اٹلی میں وزیرِ اعظم جارجیا میلونی سمیت مشہور خواتین کی مسخ شدہ تصاویر نازیبا تبصروں کے ساتھ شائع کرنے والی ویب سائٹ کو بند کر دیا گیا ہے۔
فیکا نامی ویب سائٹ بند کرنے کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اٹلی میں خواتین سیاستدانوں نے اس پر شدید تنقید کی تھی۔
فیکا نامی ویب سائٹ کھولنے پر اب اس پر ایک پیغام نظر آتا ہے کہ ’کچھ صارفین کے ’نامناسب رویے‘ کے سبب ’ہم گہرے دُکھ‘ کے ساتھ یہ ویب سائٹ بند کر رہے ہیں۔
اٹلی کی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے اس ویب سائٹ پر چھپنے والے مواد پر ’ناگواری‘ کا اظہار کیا تھا اور ذمہ داروں کو ’سخت‘ سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
فیکا نامی ویب سائٹ ایک ایسے وقت پر بند کی گئی ہے جب اب سے کچھ ہی دن پہلے مشہور شخصیات اور عوام نے ’میا موگلی‘ (مائی وائف) نامی فیس بُک پیج پر غم و غصے کا اظہار کیا تھا جہاں ہزاروں مرد ایک دوسرے کے ساتھ اپنی بیویوں اور پارٹنرز کی قابلِ اعتراض تصاویر شیئر کر رہے تھے۔
وہ تصاویر اکثر ایسے تبصروں کے ساتھ شیئر کی جا رہی تھیں جن میں تشدد کا عنصر نمایاں تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ اس فیس بُک پیج پر موجود صارفین میں سابق سیاستدان، کاروباری شخصیات اور پولیس افسران بھی شامل ہیں۔
میٹا نے اب یہ فیس بُک پیچ بند کر دیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ پیچ ’جنسی پالیسیوں کی خلاف ورزی‘ کر رہا تھا۔
فیکا نامی ویب سائٹ اس فیس بُک پیج کے مقابلے میں کافی بڑی تھی اور شکایات کے باوجود گذشتہ دو دہائیوں سے متحرک تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس ویب سائٹ پر موجود صارفین کی تعداد سات لاکھ سے زیادہ تھی۔
Getty Imagesالیسینڈرا موریٹی
اس ویب سائٹ کے نام نہاد ’وی آئی پی سیکشن‘ میں اٹلی کی خواتین سیاستدانوں، مشہور شخصیات، اداکاراؤں اور انفلوئنسرز کی تصاویر موجود تھیں، جو یا تو ان کے نجی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اُٹھائی گئی تھیں یا پھر وہ عوامی مقامات پر لی گئی تصاویر تھیں۔
ویب سائٹ پر ایسی تصاویر بھی موجود تھیں جس میں خواتین سوئم سوٹ پہنے ہوئی تھیں۔ ان تصاویر میں ڈیجیٹل طریقے سے تبدیلیاں کی گئی تھیں اور ان تصاویر کی البموں کو ’ہاٹ پولیٹیشنز‘ جیسے نام دیے گئے تھے۔
یورپین پارلیمنٹ کی رُکن الیسینڈرا موریٹی نے بھی فیکا نامی ویب سائٹ کے خلاف آواز اُٹھائی اور کہا تھا کہ اس ویب سائٹ پر ایسے تبصرے بھی موجود تھے جن میں ریپ کے لیے اُکسانے کا عنصر نمایاں تھا۔
ان کا مطالبہ ہے کہ ایسے تمام پلیٹ فارمز کے خلاف ایک اجتماعی لڑائی لڑنے کی ضرورت ہے۔
ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی سیاستدان موریٹی نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’شکایات صرف وہ ہی کارآمد ثابت ہوتی ہیں جو مشہور یا بااثر شخصیات کی جانب سے درج کروائی جاتی ہیں۔‘
’عام خواتین کو تنہا اور دفاع سے محروم چھوڑ دیا جاتا ہے۔‘
جب ڈیٹنگ کی ایک ’محفوظ‘ ایپ ہیک ہونے سے ہزاروں خواتین کی تصاویر اور لوکیشن لیک ہو گئیں’مجھے ہوائی جہاز میں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اب یہ خوف میرا پیچھا نہیں چھوڑتا‘وہ آن لائن گیم جس میں ہزاروں خواتین کا ’شکار‘ کیا گیا اور ان کی خفیہ ویڈیوز بنائی گئیںکینیا میں سیکس کے کاروبار میں بچوں کا استحصال
دوسری جانب ویب سائٹ فیکا نے اپنی بندش کا الزام صارفین پر لگایا ہے جو اس کے مطابق اس پلیٹ فارم کو اس کے ’حقیقی مقصد‘ سے دور لے گئے تھے۔
ویب سائٹ کا دعویٰ ہے کہ اسے بنانے کا مقصد صارفین کو ’اپنا مواد شیئر کرنے کے لیے محفوظ ماحول‘ دینا تھا۔
تاہم اس ویب سائٹ نے تسلیم کیا ہے کہ اس کا پلیٹ فارم ایک ایسی چیز میں تبدیل ہو چکا ہے جس پر لوگوں کو ’فخر نہیں اور وہ اس سے دوری اختیار کرنا چاہتے ہیں۔‘
ویب سائٹ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس پر موجود تمام مواد کو حذف کر دیا جائے گا۔
اٹلی میں سائبر کرائم سے نمٹنے والے پولیس کے یونٹ نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ ویب سائٹ کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
فیکا کا کہنا ہے کہ اس نے ہمیشہ تشدد پر مبنی مواد یا پھر بچوں کی تصاویر کو نہ صرف بلاک کیا بلکہ اس کے خلاف شکایات بھی درج کروائی ہیں۔
Getty Imagesجارجیا میلونی
تاہم چینج ڈاٹ او آر جی پر موجود ایک پیٹیشن میں کہا گیا ہے کہ اس ویب سائٹ پر ایسی تصاویر بھی موجود تھیں جو کہ خفیہ طریقوں سے بیوٹی پارلرز یا چینجنگ رومز میں بنائی گئی تھیں۔
اس پیٹیشن پر ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد دستخط موجود ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ کچھ تصاویر ’عوامی باتھ رومز میں چھوٹے کیمروں کی مدد سے بھی بنائی گئی تھیں۔‘
ماضی میں فیس بُک پیچ میا موگلی کے خلاف متعدد شکایات پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی تاہم صورتحال اس وقت بدلی جب مصنف کیرولینا کیپریا کی اس فیس بُک پیج کے خلاف مذمتی پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔
اس کے بعد تصاویر میں کچھ خواتین نے اپنے آپ کو پہچان لیا اور اس کے خلاف بولنا شروع ہو گئیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے ان کے پاس متعدد شکایات آ رہی ہیں۔
وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے ایک اطالوی اخبار کو بتایا کہ ’یہ دل کو چیر دینے والی بات ہے کہ 2025 میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو خواتین کی عزت خراب کرنے، ان کے خلاف جنسی تعصب برتنے اور نازیبا الفاظ کا استعمال کرنے کو نارمل سمجھتے ہیں۔‘
انھوں نے خواتین سے گذارش کی کہ وہ ان تصاویر کے معاملے پر بھی شکایات درج کروائیں جو ان کی اجازت کے بغیر شیئر کی جا رہی ہیں۔
اے آئی سافٹ ویئر پر ’اپنی مرضی سے‘ گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کی برہنہ ویڈیوز تیار کرنے کا الزامپاکستانی کرکٹر حیدر علی کے خلاف برطانیہ میں تحقیقات اور معطلی: گریٹر مانچسٹر پولیس نے کیا بتایا؟ماتا ہری: مشہور جاسوسہ جنھوں نے سزائے موت سے قبل آنکھوں پر پٹی بندھوانے سے انکار کیابرطانوی فوجی پابندی کے باوجود کینیا میں سیکس ورکروں سے جنسی تعلقات قائم رکھے ہوئے ہیں: تحقیقاتی رپورٹکینیا میں سیکس کے کاروبار میں بچوں کے استحصال کا انکشاف: ’ایسے گاہک بھی ہوتے ہیں جو ہمیشہ کم عمر لڑکیوں کے لیے آتے ہیں‘