گندم کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف ملک بھر میں کریک ڈاؤن کا فیصلہ

بول نیوز  |  Jul 14, 2020

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک بھر میں گندم کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث افراد کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا ہے جس میں گندم کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف ملک بھر میں کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ گندم کی اسمگلنگ کی روک تھام کو مکمل طور پر یقینی بنایا جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ گندم اور آٹے کی  وافر دستیابی  کو یقینی بنانے اور قیمتوں کو یکساں سطح پر لانے کے لئے بین الصوبائی کورارڈینیشن کو مزید بہتر کرتے ہوئے جامع اور منظم انتظامی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال کے تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبہ سندھ میں گندم کی ریلیز کی پالیسی کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے اس کے ساتھ ہی مستقبل میں گندم  اور آٹے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے  گندم کی درآمد کے  فیصلے پر عمل درآمد کے حوالے سے منصوبہ بندی کو  جلد از جلد حتمی شکل دی جائے۔

چیف سیکرٹری پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی جانب سے گندم کی صورتحال اور گندم اور آٹے کی قیمتوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ صوبہ پنجاب کے تمام شہروں میں بیس کلو آٹے کا تھیلا  860  روپے  پر فراہم کیا جا رہا ہے۔

چیف سیکرٹری کا کہنا تھا کہ گندم کی وافر دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے حکومت پنجاب کی جانب سے اٹھارہ ہزار ٹن گندم روزانہ کی بنیاد پر ریلیز کی جا رہی ہے جبکہ صوبہ خیبر پختونخواہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے  تقریباً بیس فیصد آٹا خیبر پختونخواہ کو بھجوایا جا رہا ہے۔

دوسری جانب اجلاس میں چینی کی مناسب نرخوں پر دستیابی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔

چیف سیکرٹری پنجاب نے صوبے میں چینی کی دستیابی اور قیمتوں کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء حماد اظہر، فخر امام، مشیران ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، عبدالرزاق داؤد، معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل و دیگر سینئر افسران بھی شرکت کی جبکہ صوبائی چیف سیکرٹریز کی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کو یقینی بنایا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More