BBC
ایران میں احتجاج یا مظاہرے کوئی نئی بات نہیں ہے، ماضی میں بھی مختلف مواقع پر شہری سڑکوں پر نکلتے رہے ہیں۔ لیکن موجودہ بدامنی کو ماہرین کئی عوامل کی وجہ سے ماضی کے مقابلے میں زیادہ سنگین قرار دے رہے ہیں۔
ایران میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے آج (سات جنوری) 12ویں روز میں داخل ہو چکے ہیں اور فی الحال اُن میں کمی کا بھی کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔ اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایرانی حکومت کو دھمکی دی ہے کہ اگر ایرانی عوام کے خلاف ’پرتشدد کارروائیوں‘ کا سلسلہ جاری رہا تو امریکہ مداخلت کرے گا۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ دھمکی وینزویلا میں ایک ڈرامائی فوجی کارروائی کے دوران صدر نکولس مادورو اور اُن کی اہلیہ کو تحویل میں لینے سے ایک روز پہلے دی گئی تھی۔
ایک امریکی صدر کی طرف سے ایران میں جاری احتجاج کے دوران دی جانے والی دھمکی کو ایران میں غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی پولیس اور سکیورٹی فورسز نے احتجاج کے آغاز سے ہی مظاہرین کے خلاف سخت رویہ اپنایا ہے۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے کا کہنا ہے کہ ’ایران میں گذشتہ دس روز کے دوران حکومت مخالف مظاہروں میں کم از کم 36 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔‘
’ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی‘ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 34 مظاہرین اور دو سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔ تاہم ایرانی حکام نے سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے کوئی اعدادوشمار جاری نہیں کیے ہیں۔
ادارے کے مطابق اس دورانیے میں 60 سے زائد مظاہرین زخمی جبکہ 2076 گرفتار کیے گئے ہیں جبکہ ایران میں 28 دسمبر کو شروع ہونے والا یہ احتجاج اب مُلک کے 31 میں سے 27 صوبوں میں پھیل چکا ہے۔
پرامن طریقے سے شروع ہونے والے احتجاج کی جڑیں ابتدائی طور پر مہنگائی اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی قدر میں تیزی سے کمی پر عوامی غصے سے جڑی تھیں۔ گذشتہ برس کے دوران ایران میں ڈالر کی قدر میں تقریباً 80 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ایران کی معیشت انتہائی نازک حالت میں ہے، جس میں ترقی کے کوئی واضح امکانات بھی نہیں ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں مہنگائی کی سالانہ شرح 42 فیصد کے لگ بھگ ہے اور اشیائے خورو نوش کی قیمتیں 70 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ بعض بنیادی اشیا کی قیمتوں میں 110 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔
بین الاقوامی پابندیوں نے ایران کی بگڑٹی ہوئی معاشی صورتحال میں اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن یہ واحد وجہ نہیں ہے۔
EPAایران میں مہنگائی کے خلاف نعرے دسویں روز میں داخل ہو چکے ہیں
ایرانی عدالتوں میں بڑے سرکاری افسران اور اُن کے اہلخانہ کے خلاف چلنے والے بدعنوانی کے مقدمات نے بھی عوامی غصے اور اِس یقین کو ہوا دی ہے کہ حکمران طبقے کے کچھ حصے برسوں سے جاری بحران سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔
بہت سے ایرانی شہریوں کا خیال ہے کہ بعض ایرانی حکام اور اُن کے رشتے دار ایران پر عائد امریکی اور بین الاقوامی پابندیوں سے براہ راست فائدہ اُٹھاتے ہیں، جس میں درآمدات اور برآمدات کا کنٹرول حاصل کرنا بھی شامل ہے۔
تیل کی آمدنی بیرون ملک منتقل کرنا، منی لانڈرنگ نیٹ ورکس سے منافع کمانا اور مختلف خصوصی مراعات حاصل کرنا بھی اس میں شامل ہے۔
یہاں تک کہ کچھ سرکاری اہلکار بھی ایسے ایرانی حکام کو ’پابندیوں کے سوداگر‘ قرار دے رہے ہیں۔ کچھ ماہرین بین الاقوامی پابندیاں سے زیادہ اِن ایرانی شخصیات کو ہی ایران کی صورتحال کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔
احتجاج کی اس حالیہ لہر کا آغاز سب سے پہلے تہران کے بازاروں سے ہوا۔ دکانداروں نے کرنسی میں روزانہ کے اُتار چڑھاؤ کے ردِعمل میں اپنی دکانیں بند کر دیں اور سڑکوں پر نکل آئے۔
احتجاج تیزی سے بازار سے نکل کر معاشرے کے دیگر طبقات تک پھیل گیا۔ اِس وقت اقتصادی نعروں نے جلد ہی سیاسی رُخ اختیار کر لیا اور مظاہرین نے حکومت کو ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
بعدازاں طلبہ بھی اس احتجاج میں شامل ہو گئے اور دیگر جگہوں پر بھی چھوٹے کاروبار اور اگلے دنوں میں دیگر شہروں میں بھی رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف بھی نعرے لگنے لگے۔
BBC
چار سال پہلے مہسا امینی کی پولیس تحویل میں ہلاکت نے اسلامی جمہوریہ کے قیام کے بعد سب سے زیادہ وسیع پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں کی بنیاد رکھی تھی۔
یہ مظاہرے بعد میں ’مہسا تحریک‘ یا ’عورت، زندگی، آزادی‘ کے نام سے مشہور ہوئے تھے۔ اور اس صورتحال نے ایرانی ریاست کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ لیکن آخر کار اُنھیں طاقت اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے ذریعے دبا دیا گیا۔
اگر حالیہ دنوں میں مظاہرے تیزی سے پھیلے ہیں اور گذشتہ کئی روز سے جاری ہیں۔ لیکن ابھی بھی وہ سنہ 2022 کے مظاہروں کی سطح تک نہیں پہنچے۔
ایران، گرین لینڈ یا کیوبا: وینزویلا کے بعد صدر ٹرمپ کا اگلا نشانہ کون سا ملک بن سکتا ہے؟شیعہ مراجع کون ہیں اور ان کی اہمیت کیا ہے
ایران میں صحافیوں پر شدید دباؤ ہے اور آزاد بین الاقوامی خبر رساں اداروں کو یا تو ملک کے اندر سے رپورٹنگ کرنے کی اجازت نہیں ہے اور اگر اجازت ہے تو بھی اُن کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔
لہذا جو خبریں سامنے آ بھی رہی ہیں، اس کا زیادہ تر حصہ سوشل میڈیا سے آتا ہے اور سڑکوں پر موجود لوگ جو ویڈیوز یا تصاویر بناتے ہیں، اسے شیئر کرتے ہیں۔
لیکن ان ویڈیوز یا تصاویر کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ سوشل میڈیا من گھڑت اور بے بنیاد دعوؤں کے لیے ایک زرخیز پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے بعد حقائق تک رسائی کے چیلنجز مزید بڑھ گئے ہیں۔
اس صورتحال میں بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ اس احتجاج کے سنہ 2022 (مہسہ امینی کی ہلاکت کے بعد کا احتجاج) سے زیادہ سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی حکومت حالیہ کئی دہائیوں کے اپنے سب سے نازک دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف اسے مقامی سطح پر دباؤ کا سامنا ہے اور دوسری جانب خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال بھی اس دباؤ میں اضافے کی وجہ بن رہی ہے۔
گذشتہ برس امریکہ اور اسرائیل کے حملوں نے ایران کی دفاعی صلاحیت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے جبکہ اس کے جوہری، صنعتی اور ملٹری ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
اسی اثنا میں سرحدوں پر بھی صورتحال ایران کے لیے موافق نہیں ہے۔ شام میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد تہران نے خطے میں اپنا اہم اتحادی کھو دیا ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی کارروائیوں نے تنظیم کی سینیئر قیادت کو ختم کر دیا ہے۔
Getty Images
چند روز قبل وینزویلا میں امریکی کارروائی اور نکولس مدورو کو تحویل میں لینے کی کارروائی نے ایران کے پاس عالمی سطح پر موجود آپشنز کو بھی محدود کر دیا ہے۔
اس پیش رفت نے تہران کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی منظرنامے کو نئی شکل دی ہے۔ ایران کے پاس اب علاقائی تنازعات میں انحصار کرنے کے لیے کم اتحادی ہیں اور تیل کی آمدنی بیرون ملک منتقل کرنے کے لیے بھی بہت س چیلنجز ہیں۔
ان عوامل نے اس دوران بڑھتے ہوئے اندرونی دباؤ کی وجہ سے ایران کو اقتصادی طور پر مزید کمزور کیا ہے۔
ان حالات میں ایران کے رہبر اعلی خامنہ ای شاید اپنے دور اقتدار کے سب سے غیر یقینی وقت سے گزر رہے ہیں۔
30 سال تک خطے میں انتہائی احتیاط کے ساتھ بنائے گئے اتحادیوں سے محرومی اور پابندیوںسے بچنے کے لیے طریقہ کار کا اثر زائل ہونے اور جوہری تنصیبات کی تباہی نے ایران کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔
ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی اور نتن یاہو کی اسرائیل میں حکومت کے دوران ایران کے پاس کوئی بھاری قیمت چکائے بغیر اس بحران سے نکلنے کا بظاہر کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔
کئی برسوں تک خامنہ ای اور ان کے قریبی حلقے علاقائی اتحادیوں اور جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے اخراجات کو قومی سلامتی کا اہم جزور قرار دیتے رہے ہیں۔ لیکن اب بظاہر یہ بیانیہ کمزور پڑ چکا ہے۔
ملک کے اندر اور باہر سے بڑھتا ہوا دباؤ اور ملک کی داخلی سکیورٹی کو بعض مبصرین انھی پالیسیوں کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔
ایران، گرین لینڈ یا کیوبا: وینزویلا کے بعد صدر ٹرمپ کا اگلا نشانہ کون سا ملک بن سکتا ہے؟شیعہ مراجع کون ہیں اور ان کی اہمیت کیا ہےزیر زمین خفیہ عمارتوں، جوہری جزیرے اور یورینیم کانوں پر مشتمل ایران کی ایٹمی صلاحیت اور تنصیبات کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟کیا ایران چند ماہ میں ایٹمی طاقت بننے والا تھا؟اسرائیل اور ایران میں سے عسکری اعتبار سے زیادہ طاقتور کون ہے؟ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے سے کیا خطرات جنم لے سکتے ہیں؟