85 برس سے لاپتہ تسمانین ٹائیگر کی لاش میوزیم کی الماری سے مل گئی

بی بی سی اردو  |  Dec 05, 2022

دنیا کے آخری معلوم تسمانین ٹائیگر کی باقیات ایک آسٹریلوی میوزیم کی الماری سے مل گئی ہیں جو گذشتہ 85 برس سے لاپتہ تھیں۔ 

یہ تھائیلاسائین سنہ 1936 میں ہوبارٹ کے ایک چڑیا گھر میں ہلاک ہو گیا تھا اور اس کی باقیات ایک مقامی میوزیم کو دے دی گئی تھیں مگر یہ بات راز رہی کہ اس کے ڈھانچے اور کھال کے ساتھ بعد میں کیا ہوا۔ 

تسمانیئن میوزیم اینڈ آرٹ گیلری کو یہ علم نہ رہا کہ یہ باقیات کہاں ہیں اور مان لیا گیا کہ انھیں پھینک دیا گیا ہے۔ 

نئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ یہ تب سے اب تک میوزیم میں ہی محفوظ حالت میں تھیں مگر ان کا درست اندراج نہیں کیا گیا تھا۔ 

سنہ 2000 میں اس نوع کی معدومیت پر کتاب لکھنے والے رابرٹ پیڈل نے لکھا کہ ’کئی برسوں تک میوزیم کیوریٹرز اور محققین اس کی باقیات تلاش کرتے رہے مگر ناکامی ہوئی کیونکہ تھائیلاسائین کا کوئی مٹیریل سنہ 1936 کی تاریخ میں درج نہیں ہوا تھا۔‘ 

’چنانچہ یہ مان لیا گیا کہ اسے پھینک دیا گیا ہے۔‘ 

مگر اُنھیں اور میوزیم کے ایک کیوریٹر کو ایک ٹیکسیڈرمسٹ یعنی مردہ جانوروں کو محفوظ بنانے کے ذمہ دار شخص کی ایک غیر شائع شدہ رپورٹ ملی جس کی وجہ سے اُنھوں نے اس میوزیم کی کلیکشن کا دوبارہ جائزہ لیا۔ 

اُنھوں نے پایا کہ اس مادہ تسمانین ٹائیگر کی باقیات میوزیم کے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی ایک الماری میں رکھی ہوئی تھیں۔ 

کیوریٹر کیتھرین میڈلاک نے آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو بتایا کہ اسے آسٹریلیا میں ایک نمائشی دورے پر بھی لے جایا گیا تھا مگر عملے کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ آخری تھائیلاسائین ہے۔ 

اُنھوں نے کہا: ’اس کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ یہ کلیکشن میں سب سے بہترین حالت میں موجود کھال تھی۔‘ 

’اس وقت یہ سوچا گیا تھا کہ اب بھی جنگل میں اس نوع کے مزید جانور موجود ہیں۔‘ 

مانا جاتا ہے کہ تسمانین ٹائیگر آسٹریلیا میں پھرا کرتے تھے مگر انسانوں اور ڈنگوز کی وجہ سے ان کی آبادی کمی ہو گئی۔ 

بالآخر وہ صرف تسمانیہ جزیرے پر ہی رہ گئے اور وہاں انھیں شکار کر کر کے ختم کر دیا گیا۔ 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More