Getty Imagesپولیس کی تحقیقات کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ جانے کے لیے پہلے شادی کا ایک جعلی سرٹیفکیٹ حاصل کیا جاتا تھا
کچھ لوگ ہر قیمت پر بیرون ملک منتقل ہونے کے لیے متعدد ’غیرقانونی طریقوں‘ کا استعمال کرتے ہیں اور ایک ایسی ہی کہانی انڈیا کی ریاست گجرات کے شہر بھروچ میں بھی دیکھنے کو ملی۔
بھروچ میں پولیس نے ایک ایسے ہی گروہ کے افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے جو شادی کے جعلی سرٹیفکیٹس بنا کر لوگوں کو برطانیہ بھیج رہے تھے۔
یہ مقدمہ کینیڈا میں مقیم ایک وکیل سمیت چار افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس حوالے سے برطانوی حکام کو بھی مطلع کر دیا ہے۔
ویزے کیسے حاصل کیے جاتے تھے؟
حال ہی میں بھروچ کے ایک تھانے میں ایک شکایت درج کروائی گئی تھی اور اسی کی بنیاد پر حکام نے جعلی دستاویزات کا استعمال کر کے لوگوں کو برطانیہ بھیجنے والے گروہ کا سراغ لگایا۔
پولیس کی تحقیقات کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ جانے کے لیے پہلے شادی کا ایک جعلی سرٹیفکیٹ حاصل کیا جاتا تھا اور پھر مالی معاملات پر لڑائی کو بہانا بنا کر طلاق کے جعلی دستاویزات حاصل کیے جاتے تھے۔
پولیس کے مطابق جمبسر کے ایک رہائشی رضوان اسماعیل نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ تسلیمہ اسماعیل ان کی بیوی ہیں اور اس کے بعد انھوں نے شادی کے جعلی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر تسلیمہ کے لیے برطانیہ کے ویزے کے لیے اپلائی کیا۔
بھروچ پولیس کا مزید کہنا ہے کہ ملزم رضوان نے شعیب داؤد نامی ایک ایجنٹ کی مدد لی اور تسلیمہ کو اپنی بیوی بتا کر ویزے کے لیے اپلائی کیا۔
کینیڈا کا جھانسہ دے کر مبینہ طور پر 12 نوجوانوں سے ڈیڑھ کروڑ روپے کا فراڈ: ’پیسے نہ دیے تو منگنی نہیں ہو گی، میں نے دو ایکڑ زمین بیچ دی‘آئلٹس پاس لڑکی سے شادی اور ’45 لاکھ روپے خرچ‘ لیکن کینیڈا کا ویزا پھر بھی نہ ملا’شادی کے وعدے پر مبینہ پاکستانی جاسوسہ کو میزائلوں کی معلومات دینے والا‘ انڈین انجینیئر گرفتارانڈین خاندان کا امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر آخری سفر: ’یہاں سب کی آنکھوں میں باہر جانے کے خواب ہیں‘
پولیس کا کہنا ہے کہ تسلیمہ اس طریقے کا استعمال کر کے جولائی 2024 میں برطانیہ آئی تھیں اور بعد میں مالی جھگڑے کو بنیاد بنا کر طلاق کے جعلی دستاویزات بنوائے گئے۔
پولیس کی تحقیقات کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ کینیڈا میں مقیم ساجد کوٹھیا نامی ایک وکیل بھی اس کیس میں ملوث ہیں۔
پولیس کے مطابق وکیل نے مبینہ طور پر بھروچ کی عدالت کے نام سے طلاق کے جعلی دستاویزات بنائے تھے اور پھر تسلیمہ کے ایک کزن کی مدد لے کر ان دستاویزات کو اصلی بنا کر پیش کیا گیا۔
پولیس اب تحقیقات کر رہی ہے کہ کہیں یہ گروہ بھروچ یا گجرات کے دیگر اضلاع میں دھوکا دہی کے ایسے ہی دوسرے معاملات میں تو ملوث نہیں۔ انڈیا میں برطانوی سفارتخانے کو اس حوالے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
جعلی دستاویزت کی بنیاد پر ویزے کا حصول کا معاملہ کیسے منظرِ عام پر آیا؟Getty Imagesپولیس کا کہنا ہے کہ تسلیمہ اس طریقے کا استعمال کر کے جولائی 2024 میں برطانیہ آئی تھیں
کچھ عرصہ قبل بھروچ کے ایک دیہات سٹپسن میں مقیم منہاج ادھاردر نامی شخص کا رابطہ رضوان سے ہوا تھا۔
رضوان سنہ 2023 میں برطانیہ منتقل ہوئے تھے اور منہاج کو لگا کہ وہ بھی ان کے ذریعے برطانیہ کا ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔
رضوان دسمبر 2024 میں انڈیا آئے اور انھوں نے امود کی رہائشی نفیسہ وانیا سے شادی کی، جس کے بعد انھوں نے منہاج کو کہا کہ وہ خاتون کے تمام دستاویزات ان کے دو دوستوں کے حوالے کریں تاکہ ان کی اہلیہ کے لیے برطانیہ کا ویزا حاصل کیا جا سکے۔
منہاج نے تمام دستاویزات تو جمع کروا دیے لیکن اس دوران انھیں معلوم ہوا کہ رضوان پہلے سے ہی تسلیمہ نامی خاتون سے شادی کر چکے ہیں۔
جب منہاج نے تسلیمہ کے گھر والوں سے رابطہ کیا تو فیصل نے اپنی بہن اور رضوان کی شادی کا سرٹیفکیٹ دکھایا۔
پولیس کا کیا کہنا ہے؟
اس مقدمے کے تفتیشی افسر ڈی ایس راجپوت نے بی بی سی گجراتی کو بتایا کہ: 'کچھ عرصے پہلے منہاج نے پلیج تھانے میں ایک درخواست جمع کروائی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ انھیں بیرونِ ملک بھیجنے کا جھانسہ دیا گیا اور پیسے لیے گئے۔'
تفتیشی افسر مزید کہتے ہیں کہ 'ہم نے تحقیقات کیں اور معلوم ہوا کہ رضوان اور تسلیمہ کی شادی کا سرٹیفکیٹ جعلی ہے۔ گاؤں کی پنچایت سے معلوم ہوا کہ اس طرح کی کوئی شادی رجسٹرڈ ہی نہیں کی گئی ہے۔'
ڈی ایس راجپوت مزید کہتے ہیں کہ پولیس نے شعیب نامی ایک ویزا کنسلٹینٹ سے بھی پوچھ گچھ کی اور معلوم ہوا کہ تسلیمہ کے لیے برطانوی ویزا حاصل کرنے کے لیے درست طریقہ کار استعمال کیا گیا تھا۔
برطانوی سفارتخانے کے ریکارڈ کے مطابق رضوان پہلے سے ہی تسلیمہ نامی خاتون کے شوہر تھے، اس لیے نفیسہ کو بطور دوسری بیوی ویزا نہیں جاری کیا جا سکتا۔
بھروچ پولیس کے سربراہ اکشے راج مکوانا کہتے ہیں کہ ان کی فورس نے ضلع میں ایک ایسے گروہ کا سراغ لگایا ہے جو کہ شادی کے جعلی دستاویزات بنا کر لوگوں کو بیرونِ ملک بھیج رہا تھا۔
انھوں نے تصدیق کی کہ پولیس نے رضوان، تسلیمہ، ساجد اور فیصل کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
'ساجد اس وقت کینیڈا میں ہیں جبکہ رضوان اور تسلیمہ برطانیہ میں مقیم ہیں۔ ہم نے ان کے خلاف کارروائی کے لیے انڈیا کی وزارتِ خارجہ اور برطانوی سفارتخانے کو معلومات دے دی ہیں۔'
اکشے راج مکوانا کہتے ہیں کہ قانونی کارروائی کے بعد ان افراد کو ڈی پورٹ کیا جائے گا جس کے بعد وہ انڈیا آئیں گے اور ان کے خلاف یہاں کارروائی ہوگی۔
دوسری جانب تسلیمہ کی والدہ نے بی بی سی گجراتی کو بتایا کہ 'رضوان اور تسلیمہ نے ان کی مرضی کے بغیر شادی کی تھی اور پھر تسلیمہ 2024 میں برطانیہ چلی گئیں۔'
'وہاں وہ رضوان سے علیحدہ رہتی ہیں کیونکہ وہ انھیں ہراساں کر رہا تھا۔'
تسلیمہ کی والدہ نے مزید کہا کہ 'فیصل اور منہاج کے درمیان تین لاکھ 30 ہزار روپے کی رقم کا لین دین تھا، میں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں جانتی۔'
کینیڈا کا جھانسہ دے کر مبینہ طور پر 12 نوجوانوں سے ڈیڑھ کروڑ روپے کا فراڈ: ’پیسے نہ دیے تو منگنی نہیں ہو گی، میں نے دو ایکڑ زمین بیچ دی‘آئلٹس پاس لڑکی سے شادی اور ’45 لاکھ روپے خرچ‘ لیکن کینیڈا کا ویزا پھر بھی نہ ملابرطانیہ داخلے کی کوشش میں کتنے تارکینِ وطن ہلاک ہوئے؟’شادی کے وعدے پر مبینہ پاکستانی جاسوسہ کو میزائلوں کی معلومات دینے والا‘ انڈین انجینیئر گرفتارانڈین خاندان کا امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر آخری سفر: ’یہاں سب کی آنکھوں میں باہر جانے کے خواب ہیں‘