پاکستان کے خلاف کھیل کے میدان میں بھی سازشیں شروع

روزنامہ اوصاف  |  Aug 14, 2020

اسلام آباد(ویب ڈیسک )آئی سی سی کی جانب سے شیئر کیے جانے والے خاکے میں کسی پاکستانی کھلاڑی کو شامل نہ کرنے پر آئی سی سی سخت تنقید کی زد میں آگئی۔سوشل میڈیا صارفین بھارت نوازی پر بھڑک اٹھے۔آئی سی سی کی جانب سے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے حوالے سے ایک خاکہ جاری کیا گیا ہے جس میں ویرات کوہلی سب سے نمایاں ہیں، بنگلادیش، یہاں تک کہ افغانستان کی نمائندگی بھی موجود ہے۔اس خاکے میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں عالمی نمبر ون بیٹسمین بابر اعظم  کو بھی شامل نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس خاکے میں ٹی ٹونٹی میں اچھی کارکردگی دکھانیوالے شاداب خان، شاہین شاہ آفریدی، محمد حفیظ کو شامل کیا گیا۔اینکر عمران خان نے کہا کہ اس تصویر میں آئی سی سی نے جان بوجھ کر کسی پاکستانی کھلاڑی کو شامل نہیں کیا اور یہ تصویر آئی سی سی نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ڈالی ہے۔ کیا آئی سی سی یہ بتانا چاہتا ہے کہ پاکستان کے بغیر بھی کرکٹ ہوسکتی ہے؟ پاکستان کے بغیر بھی ٹی 20 ہوسکتا ہے؟ بھارت ہویا یورپ ، پاکستان کو ہر محاذ پر تنہا کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔اینکر کے مطابق بابراعظم جو ٹی 20 کا نمبر ون پلئیر ہے اسے اس میں شامل نہیں کیا گیا، یرات کوہلی بے شک بہت بڑا پلئیر ہے لیکن اسکا بہت بڑا منہ لگادیا ہے۔ اس خاکے میں بنگلہ دیش، نیپال، افغانستان کے کھلاڑی شامل ہیں لیکن پاکستان کا کوئی کھلاڑی شامل نہیں ہے، پوری دنیا میں دو ہی بلے بازوں کی بات ہوتی ہے، ایک ویرات کوہلی اور دوسرا بابراعظم۔۔ ویرات کوہلی کی اہلیہ انوشکا شرما کہتی ہیں کہ کپتان میرا شوہر بہت اچھا ہے لیکن اچھا بلےباز بابراعظم ہی ہے۔اینکر کے مطابق پاکستان کو اب کرکٹ میں بھی اکیلا کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ پاکستان کے حالات جتنے مرضی اچھے ہوجائیں یہ پاکستان آکر کھیلنے کو تیار نہیں کیونکہ پاکستان کی وکٹیں ہمارے کھلاڑیوں کو سپورٹ کرتی ہیں، کراؤڈ سپورٹ موجود ہے جبکہ بیرون ملک ایسا نہیں ہے، وکٹیں پاکستانی بلے بازوں کو سامنے رکھ کر بنائی جاتی ہیں۔جو ٹاپ کے 4 بلے باز ہیں انہیں سامنے رکھ کر بنائی جاتی ہیں تاکہ پاکستانی بلے باز سکور نہ کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ باہر کی وکٹوں پر ٹاپ بلے باز سکور نہیں کرتے اور ٹیل اینڈرز سکور کرجاتے ہیں۔دوسرا کراؤڈ سپورٹ بھی پاکستان کے حق میں نہیں ہوتی، ایسا لگتا ہے کہ ساری دنیا ایک طرف ہے اور پاکستان ایک طرف ہے۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More