پی ایس ایل کی دو نئی فرنچائزز کی نیلامی: بولی لگانے میں کون کون حصہ لے رہا ہے اور اس بار کیا مختلف ہے؟

بی بی سی اردو  |  Jan 07, 2026

Getty Images

اسلام آباد میں آٹھ جنوری کو پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی دو نئی فرنچائزز کے حصول کے لیے نیلامی میں مقامی اور غیر ملکی کمپنیوں سمیت مجموعی طور پر 10 خواہشمند فریقین کے بیچ مقابلہ ہو گا۔ مگر اس مرتبہ فرنچائز کی فروخت کا عمل ماضی سے مختلف ہو گا۔

پہلے استعمال ہونے والے سیلڈ بڈ طریقہ کار کے بجائے، پی سی بی نے اوپن آکشن کا فیصلہ کیا ہے جس کے باعث بولی کی قیمت میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دستاویزات کے مطابق نیلامی کے اس عمل کا آغاز ریزرو پرائس کے اعلان سے ہوگا جبکہ فریقین کی طرف سے ریئل ٹائم میں بولیاں لگائی جائیں گی۔

بولی جیتنے والے فریق کو نئی فرنچائز ملے گی اور وہ ٹیم کے لیے چھ شہروں فیصل آباد، راولپنڈی، حیدرآباد، سیالکوٹ، مظفرآباد اور گلگت میں سے کسی ایک کا انتخاب کر سکیں گے۔ اگر کوئی کامیاب بولی دہندہ اس فہرست سے ہٹ کر کسی شہر کا نام تجویز کرتا ہے تو اس کے لیے بھی ایک طریقہ کار موجود ہے۔

پی سی بی ایک مرتبہ کی فیس کے طور پر 10 لاکھ امریکی ڈالر لے گا جس کے بعد وہ اس پر غور کر سکتا ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ بورڈ کا ہی ہو گا۔

پی ایس ایل فرنچائز کے حصول کا یہ موقع آٹھ برس کے وقفے کے بعد سامنے آیا ہے جبکہ لیگ 2016 میں اپنے پہلے سیزن کے بعد اب ایک دہائی مکمل کر چکی ہے۔

پی سی بی، جو موجودہ معاہدوں کے تحت پی ایس ایل کا واحد ریگولیٹری ادارہ ہے، پہلے ہی 2026 سے لیگ میں دو نئی ٹیمیں شامل کرنے کا منصوبہ رکھتا تھا، جس کے تحت ٹیموں کی تعداد چھ سے بڑھا کر آٹھ کی ہو جائے گی۔

اس سے قبل آخری فرنچائز 2018 میں فروخت کی گئی تھی، جب ملتان سلطانز نیلام ہوئی تھی۔ پی ایس ایل کا آغاز ابتدا میں پانچ ٹیموں کے ساتھ ہوا تھا، اور اس وقت میچز متحدہ عرب امارات میں کھیلے جاتے تھے۔

پی ایس ایل کی نئی ٹیم کے مالک بننے کے خواہشمند 10 بولی دہندہ کون ہیں؟

نیلامی میں شامل فریقین کا تعلق مختلف کاروباری شعبوں سے ہے جن میں ٹیلی کام، انرجی، فِن ٹیک، ریئل اسٹیٹ اور ٹیکنالوجی شامل ہیں۔

جاز

پاکستان کی بڑی ڈیجیٹل ٹیلی کام کمپنی جاز اس نیلامی میں ایک نمایاں نام ہے۔ یہ پی ایس ایل فرنچائز حاصل کرنے کی جاز کی دوسری کوشش ہے۔

اس سے قبل 2015 میں پی ایس ایل کے آغاز پر اس وقت موبی لنک کے نام سےکمپنی بولی میں شریک تھی تاہم کامیابی حاصل نہ کر سکی۔

بعد ازاں جاز نے لاہور قلندرز کے ساتھ تین سالہ ٹائٹل سپانسرشپ معاہدہ کیا اور تب سے کرکٹ کے ذریعے اپنی برانڈ مارکیٹنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔

علی ترین

ملتان سلطانز سے علیحدگی کے بعد علی ترین ایک بار پھر پی ایس ایل میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ وہ نئی فرنچائز کے لیے اپنی کمپنی ڈہرکی شوگر ملز کے ذریعے بولی لگا رہے ہیں جو سندھ کے ضلع گھوٹکی میں واقع ہے۔علی ترین ایک بڑے صنعتی گروپ سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ ان کے والد جہانگیر ترین کا شمار ملک کے سیاسی و کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ علی ترین نے اپنی سابقہ فرنچائز ملتان سلطانز کو برقرار رکھنے سے انکار کیا تھا، جس کی سالانہ قیمت ایک ارب 37 کروڑ 50 لاکھ روپے تھی۔

انویریکس

توانائی کے شعبے میں سرگرم انویریکس پاکستان کرکٹ اور پی ایس ایل سے پہلے ہی منسلک رہی ہے۔ کمپنی نے شمسی توانائی اور کلین موبیلیٹی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ پی ایس ایل کے دوران 'ہمارے ہیرو' سیگمنٹ کے ذریعے کھیل اور دیگر شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو اجاگر کرنا ان کی شناخت بن چکا ہے۔

علی ترین اور ’ملتان سلطانز‘ کو چلانے کا خرچہ: پی ایس ایل کی فرنچائزز پیسہ کیسے کماتی ہیں؟آئی پی ایل کی نیلامی میں کرکٹرز کے لیے کروڑوں روپے کی بولیاں: ’اب پی ایس ایل کو بھی کچھ نیا کرنا ہوگا‘’خوف زدہ کر دینے کی حد تک‘ تیز بولر جنھیں شعیب اختر جیسی شہرت نہ مل سکی42 گیندوں پر سنچری اور 16 اوورز میں میچ ختم: ’سمیر منہاس نایاب ٹیلنٹ ہے‘

ویگو ٹیل

ملکی موبائل ٹیکنالوجی برانڈ ویگو ٹیل بھی پی ایس ایل اور پاکستان کرکٹ کی سپانسرشپ کے ذریعے براہِ راست سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں میں شامل ہے۔

والی ٹیک

مارکیٹنگ ٹیکنالوجی اور فِن ٹیک کے شعبے سے وابستہ والی ٹیک کرکٹ کے ڈیجیٹل حقوق میں دلچسپی رکھتی رہی ہے۔ کمپنی نے 2014 میں پی ایس ایل کے ڈیجیٹل لائیو سٹریمنگ رائٹس دو برس کے لیے 1 ارب 87 کروڑ 50 لاکھ روپے میں حاصل کیے تھے۔

پرزم اسٹیٹس اینڈ بلڈرز

یہ ریئل اسٹیٹ ڈویلپر ایک کنسورشیم کے تحت نیلامی میں شریک ہے، جس میں کرپٹو کرنسی ایکسچینج کمپنی XchangeOn بھی شامل ہے، جو گزشتہ سیزن میں پی ایس ایل کی سپانسر رہ چکی ہے۔

او زیڈ آئی گروپ

آسٹریلیا میں قائم او زیڈ آئی گروپ پہلی بار کرکٹ کے میدان میں قدم رکھ رہا ہے۔ گروپ کے سربراہ کے مطابق وہ دو برس قبل اپنے کاروبار اور خاندان کے ساتھ پاکستان منتقل ہوئے تھے۔ 'او زیڈ' کا نام آسٹریلوی معاشرتی اصطلاح سے ماخوذ ہے۔

آئی ٹو سی

ڈیجیٹل بینکنگ، ادائیگیوں اور کارڈ سلوشنز میں کام کرنے والی عالمی فِن ٹیک کمپنی آئی ٹو سی بھی نیلامی میں شامل نمایاں غیر ملکی اداروں میں سے ایک ہے۔

کنگز مین گروپ

یہ ایک متنوع سرمایہ کاری گروپ ہے جو شمالی امریکا میں کرکٹ کی مختلف پراپرٹیز کا مالک ہے۔ گروپ کے پاس ڈی ایف ڈبلیو کنگز مین اور کنگز مین ایکس جیسی ٹیمیں شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق اگر یہ گروپ کامیاب ہوا تو حیدرآباد کے نام سے ٹیم لینے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

ایم نیکسٹ انکارپوریٹڈ

شمالی امریکہ سے تعلق رکھنے والی یہ ٹیکنالوجی اور انوویشن کمپنی بھی پی ایس ایل فرنچائز کی دوڑ میں شامل ہے۔

Getty Imagesنیلامی دو مرحلوں پر مشتمل ہو گی اور بولی ریئل ٹائم میں لگائی جائے گیپی ایس ایل فرنچائز کی نیلامی کیسے ہو گی اور بولی دہندہ کو کیا کرنا ہوگا؟

پاکستان سپر لیگ کی نئی فرنچائزز کے لیے نیلامی کا آغاز ریزرو پرائس سے ہو گا، جس کا اعلان نیلامی سے قبل کیا جائے گا۔ نیلامی دو مرحلوں پر مشتمل ہو گی اور بولی ریئل ٹائم میں لگائی جائے گی۔

سب سے زیادہ بولی دینے والا فریق نہ صرف فرنچائز حاصل کرے گا بلکہ اسے دستیاب شہروں میں سے پہلے انتخاب کا حق بھی حاصل ہو گا۔ بولی جیتنے والی فرنچائز کو 10 برس کے لیے حقوق دیے جائیں گے، جو 2035 تک جاری رہیں گے، جبکہ بعد میں فرسٹ رائٹ آف ریفیوزل (یعنی ترجیحی تجدید کا حق) بھی حاصل ہو گا۔

ابتدائی تین برسوں کے دوران فرنچائز مالکان ٹیم سے متعلق کسی بھی حق کو فروخت، منتقل یا کسی اور کو تفویض نہیں کر سکیں گے۔بولی دستاویز کے مطابق پی سی بی نے ہر نئی فرنچائز کو آئندہ پانچ سیزنز کے لیے کم از کم 85 کروڑ روپے فی سیزن آمدن کی ضمانت دی ہے۔

اس مرتبہ فرنچائز کی فروخت کا عمل ماضی سے مختلف ہو گا۔ پہلے استعمال ہونے والے سیلڈ بڈ طریقہ کار کے بجائے، پی سی بی نے اوپن آکشن کا فیصلہ کیا ہے، جس کے باعث بولی کی قیمت میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سیلڈ بڈ طریقہ کار میں ہر فریق اپنی بولی خفیہ طور پر جمع کرواتا ہے اور کسی کو دوسرے کی پیش کردہ رقم کا علم نہیں ہوتا۔ مقررہ وقت پر بولیاں کھولی جاتی ہیں اور سب سے زیادہ بولی دینے والے کو فرنچائز دے دی جاتی ہے۔

نیلامی میں شرکت کے لیے دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں اور افراد کو ایک سخت جانچ پڑتال کے مرحلے سے گزرنا پڑا، جس میں ان کی مالی حیثیت، ساکھ، کاروباری شفافیت، انتظامی صلاحیت اور طویل مدتی استحکام کا جائزہ لیا گیا۔

بولی میں شامل ہونے کے لیے دلچسپی رکھنے والے فریقین کو 20 ہزار امریکی ڈالر (تقریباً 56 لاکھ 40 ہزار روپے) بطور ناقابلِ واپسی بولی فیس جمع کروانا پڑی۔

اس کے علاوہ ہر بولی دہندہ کو 2 لاکھ امریکی ڈالر (تقریباً 5 کروڑ 64 لاکھ روپے) بطور سکیورٹی رقم بھی جمع کروانا لازم تھا۔

ناکام بولی دہندگان کو یہ سکیورٹی رقم بغیر سود واپس کر دی جائے گی، جبکہ کامیاب بولی کی صورت میں یہ رقم ابتدائی فرنچائز ادائیگی میں ایڈجسٹ ہو جائے گی۔

تاہم اگر کوئی کامیاب بولی دہندہ تین دن کے اندر فرنچائز معاہدے پر دستخط نہیں کرتا تواور مقررہ ادائیگیاں نہیں کر پایایا پی سی بی کی جانب سے طلب کردہ ضمانتیں فراہم کرنے میں ناکام رہے تو اس کی سکیورٹی رقم ضبط کر لی جائے گی۔

پی ایس ایل فرنچائزز پیسہ کیسے کماتی ہیں؟

پاکستان سپر لیگ کی فرنچائزز کی آمدن کا بڑا حصہ پی سی بی کے سینٹرل ریونیو پول سے آتا ہے۔ اس میں میڈیا رائٹس شامل ہیں، جہاں ٹی وی اور ڈیجیٹل آمدن کا 95 فیصد تمام ٹیموں میں برابر تقسیم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح پی سی بی کی جانب سے ٹائٹل سپانسرشپ اور گراؤنڈ سپانسرشپ سے حاصل ہونے والی آمدن کا بھی 95 فیصد فرنچائزز کو ملتا ہے۔

ٹکٹوں کی فروخت، جن میں کارپوریٹ باکسز، ہاسپیٹیلٹی اور عام ٹکٹ شامل ہیں، آمدن کا ایک اور ذریعہ ہے، تاہم اس پر مفت ٹکٹوں کی وجہ سے اثر پڑتا ہے۔ ٹکٹوں سے حاصل ہونے والی آمدن بھی 95 فیصد تمام ٹیموں میں برابر تقسیم کی جاتی ہے، چاہے کسی ٹیم کے میچ میں شائقین کی تعداد زیادہ ہو یا کم۔ اس کے علاوہ فرنچائزز اپنی الگ کمرشل ڈیلز کے ذریعے بھی پیسہ کماتی ہیں، جیسے ٹیم کی جرسی، ہیلمٹ اور ٹراؤزرز پر سپانسرشپ لوگوز اور ڈیجیٹل اشتہارات، جو ہر ٹیم کی الگ آمدن ہوتی ہے۔

پی سی بی نے آٹھ سال بعد دو نئی ٹیمیں کیوں شامل کیں؟

پی سی بی کے مطابق آٹھ سال تک پی ایس ایل میں نئی ٹیمیں شامل نہ کرنے کی بنیادی وجہ معاہداتی اور مالی معاملات تھے۔ پی ایس ایل کے مشترکہ مالی ماڈل کے تحت لیگ کی مجموعی آمدن کا 95 فیصد موجودہ چھ فرنچائزز میں تقسیم ہوتا ہے، جبکہ صرف پانچ فیصد پی سی بی کو ملتا ہے۔

میڈیا اور کمرشل معاہدے پہلے سے طے شدہ ہونے کی وجہ سے اگر پہلے نئی ٹیمیں شامل کی جاتیں تو موجودہ فرنچائزز کی آمدن کم ہو سکتی تھی۔ اگرچہ پی سی بی کے پاس دسویں سیزن سے پہلے ایک ٹیم شامل کرنے کا اختیار موجود تھا، مگر ایسا کرنے سے فرنچائزز کے مالی مفادات متاثر ہو سکتے تھے۔ اب گیارہویں سیزن سے، جب میڈیا اور کمرشل معاہدے نئے سرے سے طے کیے جائیں گے، پی سی بی نے لیگ کو آٹھ ٹیموں تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جسے توسیع کے لیے موزوں وقت قرار دیا جا رہا ہے۔ ملتان سلطانز کے علاوہ باقی تمام فرنچائزز مالی طور پر منافع میں رہیں۔

پی ایس ایل کی موجودہ چھ ٹیموں کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟

پی ایس ایل کی باقی تمام فرنچائزز نے اپنے معاہدوں کی توسیع کر لی ہے۔ تاہم ملتان سلطانز واحد فرنچائز تھی جس کے مالک علی ترین نے توسیع نہیں کی، جس کے بعد پی سی بی نے ٹیم کی ملکیت سنبھال لی ہے۔ پی سی بی آئندہ سیزن میں ملتان سلطانز خود چلائے گا اور اس کے بعد فرنچائز کو نئے خریدار کو فروخت کیا جائے گا۔

طارین خاندان نے گزشتہ سات برسوں میں ملتان سلطانز کی فرنچائز فیس کی مد میں پی سی بی کو 7 ارب 70 کروڑ روپے ادا کیے۔ نئی ویلیوایشن کے بعد ملتان سلطانز کی سالانہ فرنچائز فیس 1 ارب 37 کروڑ 50 لاکھ روپے مقرر کی گئی۔ معاہدے کے مطابق، پی ایس ایل کے دس سال مکمل ہونے کے بعد تمام موجودہ فرنچائزز کی سالانہ فیس میں اضافہ لازم ہے، جو یا تو موجودہ فیس کا 25 فیصد ہوگا یا نئی مارکیٹ ویلیو کا 25 فیصد جو بھی زیادہ ہو۔

دیگر فرنچائزز کی نئی ویلیوایشن کیا ہے اس پر نظر ڈال لیتے ہیں۔

نئی ویلیوایشن کے مطابق:

لاہور قلندرز پی ایسں ایل کی 67 کروڑ روپے کے ساتھ سب سے مہنگی فرنچائز بن گئی ہے۔کراچی کنگز 63 کروڑ 87 لاکھ روپے کے ساتھ پی ایس ایل کی دوسری مہنگی فرنچائز بن گئی ہے۔پشاور زلمی 48 کروڑ 75 لاکھ روپے کے ساتھ تیسری مہنگی فرنچائز قرار پائی ہے۔اسلام آباد یونائیٹڈ کی فرنچائز کی قیمت 47 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے۔کوئٹہ گلیڈی ایٹرز 35 کروڑ 95 لاکھ روپے کے ساتھ پی ایس ایل کی کم ترین ویلیو رکھنے والی فرنچائز ہے۔42 گیندوں پر سنچری اور 16 اوورز میں میچ ختم: ’سمیر منہاس نایاب ٹیلنٹ ہے‘علی ترین اور ’ملتان سلطانز‘ کو چلانے کا خرچہ: پی ایس ایل کی فرنچائزز پیسہ کیسے کماتی ہیں؟غصے سے بھرا جشن، جوتے کی جانب اشارہ اور شکست پر انڈین کرکٹ بورڈ کی ٹویٹ: ’تم میرا نام کیوں نہیں لیتیں‘’خوف زدہ کر دینے کی حد تک‘ تیز بولر جنھیں شعیب اختر جیسی شہرت نہ مل سکیآئی پی ایل کی نیلامی میں کرکٹرز کے لیے کروڑوں روپے کی بولیاں: ’اب پی ایس ایل کو بھی کچھ نیا کرنا ہوگا‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More