’یہ قومی سلامتی کا مذاق اڑانے جیسا ہے‘: ٹرمپ کے بعد چین کا وہ دعویٰ جس نے مودی حکومت کو مشکل میں ڈال دیا

بی بی سی اردو  |  Jan 01, 2026

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مسلسل پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ بندی کروانے کا دعویٰ وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے اب تک ایک سیاسی چینلج بنا رہا ہے لیکن اب ایک ایسا ہی دعویٰ چین کی جانب سے بھی سامنے آنے کے بعد ان کی مشکل میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

یہ دعویٰ گزشتہ روز چینی وزیر خارجہ کی جانب سے سامنے آیا جب انھوں نے بھی مئی میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کا بیان جاری کیا۔

اس بیان کے سامنے آنے کے بعد سے انڈیا میں اپوزیشن کی جانب سے ایک بار پھر مودی حکومت سے سوال کیے جا رہے ہیں جن پر اب تک باضابطہ طور پر وزارت خارجہ کی جانب سے کوئی جواب سامنے نہیں آیا ہے۔

اپوزیشن جماعت کانگریس نے بدھ کو بیجنگ کے اس دعوے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اس معاملے پر وضاحت دینی چاہیے۔

کانگریس کے رہنما جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’چین کی جانب سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان ثالثی کا دعوی پریشان کن صرف اس لیے نہیں ہے کہ یہ اب تک عوام کے سامنے رکھے جانے والے سرکاری موقف کی تردید ہے بلکہ اس لیے بھی کہ یہ ہماری قومی سلامتی کا مذاق اڑانے جیسا ہے۔‘

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسد الدین اویسی کی جانب سے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک طویل پوسٹ میں چینی وزیر خارجہ کے بیان کو حیران کن دعویٰ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’انڈین حکومت کو چاہیے کہ سرکاری طور پر اس کی تردید کرے اور یقین دہانی کروائے کہ کسی تیسرے فریق کی مداخلت قابل قبول نہیں ہے۔‘

اسد الدین اویسی نے کہا کہ ’ایک جانب چین پاکستان کو 81 فیصد ہتھیار فراہم کرتا ہے، آپریشن سندور کے دوران انٹیلیجنس فراہم کرتا ہے اور دوسری جانب ثالث بننے کا دعویٰ کرتا ہے، یہ ناقابل قبول ہے۔‘

چین کے وزیر خارجہ نے کیا کہا تھا؟

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے منگل کے روز دعویٰ کیا کہ چین نے اس سال جن ’ہاٹ سپاٹ‘ مسائل کی ثالثی کی، ان میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان تناؤ بھی شامل ہے۔

بیجنگ میں ’بین الاقوامی صورتحال اور چین کے خارجہ تعلقات‘ کے موضوع پر ایک سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ ’ہاٹ سپاٹ مسائل کو حل کرنے کے لیے چینی نقطہ نظر کے تحت ہم نے شمالی میانمار، ایران کے جوہری مسئلے، انڈیا پاکستان کشیدگی، فلسطین اسرائیل تنازع اور کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان حالیہ تنازع میں ثالثی کی۔‘

’میرے ملٹری سیکریٹری نے کہا سر جنگ شروع ہو گئی آپ بنکر میں چلیں‘: صدر زرداری کا بیان اور انڈیا میں ردعملمئی کی لڑائی میں ’پاکستان کی کامیابی‘ کا دعویٰ اور چین پر الزام: امریکی کمیشن کی رپورٹ جس کا چرچا انڈیا میں بھی ہو رہا ہےسلمان خان کی نئی فلم ’بیٹل آف گلوان‘ پر چین میں تنقید: ’یہ بس فلموں میں ہی دشمن کو مارتے ہیں‘وزیر اعظم مودی چین میں ’وکٹری ڈے پریڈ‘ کے سٹیج سے غائب کیوں تھے؟

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ ’اس سال، مقامی جنگیں اور سرحد پار تنازعات دوسری عالمی جنگ کے بعد کسی بھی وقت سے زیادہ بھڑک اٹھے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جغرافیائی سیاسی عدم استحکام مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ پائیدار امن قائم کرنے کے لیے، ہم نے منصفانہ اور متوازن انداز اپنایا اور مسائل کے ساتھ ساتھ ان کی بنیادی وجوہات کو بھی حل کیا۔‘

انڈیا کے لیے چینی بیان پریشان کن کیوں ہے؟

انڈین کالم نویس سوشانت سنگھ لکھتے ہیں کہ ’چینی وزیر خارجہ کی جانب سے ایک سرکاری بیان میں، جو پہلے سے تیار شدہ تھا، پاکستان اور انڈیا کے درمیان ثالثی کروانے کے دعوے سے بہت سے مقاصد پورے ہوتے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’یہ ایک طرف انڈیا اور پاکستان کو برابر بناتا ہے، جبکہ دوسری جانب چین کو جنوبی ایشیا کے تنازعات میں ثالث کے برتر کردار کی حیثیت میں دکھاتا ہے۔‘

سوشانت سنگھ کا کہنا تھا کہ ’چینی بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے کو بھی بڑھاوا دیتا ہے اور انڈیا کی خودمختاری پر سوالیہ نشان ہے۔‘

اسد الدین اویسی نے بھی کچھ ایسی ہی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’چین پاکستان اور انڈیا کو ایک سطح پر کھڑا کرنا چاہتا ہے اور خود کو جنوبی ایشیا کی بڑی طاقت کے طور پر دکھانا چاہتا ہے۔ کیا اسی بات پر اتفاق ہوا تھا جب وزیر اعظم نے چین کا دورہ کیا تھا؟‘

تاہم انڈیا میں ہر کوئی اسد الدین اویسی سے متفق بھی نہیں ہے۔ ایک صارف نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’ہمیں ایسے بے بنیاد دعووں پر جواب دینے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کل کو بنگلہ دیش نے بھی دعوی کر دیا کہ ہم نے ثالثی کروائی ہے تو کیا انڈیا کو آپ کے خیال میں اس کی بھی تردید جاری کرنا ہو گی؟ ہم ایسے دعووں کو سنجیدہ ہی نہیں لیتے۔‘

اویناش نے لکھا کہ ’وزیر اعظم مودی پہلے ہی پارلیمنٹ میں یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ کسی نے ثالثی نہیں کی ہے۔‘

انڈیا کا موقف

انڈیا نے ابھی تک وانگ یی کے ریمارکس پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا لیکن انڈیا کے کئی میڈیا اداروں نے نامعلوم سرکاری عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا مئی میں پاکستان کے فوجی تنازع کو ختم کرنے میں ثالثی کے چینی دعوے کو مسترد کرتا ہے۔

روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے نامعلوم عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’چین نے اس تنازع کے خاتمے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔‘

ہندوستان ٹائمز کے مطابق سرکاری عہدیداروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ مسائل میں کسی تیسرے فریق کی ثالثی کی کوئی گنجائش نہیں۔

انڈیا ٹوڈے نے ایک سرکاری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ہم پہلے ہی ایسے دعوے کی تردید کر چکے ہیں۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ مسائل پر، تیسرے فریق کا کوئی کردار نہیں۔‘

واضح رہے کہ انڈیا نے مسلسل اس بات پر زور دیا ہے کہ سات اور 10 مئی کے درمیان انڈیا اور پاکستان کے درمیان فوجی تنازع دونوں ممالک کی افواج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (DGMOs) کے درمیان براہ راست بات چیت کے ذریعے حل کیا گیا تھا۔

13 مئی کو ایک پریس بریفنگ میں انڈین وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ ’جہاں تک جنگ بندی اور اس میں دیگر ممالک کے کردار کا تعلق ہے اس میں جنگ بنندی کی تاریخ، وقت اور اصطلاحات کا فیصلہ دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان 10 مئی 2025 کو سہ پہر 3:35 پر ٹیلی فونک بات چیت میں کیا گیا تھا۔‘

یاد رہے کہ رواں سال 7 اور 10 مئی کے درمیان انڈیا اور پاکستان کے درمیان تنازع میں چین کے کردار پر کئی سوالات اٹھائے گئے تھے۔ سات مئی کو چین نے انڈیا اور پاکستان سے تحمل سے کام لینے کی اپیل کی تھی۔

مودی-شی ملاقات: کیا انڈیا کی چین سے بڑھتی قربت پر پاکستان کو پریشان ہونے کی ضرورت ہے؟سلمان خان کی نئی فلم ’بیٹل آف گلوان‘ پر چین میں تنقید: ’یہ بس فلموں میں ہی دشمن کو مارتے ہیں‘’میرے ملٹری سیکریٹری نے کہا سر جنگ شروع ہو گئی آپ بنکر میں چلیں‘: صدر زرداری کا بیان اور انڈیا میں ردعملمئی کی لڑائی میں ’پاکستان کی کامیابی‘ کا دعویٰ اور چین پر الزام: امریکی کمیشن کی رپورٹ جس کا چرچا انڈیا میں بھی ہو رہا ہےجوہری ہتھیاروں کی دوڑ، چین پاکستان دفاعی شراکت اور انڈین خدشات: پینٹاگون کی نئی رپورٹ میں کیا ہے؟وزیر اعظم مودی چین میں ’وکٹری ڈے پریڈ‘ کے سٹیج سے غائب کیوں تھے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More