’ملک ریاض کی بیٹیوں کے خلاف مزید کارروائی نہیں کرنا چاہتی‘

اردو نیوز  |  Jun 03, 2020

اداکارہ اور ماڈل عظمیٰ خان اور ان کی بہن ہما خان نے پاکستان کی معروف کاروباری شخصیت ملک ریاض کی بیٹیوں کے خلاف مبینہ تشدد کا مقدمہ واپس لے لیا ہے۔

لاہور کی کینٹ کچہری میں اداکارہ عظمیٰ خان کی بہن نے ملک ریاض کی بیٹیوں کے حق میں بیان دیتے ہوئے مقدمہ واپس لے لیا ہے۔

واضح رہے کہ 22 مئی کو عظمیٰ خان پر مبینہ تشدد کرنے کا واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا جس کے بعد عظمیٰ خان کی درخواست پر تھانہ ڈیفنس کی پولیس نے آمنہ ملک، پیشینہ ملک اور عنبر ملک کے علاوہ 15 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ 

مزید پڑھیںملک ریاض کے 19 کروڑ پاؤنڈز پاکستان منتقلNode ID: 446671میں خود کو باغی سمجھتی ہوں: ٹک ٹاک سٹار حریم شاہNode ID: 479176عظمیٰ خان کی درخواست پر ملک ریاض کی بیٹیوں کے خلاف مقدمہNode ID: 481516

عظمیٰ خان کی بہن ہما خان نے لاہور میں کینٹ کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ نعمان ناصر کے روبرو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان قلمبند کروایا جس میں مزید کارروائی نہ کرنے کا کہا گیا ہے۔

ہما خان نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک ریاض کی بیٹیوں کے خلاف مقدمہ غلط فہمی کی بنیاد پر درج کروایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ ملک ریاض کی بیٹیوں کے خلاف درج کروائے گئے مقدمے میں کوئی گواہی یا شہادت پیش نہیں کرنا چاہتیں۔

ہما خان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ مقدمے میں تاحال کوئی چالان نہیں آیا اس لیے مزید کارروائی نہیں کرنا چاہتی۔

اداکارہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ملزمان ان کے گھر سے تقریباً 50 لاکھ مالیت کا سامان بھی لے گئے (فوٹو انسٹاگرام)قبل ازیں اداکارہ عظمیٰ خان کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ملزمان نے اُن پر تشدد کیا، گھریلو سامان کی توڑ پھوڑ کی، جان سے مارنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور ایک نامعلوم گارڈ کو ان کے ساتھ زیادتی کرنے کو کہا۔

تاہم منگل کو عدالت میں دیے گئے اپنے بیان میں ہما خان نے کہا ہے کہ انہیں میز کا شیشہ گرنے کی وجہ سے چوٹیں آئیں۔

اداکارہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ملزمان ان کے گھر سے جاتے ہوئے تقریباً 50 لاکھ مالیت کا سامان بھی لے گئے تھے اور دھمکی دی تھی کہ 'ہم ملک ریاض کی بیٹیاں ہیں، ہم تمہارا خاندان مار دیں گی، اور اگر کسی کو اس واقع کے بارے میں بتایا تو تم دونوں کو لاشیں بھی نہیں پہچانی جائیں گی۔'

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More