انسانوں کے درمیان فاصلے پیدا کرتی سرحدیں: تصاویر میں

اردو نیوز  |  Jul 01, 2020

مضبوط سرحدیں کسی بھی ملک کی خودمختاری کی علامت ہوتی ہیں اور ان کی حفاظت ہر ملک کی اولین ترجیح ہے۔ بیسویں صدی کے دوران کئی ریاستیں ٹوٹنے کے بعد متعدد سرحدیں قائم ہوئیں جن میں سے چند آج بھی متنازع ہیں۔ ان میں سے اکثر سرحدیں علاقہ مکینوں کی مرضی کے بغیر ان پر مسلط کر دی گئیں اور لوگوں کو ہمیشہ کے لیے اپنوں سے جدا کر دیا گیا۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی ان تصاویر میں ایسی ہی بعض سرحدوں کو دکھایا گیا ہے کہ کیسے اس کے دونوں اطراف رہنے والوں کو چیک پوسٹوں اور خار دار تاروں کے ذریعے جدا کیا ہوا ہے۔

شمالی آئرلینڈ کے دارالحکومت بیلفاسٹ میں ایسی کئی ’امن دیواریں‘ قائم ہیں جو دو حریف گروہوں کے علاقوں کو ایک دوسرے سے الگ کرتی تھیں۔

ترکی اور یونانی قبرص کے درمیان آٹھ برس بعد 2018 میں نئی سرحدی راہداریاں کھولی گئی تھیں۔

فلسطینی اسرائیل اور غرب اردن کے درمیان متنازع سرحد کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ 

مراکش کے مغربی صحارا پر ملکیت کے دعوے کی غرض سے سکیورٹی پوسٹ بنائی گئی ہے جس کو ’شرمناک‘ یا ’موت‘ کی دیوار بھی کہا جاتا ہے۔

شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان سرحد پر لوگوں نے رنگ برنگے ربن لٹکائے ہوئے ہیں جن پر امن کے پیغامات درج ہیں۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان سرحد کے دونوں طرف گاؤں آباد ہیں جو کبھی دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان جھڑپوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

1991 میں یورپی ممالک کروشیا اور سلووینیا نے ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کر کے ہمیشہ کے لیے سرحد قائم کر لی تھی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More