وائٹ ہاؤس کے اطراف میں پرتشدد مظاہرے، کرفیو نافذ

سماء نیوز  |  Jun 02, 2020

Photo/AFP

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاوس کے اطراف کے علاقے پیر اور منگل کی درمیانی شب میدان جنگ بن گئے۔ مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپیں جاری رہیں جبکہ فورسز نے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس کا استعمال کیا۔

امریکا میں سیاہ فام شہری کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد چوبیس سے زائد ریاستوں میں پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔ متعدد ریاستوں میں جلاؤ گھیراؤ اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے۔ پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔

گزشتہ شب مظاہرین دوسری مرتبہ وائٹ ہاؤس کے اطراف جمع ہوگئے جہاں پولیس نے انہیں زبردستی منتشر کرنے کی کوشش کی جس پر جھڑپیں ہوئیں اور پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے باعث رات بھر وائٹ ہاؤس کے اطراف کے علاقے میدان جنگ کا منظر پیش کرتے رہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کائلی مک کین نے پیر کو پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ 24 ریاستوں میں نیشنل گارڈ کے 17،000 اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر انصاف و دفاع اور چیف آف اسٹاف سے اس بحران پر بات چیت کرنے کے لیے ایک کمانڈ سنٹر بنانے کو کہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل گارڈ اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے تیار ہے مگر امن وامان کی پہلی ذمہ داری ریاستوں کی ہے۔ فسادات کو روکنا ریاستی گورنروں کی ذمہ داری ہے لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

دوسری جانب نیویارک کے میئر بل ڈی پالسیاؤ نے ہنگاموں کے سبب پیر سے شہر میں رات کے کرفیو کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی حفاظت کے لیے پیر کی شام سے نیو یارک سٹی میں کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو رات 11 بجے نافذ العمل ہوگیا ہے۔ کرفیو صبح پانچ بجے اٹھایا جائے گا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More