کروڑوں فیس بک صارفین کیلئے بری خبر،مقبول ترین ایپ بندکرنے کااعلان

روزنامہ اوصاف  |  Aug 14, 2020

کروڑوں فیس بک صارفین کیلئے بری خبر آگئی۔گزشتہ کئی سالوں سے متعدد ڈیولپرز کی جانب سے اپنی اپنی ایپ کے 'لائٹ' ورژن متعارف کرائے جا چکے ہیں تاکہ صارفین ان ایپ کو کم اسپیڈ والے انٹرنیٹ کے باوجود بھی استعمال کر سکیں۔لیکن اب حال ہی میں سماجی رابطوں کی مقبول ترین ایپ فیس بک نے اپنی ایپ ' فیس بک لائٹ' بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔فیس بک نے برازیل میں صارفین کو ' فیس بک لائٹ ایپ' بند کرنےکے حوالے سے پیغامات بھیجنا شروع کردیے ہیں اور اب فیس بک پوری دنیا میں اپنی لائٹ ورژن ایپ بند کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔آنے والے دنوں میں سماجی رابطوں کا مقبول ترین پلیٹ فارم فیس بک اینڈرائیڈ اور آئی او صارفین کے لیے اپنی لائٹ ورژن ایپ بند کر رہا ہے۔دنیا بھر میں فیس بک لائٹ استعمال کرنے والے صارفین اب فیس بک ایپ کے ہی ذریعے ہی اس پلیٹ فارم کو استعمال کر سکیں گے یاد رہے فیس بک نے اپنے صارفین کو مستند معلومات فراہم کرنے کے لیے ایک نئے فیچر کی آزمائش شروع کی گئی تھی تاکہ وہ ویب سائٹ کے اندر رہتے ہوئے اپنی مطلوبہ تفصیلات دیکھ سکیں اور وکی پیڈیا یا گوگل کا رخ نہ کریں۔ٹیک کرنچ کی رپورٹ کے مطابق فیس بک نے تصدیق کی ہے کہ فیس بک سرچ کو اپ ڈیٹ کیا جارہا ہے اور اب وہاں کسی عوامی شخصیات، مقام اور دیگر جیسے فلموں اور ٹی وی شوز کے بارے میں تفصیلات دیکھنا ممکن ہے، مثال کے طور پر اگر آپ پاکستان یا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فیس بک سرچ بار میں ٹائپ کریں گے تو دائیں جانب اوپر ایک انفارمیشن باکس نظر آئے گا جس میں تفصیلات موجود ہوں گی، یہ تفصیلات عوامی طور پر دستیاب ڈیٹا پر مشتمل ہوں گی جن میں وکی پیڈیا کی تفصیلات بھی شامل ہیں مگر صارفین ان کو فیس بک سے باہر دیکھنے کی بجائے ایک سائیڈ پینل میں ظاہر کیا جائے گا۔یہ بالکل ویسے ہی جیسے گوگل کی جانب اسی طرح کی سرچز کے حوالے نالج پینل فارمیٹ کو استعمال کیا جا رہا ہے، فیس بک نے تصدیق کی کہ یہ فیچر ایک پائلٹ پروگرام کے طور پر انگلش زبان میں آئی او ایس، ڈیسک ٹاپ اور موبائل ویب پر دستیاب ہوگا، یعنی کچھ صارفین اسے استعمال کرسکتے ہیں کچھ نہیں، کیونکہ یہ ابھی آزمائشی بنیاد پر کام کررہا ہے، تاہم جن افراد کے پاس یہ فیچر کام کررہا ہے تو وہاں بھی ہر سرچ انکوائری کی تفصیلات اس نئے فارمیٹ میں ظاہر نہیں ہوتیں۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More