ملیرایکسپریس وے کیلئے گلشن معمار میں درجنوں مکانات مسمار

سماء نیوز  |  Jan 25, 2021

کراچی کے علاقے گلشن معمار میں ملیر ایکسپریس وے کے مجوزہ راستے میں آنے والے درجنوں مکانات مسمار کردیئے گئے۔ مقامی انتظامیہ نے 100 کے قریب مکانات پر نشانات لگائے ہیں۔

کراچی کے شہری رافیل سہیل راجا، جو 8 بچوں کے باپ اور گلشن معمار کے جام کنڈا گوٹھ کے قریب 120 گز کے گھر میں رہائش پذیر ہیں، ان کا گھر بھی ملیر ایکسپریس وے کے راستے میں آرہا ہے۔

رافیل سہیل ایک عیسائی برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور گزشتہ 4 سال سے گلشن معمار میں رہائش پذیر ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ پیشے کے اعتبار سے ڈرائیور ہیں اور 2017ء میں 120 گز کا پلاٹ اپنے خاندان کیلئے گھر کی تعمیر کی غرض سے 2 لاکھ روپے میں خریدا تھا۔

رافیل نے بتایا کہ ان کے پاس تمام دستاویزات موجود ہیں جس میں ڈپٹی کمشنر ملیر کی جانب سے جاری لیز بھی شامل ہے، تاہم مختیار کار کی سربراہی میں سرکاری حکام کی ایک ٹیم نے ہمارے علاقے کا دورہ کیا اور تقریباً 100 گھروں کو گرانے کیلئے سرخ رنگ سے نشانات لگادیئے۔

رافیل سہیل راجا کا کہنا ہے کہ حکومت کی انسداد تجاوزات کی ٹیم گزشتہ ہفتے بدھ کو گلشن معمار کے عیسائی علاقے میں داخل ہوئی اور ہماری کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کے گھروں کو گرانا شروع کردیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری حکام نے بتایا کہ ہمارے مکانات ملیر ایکسپریس وے کے راستے میں آرہے ہیں اور انہیں مجوزہ ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر کیلئے مسمار کیا جائے گا، بدھ اور جمعرات کو حکومت نے تقریباً 40 کچے اور پکے مکانات کو مسمار کردیا۔

رافیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم ملیر بند کے بائیں ہاتھ کی جانب 300 سے 350 فٹ دور ہیں جبکہ میمن گوٹھ گلشن معمار کے دوسری طرف اور ہمارے مقابلے میں ملیر ندی سے کم فاصلے پر واقع ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کے بے رحمانہ اقدام سے سندھی اور بلوچی آبادی تاحال محفوظ ہے، متعلقہ سرکاری افسران کی ہدایت پر ہم نے لیز کے کاغذات ڈپٹی کمشنر ملیر کے آفس میں جمع کرادیئے۔

چیئرمین کرسچین ویلفیئر فاؤنڈیشن گلزار پرنس نے تصدیق کی کہ حکومت کی جانب سے گلشن معمار میں تقریباً 100 گھروں کو مسمار کرنے کیلئے نشانات لگائے گئے ہیں، ہمارے پاس سندھ حکومت کی جانب سے 2012ء میں جاری کی گئی گوٹھ آباد رہائشی لیز موجود ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کے جاری اقدامات کیخلاف حکم امتناع لینے کیلئے کمیونٹی نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

ٹاؤن پلاننگ کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر کیلئے انوائرنمنٹل امپیکٹ اسیسمنٹ (ای آئی اے) تاحال مکمل نہیں ہوا، حکومت کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی بڑے منصوبے کے آغاز سے قبل ای آئی اے کرائے تاکہ منصوبے کے فوائد اور نقصانات کو سمجھا جاسکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر ممالک سڑکوں اور ہائی ویز کی تعمیر سے پہلے مناسب طریقے سے انوائرنمنٹل امپیکٹ اسیسمنٹ کررہے ہیں تاکہ عوامی مفاد کے کسی بھی منصوبے پر عملدرآمد کیلئے مناسب طریقہ کار اور منصوبے سے متعلق منفی اثرات کو ذہن میں رکھا جاسکے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More