح رہنے دے زاہد
دانہ دانہ شمار کون کرے

ہجر میں زہر کھا کے مر جاؤں
موت کا انتظار کون کرے

آنکھ ہے ترک زلف ہے صیاد
دیکھیں دل کا شکار کون کرے

وعدہ کرتے نہیں یہ کہتے ہیں
تجھ کو امیدوار کون کرے

داغؔ کی شکل دیکھ کر بولے
ایسی صورت کو پیار کون کرے
Jab Ishq Ke Arman Jal Jata Han
Jab Ishq Ke Arman Jal Jata Han
Na Jane Kiun Log Badal Jaten Han
Bachpan K Wo Din Thay Parhai Ka Wo Dour Tha
Bachpan K Wo Din Thay Parhai Ka Wo Dour Tha
School Mein Wo Milla Aise Jaisay Chand Ko Mila Chakor Tha
Chup chaap khamoshi sa wo saya
Chup chaap khamoshi sa wo saya Jis ne ghamon ka dher aksar has k bitaya hai
ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم
ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم
کسی کے دل کی حقیقت کسی کو کیا معلوم

یقیں تو یہ ہے وہ خط کا جواب لکھیں گے
مگر نوشتۂ قسمت کسی کو کیا معلوم

بظاہر ان کو حیا دار لوگ سمجھے ہیں
حیا میں جو ہے شرارت کسی کو کیا معلوم

قدم قدم پہ تمہارے ہمارے دل کی طرح
بسی ہوئی ہے قیامت کسی کو کیا معلوم

یہ رنج و عیش ہوئے ہجر و وصل میں ہم کو
کہاں ہے دوزخ و جنت کسی کو کیا معلوم

جو سخت بات سنے دل تو ٹوٹ جاتا ہے
اس آئینے کی نزاکت کسی کو کیا معلوم

کیا کریں وہ سنانے کو پیار کی باتیں
انہیں ہے مجھ سے عداوت کسی کو کیا معلوم

خدا کرے نہ پھنسے دام عشق میں کوئی
اٹھائی ہے جو مصیبت کسی کو کیا معلوم

ابھی تو فتنے ہی برپا کئے ہیں عالم میں
اٹھائیں گے وہ قیامت کسی کو کیا معلوم

جناب داغؔ کے مشرب کو ہم سے تو پوچھو
چھپے ہوئے ہیں یہ حضرت کسی کو کیا معلوم
زمانہ سخت کم آزار ہے بجانِ اسد
زمانہ سخت کم آزار ہے بجانِ اسد
وگرنہ ہم تو توقع زیادہ رکھتے ہیں
غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں
غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں
تو نے مجھ کو کھو دیا میں نے تجھے کھویا نہیں

نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھا
یوں لگا جیسے وہ شب کو دیر تک سویا نہیں

ہر طرف دیوار و در اور ان میں آنکھوں کے ہجوم
کہہ سکے جو دل کی حالت وہ لب گویا نہیں

جرم آدم نے کیا اور نسل آدم کو سزا
کاٹتا ہوں زندگی بھر میں نے جو بویا نہیں

جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیرؔ
غم سے پتھر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
تم جاؤ بڑے شوق سے منہ موڑ کے جاؤ
تم جاؤ بڑے شوق سے منہ موڑ کے جاؤ
افسوس نہیں دل کو مرے توڑ کے جاؤ
ہماری آنکھوں میں وفا کی اُمید رہنے دو
ہماری آنکھوں میں وفا کی اُمید رہنے دو
سُنو! تُم ہمیں ذرا اپنے پاس رہنے دو
Kux Dastaras To Hai Takdir Ki Kitabat Me
Kux Dastaras To Hai Takdir Ki Kitabat Me
Jo Badalni Hoti Hai Khuda Ki Ibadat Me
وہ لوگ میرے بہت پیار کرنے والے تھے
وہ لوگ میرے بہت پیار کرنے والے تھے
گزر گئے ہیں جو موسم گزرنے والے تھے

نئی رتوں میں دکھوں کے بھی سلسلے ہیں نئے
وہ زخم تازہ ہوئے ہیں جو بھرنے والے تھے

یہ کس مقام پہ سوجھی تجھے بچھڑنے کی
کہ اب تو جا کے کہیں دن سنورنے والے تھے

ہزار مجھ سے وہ پیمان وصل کرتا رہا
پر اس کے طور طریقے مکرنے والے تھے

تمہیں تو فخر تھا شیرازہ بندیٔ جاں پر
ہمارا کیا ہے کہ ہم تو بکھرنے والے تھے

تمام رات نہایا تھا شہر بارش میں
وہ رنگ اتر ہی گئے جو اترنے والے تھے

اس ایک چھوٹے سے قصبے پہ ریل ٹھہری نہیں
وہاں بھی چند مسافر اترنے والے تھے
آج کا دن ہے کیا کمال
آج کا دن ہے کیا کمال بس مجھے اس لڑکی کا ہے خیال
سالگرہ ہے اُس کی معلوم ہے یار اس ماہ جنوری کا عجب ہے کمال
چڑیا چھو چھو کرتی دانے كے لیے
چڑیا چھو چھو کرتی دانے كے لیے
میری دوست روتی ہے برتھ ڈے منانے كے لیے
Kyun Karte Ho Waade Jo Nibha Nahi Sakte
Kyun Karte Ho Waade Jo Nibha Nahi Sakte
Tum Ne Khela Hai Jo Khel Wo Bata Nahi Sakte
Naseeb Azmaney Ke Din Aarahe Hain
Naseeb Azmaney Ke Din Aarahe Hain
Kareeb Aney Ke Din Arahe Hain
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
ہجوم دیکھ کے رستہ نہیں بدلتے ہم
ہجوم دیکھ کے رستہ نہیں بدلتے ہم
کسی کے ڈر سے تقاضا نہیں بدلتے ہم

ہزار زیر قدم راستہ ہو خاروں کا
جو چل پڑیں تو ارادہ نہیں بدلتے ہم

اسی لیے تو نہیں معتبر زمانے میں
کہ رنگ صورت دنیا نہیں بدلتے ہم

ہوا کو دیکھ کے جالبؔ مثال ہم عصراں
بجا یہ زعم ہمارا نہیں بدلتے ہم

Urdu Poetry, Shayari & Ghazal

Urdu Shayari is a cherished tradition that has been passed down through generations, celebrated for its elegance and emotional depth. Urdu, with its lyrical quality and vocabulary drawn from Persian, Arabic, and Turkish, is considered one of the most expressive languages in the world.