لاہور میں شہباز گل پر بغاوت کا مقدمہ، پنجاب حکومت خاموش

اردو نیوز  |  Dec 08, 2022

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پولیس نے چیئرمین تحریک انصاف کے چیف آف سٹاف شہباز گل پر بغاوت پر اکسانے کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ یہ مقدمہ لاہور کے تھانہ مانگا منڈی میں ایک شہری کی درخواست پر درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق ایک شہری محمد اشفاق نے درخواست دی تھی کہ انہوں نے  28 نومبر کو جب اپنا موبائل فون کھولا تو انہیں شہباز گل راولپنڈی میں ایک جلسے سے خطاب کرتے نظر آئے۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق ’اس تقریر میں شہباز گل کے الفاظ تھے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ باجوہ صاحب کے احکامات کے بغیر وہ مجھے اور اعظم سواتی کو ننگا کرے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کے احکامات کے بغیر ایک میجر جنرل رینک کا بندہ کچھ کرے گا۔‘

اس مقدمے کی ایف آئی آر میں مزید لکھا ہے کہ ان الفاظ سے شہباز گل نے عوام کو فوج کے چیف آف آرمی سٹاف کے خلاف بہکایا۔ اور فوج کے دیگر افسران کے خلاف بھی بہکایا۔ ایسے بیان سے نفرت اور دشمنی پھیلائی گئی ہے جبکہ ملزم کا بیان آرمی نیوی اور ایئر فورس کو بغاوت پر اکسانے کے مترادف ہے۔

اس درخواست پر کاروائی کرتے ہوئے پولیس نے اس ایف آئی آر میں لکھا ہے کہ درخواست کو بغور پڑھنے کے بعد اس کے متن سے اس مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 131 ، 153A،505 اور 500 کا اطلاق ہوتا ہے

 یہ دفعات بغاوت پر اکسانے، عوام میں منافرت پھیلانے اور دھمکیاں دینے سے متعلق ہیں۔

خیال رہے کہ صوبہ پنجاب میں اس وقت تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ اس مقدمے پر جب  لاہور پولیس سے رابطہ کیا گیا تو ترجمان کا کہنا تھا ’ایف آئی آر ہی پولیس کا موقف ہے۔‘

جبکہ ترجمان پنجاب حکومت مسرت چیمہ کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر مشیر داخلہ عمر چیمہ ہی درست حقائق بتا سکتے ہیں۔ عمر چیمہ سے بار ہا رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ دستیاب نہیں تھے۔

یاد رہے کہ اس پہلے شہباز گل کو اسی سے ملتے جلتے ایک مقدمے میں اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا تھا جس میں وہ ضمانت پر ہیں۔ انہوں نے دوران حراست تشدد کا الزام عائد کیا تھا۔

پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت ہونے کے باوجود چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے وزیر آباد میں خود پر حملے ہونے کی ’اپنی مرضی‘ کی ایف آئی آر درج نہ ہونے کا شکوہ بھی کیا تھا۔ جبکہ اس ایف آئی آر کے اندراج پر ابھی تک تحریک انصاف کا باضابطہ موقف نہیں آیا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More