بھارت نے فوجی راستہ چنا تو یہ ان کی چوائس ہے، آگے معاملہ کہاں جاتا ہے وہ ہماری چوائس ہوگی: ڈی جی آئی ایس پی آر

سچ ٹی وی  |  Apr 30, 2025

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشن (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاک فوج نے جوابی کارروائی کے تمام اقدامات مکمل کرلیے ہیں اور پاکستان کی سلامتی وخودمختاری کا ہر قیمت پر دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں جب کہ بھارت نے فوجی راستہ چنا تو یہ ان کی چوائس ہے، آگے معاملہ کہاں جاتا ہے وہ ہماری چوائس ہوگی۔

اسحٰق ڈار نے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشن (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اور ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔

نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معصوم شہریوں کا قتل قابل مذمت ہے اور پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے، کوئی بھی مقصد یا سبب بے گناہ افراد کی جان لینے کا جواز پیش نہیں کر سکتا، ایک انسان کی جان لینا پوری انسانیت کا قتل ہے، یہی ہماری قومی اور اسلام کی بھی پالیسی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پہلگام واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے، بھارت نے پہلگام حملے کے بعد پاکستان پر بغیر کسی شواہد کے الزامات لگائے اور واقعے کے فوراً بعد غیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ رویہ اختیار کیا، پورا خطہ بھارت کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی وجہ سے خطرے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعے میں ہونے والی انسانی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں، معصوم شہریوں کا قتل قابل مذمت ہے، دہشتگردی کے متاثرین کا دکھ پاکستان سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ بھارت، پاکستان سمیت دیگر ممالک میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے اور قتل کی مہم کا جشن مناتا ہے جب کہ پاکستان کے علاوہ کسی نے بھی دہشت گردی کی جنگ میں اتنی قربانیاں نہیں دی ہیں۔

’بھارت دوسروں پر انگلی اٹھانے کے بجائے اپنے اندرونی معاملات پر توجہ دے‘

ان کا کہنا تھا کہ بھارت دیگر ممالک پر انگلی اٹھانے کے بجائے اپنے اندرونی معاملات پر توجہ دے، بھارت میں ہمیشہ ایسے واقعات تب کیوں ہوتے ہیں جب وہاں کوئی عالمی شخصیت دورہ کررہی ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ بھارت میں ’ہر واقعے پر جو ہنگامہ اور میڈیا کی ہائپ پیدا کی جاتی ہے وہ جان بوجھ کر اور منظم طریقے سے کی جاتی ہے‘، اور یہ ’انتہائی افسوسناک ہے کہ بھارت بغیر کسی ثبوت کے الزامات اور افواہیں مہم کے طور پر استعمال کرتا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا موقع نہیں جب بھارت نے اس طریقہ کار کا سہارا لیا ہو، وہ ماضی میں بھی ایسا کرچکے ہیں اور دوبارہ وہی طریقہ کار استعمال کیا جیسے پلواما میں کیا گیا تھا جو اب بہت معروف طریقہ کار بن چکا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت جان بوجھ کر پاکستان کے ساتھ کشیدگی بڑھا رہا ہے تاکہ بین الاقوامی کمیونٹی کی توجہ مقبوضہ بھارت میں ہونے والے ’خوفناک‘ واقعات سے ہٹا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے تمام واقعات کو داخلی سیاسی مفادات کے لیے قوم پرست جذبات کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، ہم کشمیر اور بھارتی مسلمانوں کے خلاف انتہائی زہر آلود، اشتعال انگیز اور کھلے طور پر اسلامو فوبک بیانیے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔

’پاکستان کا پہلگام حملے سے کوئی تعلق ہے اور نہ کوئی فائدہ‘

انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا اور سیاسی رہنما پاکستان کے خلاف اسی طرح کا بیانیہ اپنانے میں مصروف ہیں جو پورے خطے کو ”انتہائی عدم استحکام“ کی طرف دھکیل رہا ہے۔

اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم نے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے اعلان کردہ غیر جانبدار تحقیقاتی کمیٹی کے ذریعے آزاد اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اس حوالے سے کسی بھی ٹی اور آرز کو معتبر اور متفقہ طور پر طے کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب معیشت استحکام کی طرف جا رہی ہے اور ہم دہشت گردی کے خلاف اہم پیشرفت کر رہے ہیں، ہمیں یہ سوال اٹھانے کی ضرورت ہے کہ اچانک بھارت یہ صورتحال کیوں پیدا کر رہا ہے اور اس کے پیچھے کیا مقصد ہے۔

’پانی روکنا اعلان جنگ تصور ہوگا‘

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا یکطرفہ اور غیر قانونی ہے، اس معاہدے میں ایسی کوئی دفعات نہیں ہیں، اسے اتفاق رائے کے بغیر تبدیل یا ختم نہیں کیا جا سکتا، اور اگر کوئی اختلافات یا مسائل ہیں تو معاہدے میں دیے گئے فورمز کو استعمال کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی نے واضح کردیا ہے کہ پاکستان کے پانی کے بہاؤ کو روکنے یا منحرف کرنے کی کوئی بھی کوشش، ’اعلان جنگ‘ سمجھا جائے گا کیوں کہ پانی پاکستانی عوام کی لائف لائن ہے۔

’اگر بھارت نے کوئی کارروائی کی تو بھرپور جواب دیں گے‘انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے عوام اور اس کی معیشت پر حملے کے برابر ہے جب کہ بھارت کے دیگر سفارتی اقدامات بے بنیاد اور غیر ضروری ہیں، بین الاقوامی کمیونٹی کا ذمہ دار رکن ہونے کے ناطے، پاکستان تحمل پر یقین رکھتا ہے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے پرعزم ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت کی صورت میں پاکستان اپنے حقِ دفاع کے تحت اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرنے کے لیے پرعزم ہے جب کہ پاکستان کشیدگی بڑھانے میں پہل نہیں کرے گا، تاہم اگر بھارت نے کوئی کارروائی کی تو بھرپور جواب دیں گے۔

نائب وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان موجودہ صورتحال سے بخوبی آگاہ ہے، ہماری فوج الرٹ ہے، بہت مضبوط اور چوکس ہیں، ہم اپنے منتخب وقت اور مقام پر مناسب اور فیصلہ کن ردعمل دیں گے۔

پہلگام واقعے پر عالمی برادری سے 6 سوالات

وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ پہلگام واقعے کے بارے میں چند سوالات اٹھانا چاہتے ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

کیا یہ وقت نہیں کہ پاکستان سمیت دنیا میں بھارت کی جانب سے شہریوں کے قتل کا احتساب کیا جائے؟کیا یہ ضروری نہیں کہ بین الاقوامی کمیونٹی متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی رکھنے کے باوجود بھارتی جارحیت کی حمایت سے گریز کرے؟کیا ایسا نہیں کہ بھارت ایک ملک پر فوجی مہم جوئی کے لیے پراپیگنڈا کر رہا ہے؟کیا بھارت کی جانب سے عالمی قوانین کو نظرانداز کرنے اور عالمی ذمہ داریوں سے تعلق غیر سنجیدہ رویے سے خطے کی صورتحال خراب نہیں ہوگی؟کیا یہ وقت نہیں کہ بین الاقوامی کمیونٹی بھارت کی مذمت کرے اور اسے اسلاموفوبیا اور مذہبی نفرت کی بنیاد پر لوگوں کو نشانہ بنانے سے روکے؟ہم یہ حقیقت جھٹلاسکتے ہیں کہ بھارت کی جارحانہ سوچ سے خطے میں ایٹمی طاقتوں کے ٹکراؤ کے خطرناک اور تباہ کن نتائج ہوسکتے ہیں؟

دہشتگرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ہم اس واقعے کے حقائق پر جائیں گے الزامات پر نہیں، اگر الزام یہ ہے کہ پاکستانی سرزمین سے کسی نام نہاد دہشت گردوں نے یہ واقعہ انجام دیا تو آپ کو یہ مدنظر رکھنا چاہیے کہ پہلگام کسی بھی پاکستانی قصبے سے 200 کلومیٹر سے بھی زیادہ فاصلے پر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جائے وقوع سے کسی کو بھی پولیس اسٹیشن تک پہنچنے کے لیے آدھا گھنٹہ درکار ہوگا، تو ایف آئی آر کے مطابق یہ کیسے ممکن ہے کہ 10 منٹ میں پولیس وہاں پہنچ بھی گئی اور پھر واپس جاکر ایف آئی آر بھی درج کرلی گئی، اس سے ظاہر ہوتا ہے وہ پہلے ہی اس کی تیاری کرچکے تھے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی انٹیلی جنس کے پاس اس واقعے کی خبر نہیں تھی لیکن جب واقعہ ہوگیا تو پھر 10 منٹ کے اندر ہی انہیں اتنی انٹیلی جنس مل گئی کہ انہوں نے کہہ دیا کہ ہینڈلر سرحد پار سے آئے تھے جب کہ مستقل یہ بیانیہ بنایا جارہا ہے کہ دہشت گردی کی یہ کارروائی مذہب کی بنیاد پر کی گئی، اور مسلمانوں کو چھوڑ کر ہندوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ ہی دیر بعد یہ بیانیہ بنانا شروع کردیا گیا کہ یہ مسلم دہشت گرد تھے جنہوں نے سیاحوں کو قتل کیا جب کہ ہمارا موقف ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں تھا، نہ تو مسلم دہشتگرد ہوتے ہیں، نہ ہی عیسائی اور نہ ہی ہندو دہشت گرد ہوتے ہیں، کیونکہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔

ترجمان پاک فوج نے پہلگام واقعے میں شہید ہونے والے مسلم شخص کے بھائی کا ویڈیو کلپ شرکا کو دکھایا جس میں شہید کا بھائی کہہ رہا ہے کہ اس واقعے میں میرا بھائی بھی شہید ہوا جو مسلمان ہے، تو یہ بات غلط ہے کہ صرف ہندوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال کیا کہ بھارت کی جانب سے یہ خود ساختہ بیانیہ کیوں بنایا جارہا ہے؟ وزیراعظم نے بھی بھارتی بیانیے پر سوال اٹھایا ہے۔

’پاکستان میں دہشتگرد کارروائیوں کا بھارت اہم اسپانسر ہے‘

ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے چند منٹ بعد ہی بھارتی ایجنسیوں سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اس واقعے کا الزام پاکستان پر لگانا شروع کردیا گیا اور پھر کچھ ہی دیر میں الیکٹرونک میڈیا نے بھی پاکستان کو اس واقعے کے مورد الزام ٹھہرانا شروع کردیا لیکن اب تک اس الزام کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جن سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے پروپیگنڈا شروع ہوا وہ ’ دہشتگردی کے کاروبار ’ میں بہت پہلے سے ہیں، اسی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے 4 نومبر 2023 کو میانوالی میں دہشتگردی کی کارروائی سے ایک روز قبل پوسٹ کی گئی ’کل بڑا دن ہے‘ اور اگلے دن کارروائی کے بعد ٹویٹ کیا گیا ’ویلکم میانوالی‘ اور پھر ہم نے فتنہ الخوارج کی دہشت گردانہ کارروائی دیکھی۔

ان کا کہنا تھا کہ 6 اکتوبر 2024 کو کراچی میں چینی شہریوں پر حملے سے قبل اسی ہینڈل سے ٹویٹ کیا جاتا ہے کہ اگلے چند گھنٹوں میں کچھ بڑا ہونے والا ہے اور پھر یہی سے اعلان کیا جاتا ہے ’کراچی میں بڑا دھماکا‘۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ یہاں دنیا کے یہ سمجھنے کے لیے اشارہ موجود ہے کہ سوشل میڈیا پر کیسے کوریو گرافی کی جارہی ہے کہ ہم کب اور کہاں کچھ کرنے والے ہیں اور پھر چند لمحوں پر الیکٹرانک میڈیا پر بھی خبریں چلنا شروع ہوجاتی ہیں۔

’پہلگام سے متعلق بھارت کے اندر سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں‘

انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے سلسلے میں بھی یہی کچھ ہوا، جعفر ایکسپریس کے واقعے پر بھی اس اکاؤنٹ سے کہا گیا کہ ’ آج اور کل پر اپنی نظریں پاکستان پر رکھیں’ اور پھر اس کے بعد جعفر ایکسپریس پر حملہ ہوجاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نائب وزیراعظم نے جو سوال اٹھائے ہیں وہی سوالات بھارت کے اندر سے بھی اٹھائےجارہے ہیں بلکہ اس واقعے کے حوالے سے سب سے بلند آوازیں بھارت سے ہی آرہی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت دہشت گردی کے واقعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے، فروری 2019 میں پلوامہ حملے کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، اور اب دیکھ رہے ہیں کہ پہلگام واقعے کو سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سازش پاکستان کی مسلسل اور سخت محنت سے جیتی گئی دہشت گردی کے خلاف جنگ اور معیشت کی بحالی کی کامیاب کوششوں سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اطلاعات ہیں، کہ بھارت کی مختلف جیلوں میں قید سیکڑوں پاکستانیوں کو جعلی مقابلوں میں دہشت گرد اور درانداز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، انہوں نے ثبوت کے طور پر ایک نوجوان ضیا مصطفیٰ کی تفصیلات پیش کیں جسے اکتوبر 2013 میں بھارتی فوج نے حراست میں لیا اور پھر اسے جعلی مقابلے میں 14 اکتوبر 2021 کو مار دیا گیا بعدازاں، ضیا مصطفی کے اہل خانہ کے وڈیو کلپ دکھائے گئے جن میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ضیا مصطفیٰ کو جعلی مقابلے میں مارا گیا اور اس کی لاش بھی اہلخانہ کو نہیں دی گئی۔

’بھارت دہشتگردی کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرتا ہے‘

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا ترجمان جعفر ایکسپریس حملے کے بعد متعدد بھارتی نیوز چینلز پر نمودار ہوا، جہاں اسے کھلے عام سراہا گیا جب کہ اس حملے کے بعد بی ایل اے کے دہشت گرد کے موبائل سے بنائی ہوئی حملے کی فوٹیج سب سے پہلے بھارتی میڈیا پر دکھائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی سرپرستی میں ہونے والے قتل اور دہشت گردی کا مسئلہ بین الاقوامی ہے، جس سے کینیڈا، امریکا اور آسٹریلیا بھی متاثر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس مضبوط وجوہات، تجرباتی شواہد اور حقائق موجود ہیں جس کی بنیاد پر ہم کہہ رہے ہیں کہ پہلگام سے ہمارا کوئی تعلق نہیں اور اس سے نکلنے کا واحد راستہ ایک آزاد، معتبر اور شفاف تحقیقات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس معتبر انٹیلی جنس ہے کہ پہلگام کے بعد بھارتیوں نے اپنی تمام پراکسیز کو پاکستان میں ہر جگہ دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کا ٹاسک سونپا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ وہ دہشت گردی ہے جس کی بھارت پشت پناہی اور سرپرستی کر رہا ہے، یہ پوری دنیا کے دیکھنے کے لیے ہے کیونکہ اس کے اثرات پوری دنیا محسوس کررہی ہے۔

’پاکستان دہشتگردی کیخلاف آخری مضبوط قلعہ ہے‘

انہوں نے سوال کیا کہ اپنے مختصر مدتی تنگ نظر مقاصد کی خاطر، بھارت اس دہشت گردی کی سہولت کاری کر رہا ہے اور اس بگڑے ہوئے نظریے کی پشت پناہی کر رہا ہے، کیوں؟

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف حالیہ کاررائیوں پر ان کا کہنا تھا کہ میں نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ منصوبہ بندی کے ساتھ ایک منظم اسلامی دہشت گردی کی مہم چلائی جا رہی ہے، لیکن واقعات مختلف کہانی سناتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ سمجھدار لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ، سیاح مسلمانوں کی ٹیکسیوں میں آئے، مسلمانوں کی ملکیت والے ہوٹلوں میں ٹھہرے، انہوں نے مسلمانوں کے پکائے ہوئے کھانے کھائے اور حملے کے بعد، انہیں مسلمانوں نے ڈھانپا اور بچایا، اور مرنے والا پہلا شخص بھی مسلمان تھا۔

ترجمان پاک فوج نے سوال اٹھایا کہ بھارتی مسلمانوں کی پوری برادری کو دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے، کیا یہ کسی ایجنڈے کا حصہ ہے؟ کیا یہ اس نفرت کا حصہ ہے جو منظم طریقے سے معاشرے میں ڈالی جا رہی ہے؟

’بھارتی بیانیے پر سوال اٹھانے والوں کی آواز کو دبایا جارہا ہے‘

ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ بھارتی بیانیے پر سوال اٹھا رہے ہیں انہیں دبایا جا رہا ہے، بھارتی جو کچھ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ بیرونی مسائل کو اندرونی اور اندرونی مسائل کو بیرونی بنانا ہے، دہشت گردی اور انتہا پسندی بھارت کا اندرونی مسئلہ ہے، اس سے نمٹنے اور اسے حل کرنے کے بجائے، وہ اسے بیرونی مسئلہ بنا رہے ہیں، پہلگام واقعے سے یہی معاملہ ظاہر ہورہا ہے۔

پاکستان کے ردعمل اور اس کے پاس موجود آپشنز کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہم تمام علاقوں میں صورتحال کو بہت احتیاط سے مانیٹر کر رہے ہیں اور ہمارا ردعمل اور جوابی اقدامات تیار ہیں، پاکستان کی سلامتی وخود مختاری کا ہر قیمت پر دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں، قوم متحد ہے اور تمام جماعتوں کا عزم ہے کہ کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دیں گے۔

اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن کی خاطر تحمل کا مظاہرہ کرے گا، لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر اشتعال دلایا گیا تو کسی بھی کارروائی کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا۔

’کسی بھی کارروائی کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا‘

ایک اور سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہم ایک متحد قوم ہیں جس کا واضح عزم ہے کہ اگر اشتعال انگیزی کی گئی تو پھر ہمیں الزام نہ دیں جب کہ پاکستانی حکام بھارت کی ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا معاملہ تمام فورمز، بشمول بین الاقوامی برادری کے ساتھ اٹھائیں گے۔

دونوں محاذوں پر لڑائی کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری قوت کے ساتھ تمام خطرات سے بیک وقت اور مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے ’ پوری طرح اہل’ ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی ضرورت سے متعلق سوال کے جواب میں نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ثالثی کی نہیں، تحقیقات کی ضرورت ہے، دونوں ممالک ایٹمی ہتھیاروں کے حامل ہیں لہذا کوئی بھی اشتعال انگیز اقدام ایسی سمت میں جاسکتا ہے جو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے ناقابل برداشت ہو، اس لیے میری دوستوں اور علاقائی ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بھارت حملے کی غلطی نہ کرے کیوں کہ بھرپور جواب دینے کی پوزیشن میں ہیں اور اس کے لیے ہم اپنی مرضی کا وقت اور طریقہ کار منتخب کریں گے۔

آخر میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ ادارے ہمہ وقت اپنی تیاری کے ساتھ موجود ہیں، فوجی تصادم کا راستہ بھارت نے چنا تو یہ ان کی چوائس ہے، آگے یہ معاملہ کدھر جاتا ہے تو یہ پھر ہماری چوائس ہوگی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More