’میں لڑکی بن کر امریکی مردوں سے دوستی کرتا تھا‘: پنجاب کے نوجوان جنھیں ’ہنی ٹریپ‘ کے لیے استعمال کیا گیا

بی بی سی اردو  |  Jan 07, 2026

BBCجگدیپ ورما نے میانمار میں جرائم پیشہ افراد کے لیے ’غلام‘ کے طور پر کام کرنے کا اپنا تجربہ شیئر کیا

’ہمارا کام لڑکی بن کر 45 سال سے زیادہ عمر کے امریکی مردوں سے دوستی کرنا تھا۔ جب ہم دوست بن جاتے تو ہمارے موبائل فون ہم سے چھین لیے جاتے۔‘

انڈیا میں پنجاب کے کپورتھلا ضلع کے رہنے والے 37 سالہ جگدیپ ورما نے تقریباً 13 ماہ تک میانمار میں جرائم پیشہ افراد کے لیے ’غلام‘ کے طور پر کام کرنے کا اپنا تجربہ شیئر کیا۔

جگدیپ ورما کے مطابق انھیں ’آن لائن ہنی ٹریپس‘ کے ذریعے امریکی مردوں کو پھنسانے کے کام پر مجبور کیا گیا۔

انڈین پنجاب پولیس کے سائبر کرائم سیل کے مطابق جگدیپ ان 36 پنجابیوں میں شامل ہیں جنھیں میانمار اور تھائی لینڈ کی سرحد کے قریب ’سائبر غلام‘ بنا کر رکھا گیا تھا۔

پنجاب پولیس کے سائبر کرائم سیل کے مطابق ان متاثرین کو اچھی تنخواہ والی نوکری کا جھانسہ دے کر تھائی لینڈ لے جایا گیا۔

یہ ملازمتیں کال سینٹرز، ہوٹل انڈسٹری یا کمپیوٹر سے متعلق دیگر کاروباروں سے متعلق تھیں۔ بعد میں ان افراد کو قید کر دیا گیا اور مجبور کیا گیا کہ وہ منظم سائبر کرائم گینگز کے لیے لوگوں کو آن لائن دھوکہ دیں۔

انڈین پنجاب کے علاوہ ملک کی دیگر ریاستوں کے نوجوان بھی میانمار سے چلائے جانے والے اس نیٹ ورک کے جال میں پھنس چکے ہیں۔

اگست 2023 میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ میانمار میں کم از کم ایک لاکھ 20 ہزار اور کمبوڈیا میں تقریباً ایک لاکھ افراد سائبر فراڈ سکیموں کو چلانے پر مجبور ہوئے۔

’امریکی مردوں سے دوستی کے بعد کرپٹو کرنسی کے ذریعے فراڈ کیا جاتا‘

جگدیپ ورما کا کہنا ہے کہ جس علاقے میں ان لوگوں کو ’غلام‘ بنا کر رکھا گیا وہ کئی عمارتوں کا کمپلیکس تھا۔

ورما کہتے ہیں کہ ’یہ علاقہ کئی کلومیٹر پر پھیلا ہوا تھا۔ یہ اپنے آپ میں ایک شہر لگتا تھا۔ اس علاقے میں داخل ہونے کے لیے صرف ایک دروازہ تھا۔ یہاں مسلح افراد حفاظت پر مامور تھے اور کسی کو باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’ان تمام عمارتوں میں مختلف کمپنیاں لوگوں کو غلام بنا کر انھیں آن لائن فراڈ کرنے پر مجبور کرتی تھیں۔‘

جگدیپ ورما اور کئی دوسرے متاثرین نے میانمار اور تھائی لینڈ کی سرحد پر بدنام زمانہ ’کے کے پارک‘ نامی علاقے میں کام کیا۔ یہ علاقہ آن لائن فراڈ، منی لانڈرنگ اور انسانی سمگلنگ کے لیے بدنام ہے۔

جگدیپ کا کہنا ہے کہ اس کمپاؤنڈ میں کئی کمپنیاں سرگرم تھیں اور ہر کمپنی کے پاس دھوکہ دہی کے مختلف طریقے تھے لیکن جہاں انھیں یرغمال بنا کر رکھا گیا، وہاں 45 سال سے زیادہ عمر کے مردوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جب دوستی ہو جاتی تو ہمارے موبائل فون چھین لیے گئے۔ فون چھیننے کے بعد ان گینگز کے افراد خود متاثرین کے ساتھ رقم کا لین دین کرتے تھے۔ امریکی مردوں سے دوستی کے بعد کرپٹو کرنسی کے ذریعے فراڈ کیا جاتا تھا۔‘

ورما مزید کہتے ہیں کہ ’کبھی کبھی امریکی مرد ہمیں ویڈیو کال کرنے کے لیے بھی کہتے تھے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’جب امریکی شہری ویڈیو کال کرنے کے لیے کہتے تھے تو جرائم پیشہ افراد انھیں ایشیائی لڑکیوں سے بات کرنے کے لیے لے جاتے تھے۔ وہ ویڈیو کال کے لیے مختلف اے آئی سافٹ ویئر استعمال کرتے تھے۔ اس سافٹ ویئر کی مدد سے ویڈیو کال کے دوران لڑکیوں کے چہرے بھی بدل جاتے تھے۔‘

’ہم نے امریکی شہریوں کے ساتھ بات چیت کے لیے ترجمہ کرنے والے سافٹ ویئر کا استعمال بھی کیا۔‘

BBC35 سے 80 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ

انڈین پنجاب کے ضلع مانسا سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان بلوندر سنگھ (نام تبدیل کیا گیا) نے بتایا کہ وہ تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک انڈین شخص سے انسٹاگرام کے ذریعے رابطے میں آئے۔

بلوندر سنگھ کا کہنا ہے کہ ایک بار جب کوئی شخص پھنس جاتا تو دھوکے باز گینگ کے سینیئر لوگ خود اس سے سودا کرتے۔

میانمار سے واپس آنے والے جالندھر کے ایک نوجوان نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سائبر فراڈ کا ہدف پورا کرنے کے لیے نوجوانوں کو 35 سے 80 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی۔

’ہدف پورا نہ کرنے پر مارا پیٹا گیا اور بجلی کے جھٹکے دیے گئے‘

میانمار سے واپس آنے والے لوگوں کا کہنا تھا کہ ہدف پورا نہ کرنے پر انھیں ذہنی اور جسمانی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا۔

جگدیپ ورما کہتے ہیں کہ ’امید نہیں تھی کہ میں وہاں سے زندہ نکل سکوں گا۔ میں تب ہی نکل سکا جب فوج نے وہاں چھاپہ مارا، ورنہ واپسی کی کوئی امید نہیں تھی۔ خدا کسی دشمن کو بھی ایسی جگہ نہ پھنسائے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور 15 گھنٹے تک سیدھے کھڑا کیا گیا۔‘

مانسا کے بلوندر سنگھ کا کہنا ہے کہ ہدف پورا نہ کرنے پر انھیں مارا پیٹا گیا اور بجلی کے جھٹکے بھی دیے گئے۔

بلوندر نے کہا کہ ’اگر آپ مار پیٹ سے بچنا چاہتے ہیں تو آپ کو جرمانے کے طور پر ایک ہزار کیات (میانمار کی کرنسی) ادا کرنے پڑتے، جو میں نے کئی بار ادا کیے اور میری زیادہ تر تنخواہ جرمانے میں جاتی تھی۔‘

بلوندر کے مطابق ایک دن جب انھوں نے کام چھوڑنے کی بات کی تو ان سے 4500 امریکی ڈالر کا مطالبہ کیا گیا۔

خاتون ساتھی کی مدد سے عام شہریوں کو ’ہنی ٹریپ‘ کرنے کا الزام: اسلام آباد پولیس نے ڈولفن سکواڈ کے دو اہلکاروں کو ’رنگے ہاتھوں‘ کیسے گرفتار کیا؟آن لائن فراڈ: ایمازون کا گفٹ واؤچر جو انڈین خاتون کو 51 لاکھ روپے سے محروم کر گیاقطر میں ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے ’ہنی ٹریپ‘: وہ شخص جسے قید کاٹنے کے بعد برطانیہ واپسی کی اجازت ملیآن لائن فراڈ میں ڈیڑھ کروڑ روپے گنوانے والی خاتون: ’میں ہر وقت خوف میں رہتی ہوں، ان کے پاس میری تمام تفصیلات ہیں‘متاثرہ افراد پنجاب سے میانمار کیسے پہنچے؟

ان لوگوں کے مطابق انھیں براہ راست میانمار نہیں لے جایا گیا۔ اس کے بجائے وہ بنکاک سے پہاڑی اور جنگلی راستوں سے گاڑیوں کے ذریعے وہاں پہنچے۔

آخر کار انھیں تھائی لینڈ اور میانمار کی سرحد کے قریب ایک دریا میں اتار دیا گیا، جہاں سے وہ ان گینگز کے پاس پہنچ گئے۔

جگدیپ کا کہنا ہے کہ دوسرے نوجوانوں کی طرح وہ بھی تھائی لینڈ میں آن لائن نوکری کا اشتہار دیکھ کر ٹریول ایجنٹس اور جرائم پیشہ افراد کا شکار بنے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میرے رشتہ دار کے واٹس ایپ سٹیٹس پر تھائی لینڈ میں نوکری کا اشتہار تھا، سٹیٹس دیکھنے کے بعد میں نے اس سے رابطہ کیا، اس نے مجھے تھائی لینڈ بھیجنے کا خرچہ 50 ہزار بتایا۔ اس نے کہا کہ میں کال سینٹر میں کام کروں گا اور میری تنخواہ 1500 امریکی ڈالر ہوگی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے پہلے امرتسر سے ملائیشیا اور پھر ملائیشیا سے بنکاک کی فلائٹ میں بُک کیا گیا۔ ایک دن مجھے بنکاک کے ایک ہوٹل میں رکھا گیا اور اگلے دن مجھے سرحد پار تھائی لینڈ لے جایا گیا۔‘

ورما کے مطابق ’مجھے اس بات کا علم نہیں تھا کہ میں سرحد پار کر رہا ہوں۔ مجھے پوری کہانی کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کے بعد سمجھ میں آئی، جب مجھے امریکی نمبر دے کر امریکی مردوں سے دوستی کرنے کو کہا گیا۔ پہلے مجھے اپنی ٹائپنگ رفتار بڑھانے کے لیے دو دن کی تربیت دی گئی۔‘

جگدیپ کو ہر ماہ 15 ہزار بھات (تھائی لینڈ کی کرنسی) تنخواہ دی جاتی تھی۔

لیکن اس فراڈ کے لیے صرف مردوں کو ہی نہیں بلکہ خواتین کو بھی پھنسایا گیا۔

پنجاب کے ضلع ترن تارن سے تعلق رکھنے والی ریکھا رانی (نام تبدیل کیا گیا) نے بتایا کہ میانمار سے کام کرنے والے اس گینگ کے ساتھ ان کا رابطہ ایک لڑکی کے ذریعے ہوا۔

اس لڑکی نے ریکھا کو تھائی لینڈ میں ڈیٹا انٹری آپریٹر کی نوکری اور اچھی تنخواہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ وہ گزشتہ سال جولائی میں تھائی لینڈ گئیں تھی جب انھیں ٹکٹ بھیجا گیا۔

ریکھا رانی کہتی ہیں کہ میانمار کے ایک کمپلیکس میں پہنچنے کے بعد انھیں معلوم ہوا کہ ان کا کام ڈیٹا انٹری نہیں بلکہ سائبر فراڈ ہے۔

ریکھا کے مطابق ان کی ’علیشا‘ کے نام سے ایک ای میل آئی ڈی بنائی گئی اور انھیں امریکہ میں پراپرٹی میں کام کرنے والے لوگوں سے رابطہ کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ اس کام کے عوض انھیں 35000 روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی تھی۔

BBCجگدیپ ورما کا کہنا ہے کہ جس علاقے میں ان کو ’غلام‘ بنا کر رکھا گیا وہ کئی عمارتوں کا کمپلیکس تھا’ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تاہم تحقیقات جاری ہیں‘

پنجاب سائبر کرائم سیل میں تعینات ایس پی منوج گورسی نے بتایا کہ اگرچہ ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تاہم ان کا محکمہ اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔

’ہم نے تمام متاثرین کے بیانات قلمبند کر لیے ہیں اور تفتیش کر رہے ہیں۔ جرائم پیشہ افراد نے متاثرین کو پھنسانے کے لیے کوئی ایک طریقہ استعمال نہیں کیا۔ متاثرین کو پھنسانے کے لیے انھوں نے پہلے سے کام کرنے والے افراد کی مدد بھی لی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ٹریول ایجنٹ متاثرین کو پھنسانے کے لیے ان جرائم پیشہ افراد کی مدد کرتے تھے۔ ہمیں تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ایک کیس میں ٹریول ایجنٹ کے ساتھ چندی گڑھ میں رقم کا لین دین ہوا تھا اور ہم اس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔‘

دوسری جانب انڈین حکومت نے حال ہی میں پارلیمنٹ کو مطلع کیا کہ وہ جعلی بھرتیوں اور ملازمتوں میں ملوث مشتبہ کمپنیوں کے کیسز کا نوٹس لیا ہے، جو شہریوں کو لالچ دے کر انھیں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک لے جا رہی ہیں۔

11 دسمبر کو راجیہ سبھا میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزارت خارجہ میں ریاستی وزیر کیرتی وردھن سنگھ نے کہا کہ ’یہ حکومت کے نوٹس میں آیا ہے کہ میانمار، کمبوڈیا اور لاؤس میں کام کرنے والے فراڈ کے مراکز نے جعلی ملازمت کی پیشکش کے ذریعے انڈین شہریوں کو سائبر کرائم اور دیگر سرگرمیوں کے لیے مجبور کیا۔‘

وزارت خارجہ کے مطابق میانمار، کمبوڈیا اور لاؤس سے اب تک 6700 سے زیادہ انڈین شہریوں کو بچایا جا چکا ہے۔

میانمار میں کارروائی

کمبوڈیا میں انڈین سفارت خانے نے ملازمت کے مواقع پیش کرنے والے مجرموں سے ہوشیار رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

ادھر میانمار کی حکومت کے 2 جنوری کے ایک بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز، انتظامی اداروں اور مقامی حکام کی ایک مشترکہ ٹیم نے شوے کوک اور کے کے پارک کے علاقوں میں ان غیر قانونی عمارتوں پر چھاپے مارے ہیں جہاں ٹیلی کام فراڈ اور آن لائن جوئے کی سرگرمیاں چل رہی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ’مشترکہ ٹیم نے مزید 11 غیر قانونی عمارتوں کو مسمار کیا۔‘

مزید کہا گیا کہ ’کے کے پارک میں 635 غیر قانونی عمارتوں میں سے کل 549 عمارتیں مسمار کی گئی ہیں۔‘

ہنی ٹریپ: وہ ’دلفریب‘ جال جس میں پھنس کر لوگ خود کچے کے ڈاکوؤں تک پہنچ جاتے ہیں ہنی ٹریپ میں پھنس کر 49 لاکھ روپے گنوانے والا نوجوان جس سے پہلی بار خاتون نے صرف 350 روپے مانگےخاتون ساتھی کی مدد سے عام شہریوں کو ’ہنی ٹریپ‘ کرنے کا الزام: اسلام آباد پولیس نے ڈولفن سکواڈ کے دو اہلکاروں کو ’رنگے ہاتھوں‘ کیسے گرفتار کیا؟قطر میں ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے ’ہنی ٹریپ‘: وہ شخص جسے قید کاٹنے کے بعد برطانیہ واپسی کی اجازت ملیآن لائن فراڈ: ایمازون کا گفٹ واؤچر جو انڈین خاتون کو 51 لاکھ روپے سے محروم کر گیاآن لائن فراڈ میں ڈیڑھ کروڑ روپے گنوانے والی خاتون: ’میں ہر وقت خوف میں رہتی ہوں، ان کے پاس میری تمام تفصیلات ہیں‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More